fbpx

ممکن ہے طالبان کے ساتھ کام کریں طالبان تبدیل ہوئے یا نہیں ابھی دیکھنا باقی ہے امریکا

واشنگٹن: امریکا کی اعلیٰ عسکری قیادت نے کہا ہے کہ طالبان تبدیل ہوئے یا نہیں ابھی دیکھنا باقی ہے ممکن ہے داعش کے خلاف طالبان کے ساتھ کام کریں۔

باغی ٹی وی : امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی نے وزیر دفاع جنرل آسٹن کے ہمراہ واشنگٹن میں بریفنگ کے دوران کہا کہ طالبان تبدیل ہوئے یا نہیں ابھی دیکھنا باقی ہے۔افغانستان میں پیش آنیوالےتجربےکامطالعہ اورتجزیہ کیاجائےگا۔

جنرل مارک ملی کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ داعش کے خلاف طالبان کے ساتھ کام کریں، امریکی فوج کوافغانستان سےاسٹریٹجک سبق سیکھناہوگا افغانستان میں جنگ ختم ہوگئی ہے، اب سفارتی مشن پر کام ہو رہا ہے۔

جنرل آسٹن کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ محدود سطح پر رابطہ ہے، مستقبل کی طالبان حکومت پر لائحہ عمل وقت کے ساتھ بنے گا کسی بھی فوجی آپریشن میں بہتری کی گنجائش رہتی ہے، امریکی فوج نے خطرات کا سامنا کرتے ہوئے مشن پورا کیا۔

طالبان ایرانی طرز حکومت میں دلچسپی رکھتے ہیں غیر ملکی میڈیا کا دعویٰ

انہوں نے بتایا کہ امریکااوراتحادیوں نےایک لاکھ 24ہزارشہریوں کوافغانستان سےنکالا،افغانستان سے 6ہزارامریکی شہریوں کا انخلا کیا۔

دوسری جانب افغانستان میں طالبان کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کے لیے کام جاری ہے، طالبان جلد نئی حکومت کا اعلان کریں گے افغان میڈیا کے مطابق طالبان کے امیر ملا ہبت اللہ اخوندزادہ نئی افغان حکومت کے سربراہ ہوں گے جب کہ صدر یا وزیر اعظم ان کے نیچے رہ کر کام کرے گا۔

نئی حکومت کے قیام اور کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے مشاورت مکمل کرلی گئی ہے ہم جس حکومت کا اعلان کرنے جا رہے ہیں وہ لوگوں کیلئے ایک ماڈل ہوگی، ہبت اللہ اخوندزادہ کی حکومت میں موجودگی پر کوئی شک و شبہ نہیں ہے، وہی حکومت کے سربراہ ہوں گے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں سنا جائے گا۔ افغان ٹی وی چینل طلوع نیوز کے مطابق طالبان کے ثقافتی کمیشن کے سربراہ امان اللہ سمنگانی کا کہنا ہے کہ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ اخوندزادہ آئندہ افغان حکومت کے بھی سربراہ ہوں گے۔

طالبان حکومت کا سربراہ کون ہو گا؟ نام سامنے آ گیا