fbpx

منور ظریف کو مداحوں سے بچھڑے 45 برس بیت گئے

شہنشاہ ظرافت کا خطاب پانے والے نامور مزاحیہ اداکار منور ظریف کو مداحوں سے بچھڑے 45 برس بیت گئے-

باغی ٹی وی : منور ظریف25 دسمبر1940 کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے چار بھائی تھے ان کا نمبر دوسرا تھا منور ظریف سے بڑے بھائی ظریف نے قیام پاکستان کے بعد کی فلموں میں ظریف کے نام سے اداکاری شروع کی۔

منور ظریف سے چھوٹے دو بھائی مجید ظریف اور رشید ظریف نے بھی فلموں میں کام کیا منور ظریف کے والد ایک سرکاری آفیسر تھے اپنے بھائی ظریف کی بھری جوانی میں وفات کے بعد محمد منور نے فلمی دنیا میں قدم رکھا اور منور ظریف کا فلمی نام اختیار کیا۔

فنی کیرئیر کا آغاز تو 1961میں فلم ’ڈنڈیاں‘ سے کیا تاہم پہلی سپر ہٹ فلم ’ہتھ جوڑی‘ تھی جو 1964ءکو ریلیز ہوئی اس کے بعد انہوں نے پلٹ کر نہ دیکھا اور اپنی ہر فلم میں اپنی جگتوں اور بے ساختہ فقروں سے لبریز اداکاری کی وجہ سے پنجابی فلموں کے سب سے بڑے مزاحیہ اداکار کے طور پر تسلیم کئے جانے لگے۔

منور ظریف جب بھی پردہ اسکرین پرنمودار ہوتے، فلم بین ان کی اداکاری پرلوٹ پوٹ ہوجاتے پرستاروں نے انہیں شہنشاہ ظرافت کا خطاب دیا ان کی فلمیں دیکھ کر لوگ وقتی طور پر اپنے غم بھلا کر مسکرا لیتے تھے۔

منور ظریف نے جب فلمی دنیا میں قدم رکھا تو اس وقت مزاحیہ اداکاروں میں ،نرالا،سلطان کھوسٹ، ایم اسماعیل، زلفی، خلیفہ نذیر اور دلجیت مرزا جیسے کامیڈین فلمی صنعت پر چھائے ہوئے تھے ان مزاحیہ اداکاروں کے ہوتے ہوئے منور ظریف نے منفرد مزاحیہ اداکاری سے اپنی جگہ بنائی۔

16 سالہ فلمی کیریئرمیں 300 سے زائد اردو اور پنجابی فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔منور ظریف نے اداکار رنگیلا کے ساتھ جوڑی بنائی جو برصغیر پاک و ہند کی کامیاب ترین مزاحیہ جوڑیوں میں سے ایک سمجھی جاتی تھی۔منور ظریف پر زیادہ تر مسعود رانا کے گائے گانے فلمائے گئے۔

ایک مزاحیہ اداکار ہوتے ہوئے بھی منور ظریف نے گانوں کو خوبصورت انداز میں پکچرائز کرایا۔ سڈول جسم ہونے کی وجہ سے وہ اچھا ڈانس کرلیتے تھے،خاص کر مزاحیہ سونگ کو فلماتے ہوئے اپنی منفرد اور مزاحیہ اداکاری سے ایک خوبصورت مزاح پیدا کردیتے تھے عمدہ کردار نگاری کے ساتھ ساتھ منور ظریف کا گیٹ اپ بھی منفرد ہوتا تھا۔

منور ظریف کے کیریئر کی لازوال فلم ’بنارسی ٹھگ‘ رہی جس میں وہ مختلف گیٹ اپ میں دکھائی دیئے اور اپنے ورسٹائل ہونے پر مہر ثبت کی۔ جیرا بلیڈ، رنگیلا اور منور ظریف، ‘نوکر ووہٹی دا‘، ’خوشیاں‘، ’شیدا پسٹل‘، ’چکر باز‘، ’میراناں پاٹے خاں‘، ’حکم دا غلام‘، ’نمک حرام‘، ’بندے دا پتر‘ اور ’اج دامہینوال‘ ان کی مشہور فلمیں ہیں-

انہیں عشق دیوانہ، بہارو پھول برساﺅ اور زینت میں بہترین مزاحیہ اداکاری پر نگار ایوارڈز دیئے گئے منور ظریف 29 اپریل 1976ءکو اپنے مداحوں کو سوگوار چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہو گئے وہ لاہور میں بی بی پاک کے قبرستان میں سپرد خاک ہیں –

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.