fbpx

منو بھائی ،یوم وفات 19 جنوری

منو بھائی ،یوم وفات 19 جنوری

او وی خوب دیہاڑے سن بھک لگدی سی منگ لیندے ساں

مل جاندا سی کھا لیندے ساں نہیں سی ملدا تے رو پیندے ساں

منو بھائی

19 جنوری یوم وفات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آغا نیاز مگسی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ممتاز ترقی پسند و مزدور دوست ادیب، شاعر ، صحافی اور کالم نگار منو بھائی 6 فروری 1933 کو وزیر آباد پنجاب میں محکمہ ریلوے کے ملازم محمد عظیم قریشی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا میاں غلام حیدر قریشی اردو، پنجابی اور فارسی جبکہ ان کے ماموں شریف کنجاہی پنجابی کے معروف شاعر تھے۔ منو بھائی جن کا اصل نام منیر احمد اور قریشی قبیلے سے تعلق تھا۔انہوں نے ابتدائی تعلیم وزیر آباد جبکہ گورنمنٹ کالج اٹک سے انٹر میڈییٹ تک تعلیم حاصل کی لیکن دوران تعلیم سیاسی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرنے کی وجہ سے انہیں کالج سے فارغ کر دیا گیا جس کے باعث وہ مزید تعلیم حاصل نہ کر سکے ۔ والد محمد عظیم قریشی کی سفارش پر انہیں محکمہ ریلوے میں ملازمت مل گئی مگر منیر احمد کو سرکار کی پابندی گوارا نہیں تھی اس لیے سرکار کی نوکری چھوڑ کر راولپنڈی چلے گئے جہاں انہوں نے روزنامہ ” تعمیر” سے اپنی صحافتی زندگی کے کیریئر کا آغاز کیا ۔ بعد ازاں وہ روزنامہ امروز میں چلے گئے وہاں سے پھر پی پی پی کے بانی چیئرمین اور صدر پاکستان ذوالفقار علی بھٹو انہیں روزنامہ ” مساوات” میں لے گئے۔ منیر احمد نے روزنامہ تعمیر میں ” اوٹ پٹانگ ” کے عنوان سے کالم نگاری شروع کی مگر احمد ندیم قاسمی نے انہیں ” منو بھائی ” کا نام دے دیا جس کے بعد ان کی پہچان منو بھائی کے نام سے ہو گئی اور وہ شاعری و کالم نگاری منو بھائی کے نام سے ہی کرتے رہے ۔ وہ اپنا کالم ” گریبان” کے عنوان سے لکھتے رہے ۔ روزنامہ تعمیر، امروز اور مساوات کے بعد وہ روزنامہ جنگ سے وابستہ ہو گئے ۔ منو بھائی ایک ترقی پسند اور مزدور و غریب دوست شخصیت کے مالک تھے ۔ وہ اپنی تحریروں ، ڈراموں اور شاعری میں گلی، کوچوں اور محلوں کی حقیقی زندگی کی منظر نگاری کرتے تھے۔

منو بھائی کے پی ٹی وی پر پیش کیے گئے ڈرامے بہت زیادہ مشہور و مقبول ہوئے جن میں ” سونا چاندی ” سب سے زیادہ مشہور ہوا مگر اس کے علاوہ ان کے دیگر ڈرامہ سیریلز بھی بہت پسند کیے گئے جن میں ” جھوک سیال، خوب صورت، گمشدہ ، کی جانے میں کون؟، عجائب اور دشت شامل تھے ۔ دشت میں انہوں نے بلوچستان کی صحرائی زندگی اور ثقافت کی منظر کشی کی ۔ منو بھائی کی تصانیف میں ، جنگل اداس ہے ، فلسطین فلسطین ، محبت کی ایک سو ایک نظمیں ، انسانی منظر نامہ (ترجمہ) اور ان کا پنجابی شعری مجموعہ ” اجے قیامت نئیں آئی” شامل ہیں ۔ منو بھائی طویل عرصہ علیل رہنے کے بعد 19 جنوری 2018 کو لاہور میں انتقال کر گئے۔ 2014 میں انہوں نے ایک لاکھ 45 ہزار کتب پر مشتمل اپنی ذاتی لائبریری گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کو عطیہ کر دیا تھا وہ خون عطیہ کرنے والے ادارے ” سندس فائونڈیشن” کے تاحیات چیئرمین رہے ۔ حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں 2007 میں تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نواز گیا۔

نمونہ کلام

او وی خوب دیہاڑے سن بھک لگدی سی منگ لیندے ساں
مل جاندا سی کھا لیندے ساں نہیں سی ملدا تے رو پیندے ساں
روندے روندے سوں رہندے ساں ایہہ وی خوب دیہاڑے نیں
بھک لگدی اے منگ نیں سکدے ملدا اے تے کھا نیں سکدے
نیں ملدا تے رو نیں سکدے نہ رویے تے سوں نہیں سکدے