fbpx

مری میں سیاحوں کا داخلہ غیر معینہ مدت کے لئے بند

مری میں سیاحوں کا داخلہ غیرمعینہ مدت کیلئے بند کر دیا گیا۔

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق تین روز بعد بھی مری میں معمولاتِ زندگی مکمل بحال نہ ہو سکے جب کہ شہر میں ایک بار پھر برف باری ہوئی ہے حکومت پنجاب کہا کہنا ہے کہ تمام سیاح مری اورگردونواح میں سفرنہ کریں اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔

بلاول بھٹو اور شہباز شریف کا سانحہ مری پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ

مری میں امدادی کارروائیاں اور ریسکیو آپریشن جاری ہے برفباری سے متاثرہ تمام مرکزی شاہراہیں کھول دی گئیں جب کہ سیاحوں کی بڑی تعداد واپس روانہ ہو گئی ہے۔

دوسری جانب وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ حکومت نے مری اور گلیات جانے کیلئے عائد پابندی میں 24 گھنٹے کی توسیع کردی ہے انہوں نے کہا کہ مری اور ملحقہ علاقے کے رہائشیوں کا اس پابندی پر اطلاق نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ مری اور گلیات کی صورت حال کا مسلسل جائزہ لیا جارہا ہے مری اور گلیات جانے کیلئے پابندی کھولنے کا فیصلہ صورتحال کا جائزہ لے کرکیا جائے گا۔

مری میں اموات زیادہ ہوئیں جوقوم سے چھپائی جارہی ہیں،حمزہ شہباز

جبکہ اپوزیشن نے سانحہ مری کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے کہا ہے کہ مری میں پھنسے ہوئے لوگوں کا کوئی پوچھنے والا نہیں تھا لوگ مرتے رہے مگر 20 گھنٹوں تک کسی نے نہیں پوچھا جب کہ ایک نیروسانحے کے وقت اسلام آباد میں سویا ہوا تھا اور دوسرا نیرو پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی آڑ میں دھاندلی کرنے میں مصروف تھا سانحہ انتظامی ناکامی ، مجرمانہ غفلت اور قتلِ عام ہے وزیراعظم نے کہا انتظامیہ تیار نہیں تھی تو آپ کس مرض کی دوا ہیں استعفیٰ دیں اور گھر جائیں۔

سانحہ مری کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم،7 روز میں تحقیقات مکمل کرکے اپنی رپورٹ پیش…

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان اور عثمان بزدار عوام کے حقیقی نمائندے نہیں ، یہ سیاست سے پہلے انسانیت سیکھیں جب بھی کوئی حادثہ ہوتا ہے توموجودہ حکومت متاثرہ لوگوں کو موردالزام ٹھہرا دیتی ہے مری واقعہ کا جو بھی ذمہ دار ہے اس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے نئے پاکستان میں صرف عوام کا خون سستا ہوا ہے باقی ہرچیزمہنگی ہوئی ہے-

پوپ فرانسس کا سانحہ مری پر اظہار افسوس

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!