fbpx

مری میں 90 فیصد سڑکوں کو کھول دیا گیا ہے ،چیئرمین این ڈی ایم اے

اسلام آباد: چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز نے کہا ہے کہ مری میں 90 فیصد سڑکوں کو کھول دیا گیا ہے اور سڑک کنارے صرف خالی گاڑیاں کھڑی ہیں-

باغی ٹی وی : چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمینٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز نے کہا ہے کہ تمام سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ آرمی ریلیف کیمپوں میں 371 افراد کو منتقل کیا گیا ہے پاک فوج اور سول اداروں سمیت سب نے مل کر ریسکیو کا کام کیا۔ سیاحوں کی منتقلی میں مقامی افراد نے بھی مدد کی اور رات سے قبل ہی محفوظ مقامات پر منتقلی مکمل ہوئی۔

چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ مری میں 90 فیصد سڑکوں کو کھول دیا گیا ہے اور سڑک کنارے صرف خالی گاڑیاں کھڑی ہیں کلڈانہ باڑیاں روڈ کھولنے کا کام جاری ہے اور کلڈانہ باڑیاں روڈ پر اس وقت 77 گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔

اس سے قبل ترجمان پاک فوج کی طرف سے تازہ اپ ڈیٹس میں بتایا گیا تھا کہ بچوں سمیت 300 سے زائد برف سے متاثرہ افراد کو آرمی ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس کی ٹیم نے طبی امداد فراہم کی ہے اس کے ساتھ ساتھ جھیکاگلی، کشمیری بازار، لوئر ٹوپا اور کلڈانہ میں پھنسے ہوئے 1000 سے زیادہ لوگوں کو پکا ہوا کھانا پیش کیا گیا۔

ہم حاضر،ہم قربان،ہے اللہ ہمارا نگہبان:پاک فوج مصروف خدمت:پاک فضائیہ کا ہیلی کاپٹرریسکیو آپریشن شروع

پھنسے ہوئے لوگوں کو ملٹری کالج مری، سپلائی ڈپو، اے پی ایس اور آرمی لاجسٹک سکول کلڈانہ میں گرم کھانے اور چائے کے ساتھ رہائش اور پناہ دی گئی ہےجھیکا گلی ٹریفک جھیکا گلی سے ایکسپریس وے تک چل رہی ہے جھیکا گلی سے کلڈانہ تک ٹی آر کو صاف کر دیا گیا ہے تاہم پھسلن کی وجہ سے ٹریفک نہیں چل رہی ہے گھڑیال سے بھوربن تک ٹریک کھلا ہے۔ ٹریفک چل رہی ہےاور ایسے ہی کلڈانہ سے باریان آرمی انجینئرز کے دستے سڑک کی منظوری کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں-

مری میں پیش آنے والے سانحہ کے بعد مری ڈویژن کے کمانڈنگ آفیسر میجر جنرل واجد عزیز نے کہا تھا کہ جب آخری سیاح کو محفوظ مقام پر نہیں پہنچاتے ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری رہے گا۔

مری سانحہ کی ذمہ داروہاں کی انتظامیہ ہے:مونس الٰہی

دوسری جانب پاک فوج کی طرف سے بلوچستان میں ریسکیواورریلیف کی خدمات کی تازہ ترین تفصیلات فراہم کی گئی جن کے مطابق زیارت کراس سےخانوزئی سیکشن تک برف ہٹائی گئی، لیویز فورس اور پی ڈی ایم اے کے ریسکیو آپریشن کے بعد چوتھے سے زیارت تک سڑکیں کھول دی گئیں، سڑکیں ہیوی اور ہلکی ٹریفک کے لیے کھول دی گئیں۔

مری سانحہ،مذہبی جماعتیں ریسکیو ،رفاہی کام میں متحرک، ووٹ لینے والی جماعتیں غائب

گوادرکے علاقے میں پانی نکالنے کی کوششوں کی وجہ سے زیادہ تر علاقے صاف ہو گئے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ آرمی میڈیکل کیمپس لگائے گئے اور 650 سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا۔ جبکہ ضلع کیچ میں Dewatering Sit کے بعد، زیادہ تر علاقے صاف ہو گئے اور ایسے ہی کوئٹہ میں‌ مہترزئی اور کھوجک کی چوٹی سے برف صاف کرنے کے لیے بھاری مشینری کام کر رہی ہے۔

مری، اموات میں اضافہ، جاں بحق افراد کی فہرست جاری

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل واجد عزیز نے کہاتھا کہ آرمی ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن رات سے ہی شروع ہو گیا تھا، ملٹری پولیس کے اہلکار سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر ٹریفک کو دیکھ رہے تھے، رات کو آرمی چیف نے کہا کہ ہدایات کا انتظار کئے بغیر مکمل تعاون کریں۔

مری، اموات 22 ہو گئیں،پاک فوج کے دستے بھی پہنچ گئے

ان کا کہنا تھا کہ کوشش یہ ہو کہ تمام لوگوں کو امداد پہنچائی جائے، کسی سیاج کو بھی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، رات کے وقت پاک فوج کے دو کیمپ قائم کر دیئے گئے تھے، کیمپ کلڈنا میں آرمی سکول آف لاجسٹک میں قائم کیا گیا، دوسرا کیمپ سنی بینک میں قائم کیا گیا، آرمی سکول آف لاجسٹک میں 60 خاندانوں کو رکھا گیا سنی بینک میں قائم کیمپ میں 50 خاندانوں کو رکھا گیا، ایف ڈبلیو او راولپنڈی کی مشینری نے ایکسپریس ہائی کو صاف کیا، شام تین بجے تک ایکسپریس وے کھل چکی تھی، جب آخری سیاح کو محفوظ مقام پر نہیں پہنچاتے ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری رہے گا۔

اطلاعات ہیں کہ پاک فوج کے تمام شعبے اس وقت مری ،بلوچستان اور ملک کے دیگرآفت زدہ علاقوں میں مصروف خدمت ہیں-

معیشت مضبوط اورملازمتوں کےمواقع پیداہورہے ہیں،وزیراعظم