fbpx

حلف نہ لینے کے معاملے پرعدالتی حکم پرعمل کی درخواست سماعت کے لیے مقرر

حمزہ شہباز کا حلف نہ لینے کے معاملے پرعدالتی حکم پرعمل کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے

چیف جسٹس ہائیکورٹ 26 اپریل کو حمزہ شہباز کی درخواست پر سماعت کریں گے ، قبل ازیں حمزہ شہباز نے حلف نہ لینے کے معاملے پر دوبارہ لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ،درخواست میں سیکریٹری ٹو صدر پاکستان، فیڈریشن،وزیر اعظم،پنجاب حکومت فریق بنائے گئے ہیں ،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں حمزہ شہباز نے موقف اپنایا ہے کہ آئینی دائرہ اختیار کو استعمال کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں، صدرِ مملکت اس عدالت کے حکم کو بغیر کسی وجہ کے اور تاخیر کر رہے ہیں، درخواست میں لا ہور ہائیکورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کی استدعا کی گئی اور کہا گیا کہ عدالت نے صدر کو ہدایت کی وہ منتخب وزیر اعلیٰ سے حلف لینے کے لیے فوری اقدامات کریں صدر بطور سربراہ کسی سیاسی دباؤ کے بغیر اپنے فرائض پر عمل کرنے کے پابند ہیں،صدر پاکستان کا ایک سیاسی جماعت سے تعلق ہے،عدالت سینیٹ چیئرمین کو حکم دے کہ وہ نومنتخب وزیراعلیٰ سے حلف لیں،

ن لیگی رہنما عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ گورنر پنجاب آئینی بحران پیدا کرنا چاہتے ہیں عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کرنا لازمی ہے،ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں ،گورنر آئین شکن کے طورپر یاد رکھے جائیں گے ،عمران خان اورگورنر پنجاب ضد پراڑے ہیں،یہ پنجاب کومزید بحرانی کیفیت میں دھکیلنا چاہتے ہیں،یہ چاہتےہیں آئینی بحران کوبڑھایا جائے،گورنر عمر سرفراز چیمہ نے آئین کو پامال کیا ہے، ہم چاہتے کسی بھی آئینی عہدے دار سے حلف لے سکتے تھے، صدر پاکستان کو دوبارہ ایڈوائس بھیجی گئی وزیراعظم کی جانب سے یادہانی کے باوجود کوئی عمل نہیں ہوا،عدالتی آرڈر سے انحراف درست نہیں،عدالت سے استدعا ہے چیئرمین سینیٹ کو حلف کی ہدایات دی جائیں،

واضح رہے کہ حمزہ شہباز کی حلف برداری کی تقریب دو بار ملتوی ہو چکی ہے، گورنر پنجاب نے ایک بار حلف برداری کی تقریب ملتوی کی، حمزہ شہباز نے عدالت سے رجوع کیا تو عدالت نے صدر پاکستان کو حکم دیا کہ وہ نمائندہ مقرر کریں، تا ہم صدر پاکستان کی جانب سے نمائندہ مقرر کرنے کے باوجود حلف برداری کی تقریب نہیں ہو سکی جس کے بعد آج پھر حمزہ شہباز نے عدالت سے رجوع کیا ہے

واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی میں جس روز قائد ایوان کے الیکشن ہوئے تھے اس روز ہنگامہ آرائی ہوئی تھی ، پی ٹی آئی اراکین کی جانب سے ڈپٹی سپیکر پر تشدد کیا گیا تھا ،ڈپٹی سپیکر نے پولیس بلائی تو اراکین کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر بھی تشدد کیا گیا تھا، اس دوران خواتین اراکین اسمبلی بھی پیچھے نہ رہیں اور انہوں نے پولیس اہلکاروں کے بال کھینچے، گردن سے پکڑا، راجہ یاسر بھی ایک ویڈیو میں نمایاں ہیں جو پولیس والوں کو دھکے دے رہے ہیں

وفاقی حکومت نے تیسری مرتبہ توشہ خانہ تحائف کیس میں مہلت مانگ لی

پیسہ حقداروں تک پہنچنا چاہئے، حکومت نے یہ کام نہ کیا تو توہین عدالت لگے گی، سپریم کورٹ

مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا، از خود نوٹس کیس، چیف جسٹس برہم، ظفر مرزا کی کارکردگی پر پھر اٹھایا سوال

ماسک سمگلنگ کے الزامات، ڈاکٹر ظفر مرزا خود میدان میں آ گئے ،بڑا اعلان کر دیا

آزادی اظہار کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،مریم اورنگزیب

عمران خان نے خطرناک کھیل کھیلا، کسی بھی رحم یا رعایت کا مستحق نہیں،مریم نواز

قانون کے برخلاف حلف برداری کو رکوایا گیا،عطا تارڑ