fbpx

بلقیس بانو عصمت دری کیس،ملزمان کی رہائی پر حکومت سے جواب طلب

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گجرات فسادات کے دوران سال 2002 میں اجتماعی زیادتی کا شکار بلقیس بانو کیس کے مرکزی ملزمان کی رہائی کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی

بھارتی سپریم کورٹ نے زیادتی ملزمان کی رہائی پر مرکزی حکومت اور گجرات حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے، عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتے کے لئے ملتوی کر دی ہے،عدالت میں درخواست دائر کرنے والے وکیل کپل سبل کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاتون کے خاندان کے 14 افراد کو قتل کیا گیا، اسکی اجتماعی زیادتی کی گئی، اور اب تمام مجرم جنہیں سزا ہو چکی تھی انہیں رہا کر دیا گیا، معاملے کو بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تو بھارتی چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس کیس کو سنیں گے

بھارت کے معروف بلقیس بانو زیادتی کیس کے ملزمان جنہیں عدالت نے عمر قید کی سزا سنا رکھی تھی ، مودی سرکار نے 15 اگست کو انہیں رہا کر دیا کہا جا رہا ہے مودی سرکار، بی جے پی مسلمان خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو ہمیشہ ہی رہا کروا دیتی ہے بلکہ انکی مدد بھی کرتی ہے،یہی وجہ ہے کہ مسلمان خاتون کے ساتھ زیادتی کے کیس کے تمام ملزمان کو رہا کر دیا گیا ہے

ملزمان گودھرا کی جیل میں قید تھے، ملزمان کو ممبئی کی عدالت نے 21 جنوری 2008 میں عمر قید کی سزا سنائی تھی، عدالت نے 11 ملزمان کو سزا سنائی تھی، تا ہم اب مودی سرکار نے تمام ملزمان کو رہا کر دیا ہے اور وہ جیل سے گھروں کو جا چکے ہیں، ملزمان کو بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر قیدیوں کی سزاؤں میں کمی کا کہہ کر رہا کیا گیا ہے، حالانکہ عصمت دری، زیادتی کیسز کے ملزمان کی سزاؤں میں کمی نہیں ہوتی اور انہیں رہا نہیں کیا جاتا، اسکے باجود بی جے پی سرکار نے بلقیس بانو عصمت دری کیس کے ملزمان کو رہا کر دیا ہے

گجرات فسادات میں‌ ملوث ڈیڑھ سو انتہاپسند پکڑنے والے سابق بھارتی پولیس افسر کو عمر قید کی سزا

دنیا ایک مرتبہ پھر بوسنیا، گجرات جیسی نسل کشی دیکھے گی؟ عمران خان نے خبردار کردیا

بھارتی وزیراعظم کی خواہشات کیا….امریکی اخبار نے بتا دیا

دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے