مردہ پرست قوم تحریر: حمزہ طاہر

0
61

ہم مردہ پرست لوگ ہیں۔ کسی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس کی موت کا انتظار کرتے ہیں۔
وقت بدلا سال بدلے حالات بدلے لیکن اس قوم کی ناقدری کی عادت نہیں بدلی۔
شاید یہ اس قوم یا پھر بنی نوع انسان کی فطرت ہے کہ وہ وقت پر کسی کی قدر نہیں کرتا۔ ناقدری ہماری فطرت میں حلول کر گئی ہے۔ اسی لئے ہم ہر روز کسی نہ کسی نئے سانحہ سے دو چار ہو رہے ہیں اور رحمت نما انسان ہم سے رخصت ہو رہے ہیں۔
ہماری بہت سی بدنصیبیوں اور کج فہمیوں کے ساتھ ہمیں ناقدری کی فطرت بھی ورثہ میں ملی ہے کہ ہم اپنے ادیبوں، شاعروں، فلاسفروں، دانشوروں اور عظیم شخصیات کی وقت پر قدر نہیں کی اور ان کو وہ مقام نہیں دیا جس کے وہ حقدار تھے۔
ہمیشہ خدا کی عطا کردہ ان نعمتوں کے چھن جانے کے بعد یاد آیا کہ ہم سے ایک عظیم ہستی بچھڑ گئی اور ہم نے وقت پر اس کی قدر نہ کی۔ یہ ہماری قوم کا بدترین المیہ ہے کہ زندہ لوگوں کو مارتے رُلاتے اور تڑپاتے ہیں اور مرنے والوں کیلئے روتے تڑپتے اور پچھتاتے ہیں۔
مردہ پرست قوم ایسی ہی ہوتی ہیں زندہ محسنوں کی بے قدری کرتی ہے اور مرنے کے بعد ان کی قبروں پر خوبصورت مزارات تعمیر کر کے، ان پر رنگ برنگی چادریں چڑھاتی ہے اور ان کے قیصدے پڑتی ہیں ،کارنامے بیان کرتی ہے۔
یہی ہمارا المیہ ہے زندوں کی بے قدری اور مردوں کی عزت و توقیر!!!!
ہماری تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے یہی ہمارا کام ہے اور یہی ہم اپنے عظیم محسن قوم ، محسن پاکستان کے ساتھ کیا ہے۔
محسن قوم ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب ہم شرمندہ ہیں! ہم نے اپ کی قدر نہ کر سکے۔
آپ کی خدمات اور احسانات کا بدلہ ہم کیا چکا سکیں گے کہ ہمارے جیتے جی ملک کے اس عظیم سپُوت کی ایسی ناقدری ہوئی کہ شرافت کا یہ پیکر، کردار کا یہ غازی اور عظم کی مثال یہ عظیم ترین انسان اپنی آدھی سے زیادہ زندگی پریشانیوں اور بیماریوں کی نذر رہا۔
مجھے آنسوءوں میں ڈوبی وہ منحوس شام کبھی نہیں بھولتی جب ڈاکٹر صاحب سے ’ پاکستان سے محبت کا اقبالِ جرم ‘ کرایا جارہا تھا اور وہ اپنا کلیجہ چبا چبا کر ناکردہ گناہ تسلیم کرتے ہوئے اپنا گلہ پھانسی کے پھندے میں ڈال رہے تھے ۔ دھتکار ہے ان لوگوں پہ جو اس گھنائونی سازش میں شریک تھے ۔ تُف ہے ایسے منافقوں پر جنھوں نے آپ کو اس پہ آمادہ کیا اور جو بعد میں کفِ افسوس بھی مل رہے تھے اور ساتھ ہی یہ اقرار بھی کہ ” آج ڈاکٹر قدیر نے دوسری دفعہ پاکستان کو بچایا ہے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان
غیر اعلانیہ حراست میں ہی رب کے حضور حاضر ہوگے
اے محسن پاکستان اے محسن اسلام میں ایک پاکستانی ہونیکی حثیت سے شرمندہ ہوں۔ آپکی ذات تو سر آنکھوں پہ بٹھانے کے قابل تھی۔
دنیا تو محسنوں کے لئے زندگیاں وقف کر دیتی ایک ہم ہیں کہ اس عظیم انسان کی زندگی ہی دکھ و درد کا شاخسانہ بنا دی
ہم بطور قوم کس منہ سے اظہار افسوس کر رہے ہیں کیونکہ اس انسان کی ازیت زدہ زندگی میں ہم سب بھی برابر کے شریک ہیں۔
آج میں بطور پاکستانی انتہائی شرمندہ ہوں یہ لکھتے ہوئے کہ
یہ قوم آپ جیسے عظیم انسان کے قابل نہیں تھی!
گزر تو خیر گئی ہے تیری حیات بھی قدیر
ستم ظریف مگر کُوفیوں میں گزری ہے (ڈاکٹر عبدالقدیر خان)

Acemaker007
Twitter Handle: @

Leave a reply