fbpx

مراد علی شاہ کاگاؤں سیلاب میں ڈوب گیا، سیہون بچانے کیلئے منچھر جھیل میں شگاف ڈال دیا گیا

سہون شریف :منچھر جھيل ميں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوگئی ہے، جس کے بعد حفاظتی بند کسی بھی وقت ٹوٹنے کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔ وزيراعلیٰ سندھ کا آبائی گاؤں بجارا بھی پانی میں ڈوب گیا، جب کہ سیہون بھی خطرے میں پڑ گیا ہے،جہاں شہر کو بچانے کیلئے منچھر جھیل میں کٹ دے دیا گیا ہے۔ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ اس کٹ سے 5 یوسیز بری طرح متاثر ہوں گی۔

انتظامیہ نےعلاقہ خالی کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ سیہون میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا آبائی گاؤں میں پانی میں ڈوب گیا ہے۔ جس کے بعد سیہون کو سیلاب سے بچانے کے لئے منچھر جھیل میں کٹ لگا دیا گیا۔ آرڈی چودہ کے مقام پر کٹ لگایا گیا ہے۔

ذرائع محکمہ آبپاشی کا کہنا ہے کہ دادو اور دیگر شہروں کو بھی نقصان سے بچا لیا ہے۔ تین یونین کؤنسلر کے درجنوں دیہات رات گئے خالی کرالیے گیے تھے۔

سیلاب متاثرین کا کہنا ہے کہ گاؤں بجارا میں اب تک امداد نہیں پہنچی۔ زمینی حقائق کی بات کی جائے تو متاثرين کے پاس نہ راشن ہے اور نہ رہنے کے ليے ٹينٹ ہیں۔ علاقے میں چاروں طرف پانی، مگر بجارا واسی گھر چھوڑنے کو تیار نہیں۔ کشتی کی مدد سے سما کی ٹیم جب بجارا گاؤں پہنچی تو ہر طرف تباہی تھی۔ گھر برباد تو مویشی ہلاک تھے۔ جس گاؤں کو سیلابی پانی نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے وہاں امداد کا ایک دانہ تک نہیں پہنچایا جاسکا۔ مقامی رہائشی شاہنواز کی سات سال کی بیٹی سیلاب کی نذر ہوگئی۔

 

 

ڈپٹی کمشنر کا کہناتھا کہ منچھر جھیل کی صورت حال انتہائی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے،آر ڈی 54 سے آر ڈی 58 تک منچھر جھیل کے بندپر دباؤ ہے،عوام سے انخلا اور حفاظتی اقدامات کی اپیل ہے۔ ڈپٹی کمشنر جامشورو فریدالدین مصطفی نے کہاکہ یونین کونسل واہڑ، یونین کونسل بوبک، یونین کونسل جعفرآباد، یونین کونسل چنا، یونین کونسل آراضی کی عوام کوعلاقہ خالی کرنے کی اپیل ہے،ان کا کہناتھا کہ منچھر جھیل کا بند کسی بھی وقت ٹوٹنے کا خدشہ ہے، اس لئے عوام سے انخلا کی اپیل ہے۔

جامشورو میں یوسی چنا، یوسی بوبک، یوسی واہڑ اور یوسی جعفرآباد 60 فیصد خالی کرالیے گئے ہیں، جب کہ 40 فیصد آبادی نقل مکانی میں مصروف ہے۔

دادو
دریائے سندھ میں سیلاب سے متاثرہ افراد نے سڑک کنارے ڈیرے ڈال لیے۔ دادو کا یوسف نائچ گوٹھ مکمل طور پر ڈوبا ہوا ہے, جہاں کے مکین نقل مکانی کرکے اپنے مویشیوں کے ساتھ سڑک کنارے موجود ہیں۔

مٹیاری
مٹیاری کےعلاقے سعیدآباد بھٹ شاہ میں قومی شاہراہ پرکیمپسں تو لگادیئے گئے لیکن سیلاب متاثرین کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہیں۔ ٹریفک کے باعث خواتین اور بچے خوفزدہ ہیں۔ سیلاب سے متاثر ہزاروں کی تعداد میں افراد قومی شاہراہ پر قائم کیمپسں میں موجود ہیں۔ جس میں بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔

سکھر میں بیماریاں
سکھرمیں بارش کی تباہ کاریوں کے بعد تمام علاقوں میں گیسٹرو ، ملیریا، ڈائریا سمیت مختلف بیماریاں پھوٹ پڑی ہیں۔ سکھر میونسپل کارپوریشن کی جانب سے شہر میں میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا ہے، جہاں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ڈاکٹر انعم شیخ کے مطابق ان کیمپس میں سیلاب زدگان کا علاج مفت کیا جارہا ہے، گیسٹرو، ڈائریا، ملیریا اور جلد کی بیماریوں سے متاثرین کو نقصان پہنچا ہے۔

ٹنڈو الہٰ یار
ٹنڈوالہ یار کے دیہی علاقے ميں سیلاب سے متاثرہ گھروں میں ویرانی چھائی ہوئی ہے۔ متاثرین سامان اٹھائے خشکی کی تلاش میں ہیں۔ سیلاب زدگان کا کہنا ہے کہ کھانا پانی کچھ بھی نہیں ملا۔ بلکہ لوگ بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

فلڈ وارننگ سینٹرکے مطابق سکھر بیراج پر بھی پانی کی سطح گرنا شروع ہوگئی ہے۔ اور یہاں پانی کا بہاؤ 5 لاکھ 45 ہزار کیوسک پر آ گیا، اور آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید کمی کا امکان ہے۔ دوسری جانب فلڈ وارننگ سینٹر نے بتایا ہے کہ کوٹری بیراج پر 12 سال بعد 5 لاکھ 86 ہزارکیوسک کا بڑاریلا پہنچ گیا ہے، اور پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات