‏ڈینئل پرل قتل کیس،ملزم عمر شیخ کو کہاں منتقل کر دیا گیا؟

‏ڈینئل پرل قتل کیس،ملزم عمر شیخ کو کہاں منتقل کر دیا گیا؟

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ‏ڈینئل پرل قتل کیس،ملزم عمر شیخ کو جیل میں قائم مخصوص کمرے میں منتقل کردیا گیا،

دیگر ساتھی فہد نسیم، شیخ عادل اور سلمان ثاقب کو بھی منتقل کیا گیا،جیل ذرائع کے مطابق چاروں ملزمان کے اہلخانہ اب باآسانی ملاقات کرسکیں گے، ‏ملزمان کو عدالتی حکم پر جلد ریسٹ ہاؤس بھی منتقل کر دیا جائے گا

چاروں ملزمان پر 2002 میں امریکی صحافی ڈینئل پرل کے قتل کا الزام ہے

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے احمد عمر شیخ اور دیگر کو ڈیتھ سیل سے فوری نکالنے کا حکم دیا تھا،سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ سرکاری ریسٹ ہائوس میں اہلخانہ صبح 8 سے شام 5 بجے تک ساتھ رہ سکیں گے,احمد عمر شیخ کو سیکیورٹی کیساتھ ریسٹ ہاوس میں رکھا جائے,موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولیات نہ دی جائیں,

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ نے عمرشیخ سمیت دیگرملزمان کو حراست میں رکھنا بدنیتی قراردیا، مرکزی ملزم عمرشیخ پاکستانی شہری ہے یا غیرملکی؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ احمد عمر شیخ کے پاس پاکستان اور برطانیہ کی شہریت ہے، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کسی کو حراست میں رکھنے کا مطلب ہے بغیر ٹرائل جیل میں رکھنا،جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ ڈینئل پرل کے قتل کی وڈیو میں بھی ملزم کا چہرہ واضح نہیں تھا،

عدالت نے کہا کہ احمد عمر شیخ کو دو روز تک جیل میں بہتر جگہ پر کھلے کمرے میں رکھا جائے ،دو روز کے بعد احمد عمر شیخ کو سرکاری ریسٹ ہاوَس میں منتقل کیا جائے ،ملزم کو کراچی فیملی کے ساتھ آرام دہ رہائش اور ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی جائے،دو دن میں تمام ضروری انتظامات مکمل کیے جائیں،

واضح رہے کہ 2 اپریل کو سندھ ہائی کورٹ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا کے بعد قتل کے مقدمے میں 4 ملزمان کی دائر کردہ اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 3 کی اپیلیں منظور کرلیں تھیں جبکہ مرکزی ملزم عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا تھا۔

امریکی صحافی ڈینئل پرل کیس، سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی استدعا کی مسترد

امریکی صحافی ڈینئل پرل کیس،فیصلہ معطل کرنے کی استدعا پر سپریم کورٹ نے کیا کہا؟

ڈینئل پرل قتل کیس،امریکہ کا اظہار تشویش، نظر ثانی درخواست دائر

عمر شیخ کی رہائی کا فیصلہ معطل نہیں ہوا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے،اٹارنی جنرل

بینچ نے اپنے فیصلے میں 3 ملزمان کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا جبکہ مجرم احمد عمر سعید شیخ المعروف شیخ عمر کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کردیا تھا۔احمد عمر سعید شیخ کیونکہ پچھلے 18 سالوں سے جیل میں تھے لہٰذا ان کی 7 سال کی سزا پورے وقت سے شمار کیے جانے کے بعد ان کی بھی رہائی متوقع تھی۔

تاہم 3 اپریل کو بڑی پیش رفت سامنے آئی تھی اور محکمہ داخلہ سندھ نے سی آئی اے کے ڈی آئی جی کی درخواست پر چاروں ملزمان کو مزید 90 روز کے لیے دوبارہ حراست میں لینے کا حکم دے دیا تھا۔یہ صحافی کے قتل کیس میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں دوسری درخواست ہے۔سندھ حکومت نے 22 اپریل کو صحافی ڈینیئل پرل قتل کیس کا سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔28 اپریل کو سندھ حکومت نے اپنی درخواست کی جلد سماعت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.