fbpx

مشرف کا سب سے بڑا جرم کونسا؟ وزیراعظم عمران خان بھی بول پڑے

مشرف کا سب سے بڑا جرم کونسا؟ وزیراعظم عمران خان بھی بول پڑے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 25سال پہلے پارٹی کا آغاز کیاتو اس کا نام انصاف کی تحریک رکھا

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سیاست میں اس لیے آیا کہ ملک کے لیے کچھ کرسکوں خواہش تھی کہ تعلیم ،صحت اور انصاف کا نظام مضبوط ہو،خوش قسمت تھا دنیا کی ہر نعمت میسرتھی،سیاست میں آنے کی ضرورت نہیں تھی بھارت میں اتنی غربت تھی جوکسی اورملک میں نہیں تھی،آج بھارت ،بنگلہ دیش اوردیگر غریب ممالک آگے نکل گئے،وہ قومیں آگے بڑھتی ہیں جہاں قانون کی بالادستی ہو،سیرت النبی ﷺ پر عمل سے ہمارے آدھے مسائل حل ہوجائیں گے ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا میری بیٹی بھی چوری کریں تو ہاتھ کاٹ دیا جائے،پرویزمشرف نے این آر او دیکر سب سے بڑا جرم کیا،ہم نے وکلا کی تحریک میں حصہ لیا جو ایک تاریخی جدوجہد تھی،وکلا کی تحریک کے جونتائج آنے چاہیے تھے وہ بدقسمتی سے نہیں آئے، اب تو سارے اکٹھے ہوکر کہتے ہیں ہمیں این آراو دیں،ملک میں خوشحالی اس وقت آئے گی جب قانون کی بالادستی ہوگی،

وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانی قیمتی اثاثہ ہیں،یہ جب پلاٹ لیتے ہیں تو قبضہ گروپ قبضہ کرلیتے ہیں،چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے بہترین فیصلے دیئے گرین ایریاز میں ہمیں چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی ضرورت ہوتی ہے،طاقت ور کبھی انصاف نہیں مانگتا ،کمزور ہی طاقت ور سے انصاف کی جنگ لڑتا ہے، ڈسٹرکٹ کورٹس کا قیام پہلے ہی ہونا چاہیے تھا

پی ٹی وی میں اچھے لوگوں کو پیچھے اور کچرے کو آگے کر دیا جاتا ہے، ایسا کیوں؟ قائمہ کمیٹی

بسکٹ آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے اس کے اشتہار میں ڈانس کیوں؟ اراکین پارلیمنٹ نے کیا سوال

میرے پاس کوئی اختیار نہیں، قائمہ کمیٹی اجلاس میں چیئرمین پیمرا نے کیا بے بسی کا اظہار

میڈیا کو حکومت نے اشتہارات کی کتنی ادائیگیاں کر دیں اور بقایا جات کتنے ہیں؟ قائمہ کمیٹی میں رپورٹ پیش

نعیم بخاری و دیگر ڈائریکٹرز کی تعیناتی کے خلاف درخواست،وفاقی حکومت نے مہلت مانگ لی

اسلام آباد ہائیکورٹ میں سیکورٹی سخت،رینجرزتعینات،حملہ وکلاء کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

باقی یہ رہ گیا تھا کہ وکلا آئیں اور مجھے قتل کر دیں میں اسکے لیے تیار تھا،چیف جسٹس اطہر من اللہ

بے لگام وکلا نے مجھے زبردستی "کہاں” لے جانے کی کوشش کی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ حملہ کیس، وکلاء مشکل میں پھنس گئے

ہم سب ٹرائل پرہیں، اللہ بھی ہمیں دیکھ رہا ہوں،چیف جسٹس اطہرمن اللہ

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے کہا ہے کہ ہم نے مشکل سے آزادی حاصل کی،سستا اور فوری انصاف ہرشہری کا بنیادی حق ہے،ڈسٹرکٹ کورٹس کا قیام انتہائی اہم تھا، جب سچی گواہی ناپید ہوجائے توانصاف کی فراہمی میں مشکل پیش آتی ہے قانون کی بالادستی ہوگی تو کمزور طبقوں کو انصاف فراہم ہوسکے گا سٹرکٹ کورٹس کے بغیر ججز اوروکلا کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا،کسی بھی شہری کوسستے اور فوری انصاف سے محروم نہیں ہونے دیں گے یقیناً آپ اس بات کے مستحق ہیں کہ جو کام گذشتہ چھ دہائیوں سے نہ ہوسکا آج وہ آپ کے ہاتھوں سرانجام پارہا ہے۔جناب وزیراعظم صاحب 2007 کی وکلاء تحریک میں آپ کا کردار نہایت اہم اور کلیدی تھا۔

قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے ج اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹس کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا ،ڈسٹرکٹ کورٹس کی عمارت 93 کورٹس پر مشتمل ہوگی۔ اسلام آباد میں سائلین کو انصاف کی فراہمی کے لیے مارکیٹ ایریا کو عدالت بنایا ہوا ہے جہاں نہ تو جج صاحبان کے لیے کوئی سہولت ہے اور نہ ہی سائلین انصاف کے لیے۔ موجودہ سیٹ اپ میں سیکورٹی کے خدشات ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر سی ڈی اے نے ڈسٹرکٹ کورٹس کی تعمیر کی ذمہ داری لی۔گذشتہ پی سی ون6.5 ارب روپے پر مبنی تھا۔ اب نہ صرف ڈیزائن کو بہتر کیا گیا ہے بلکہ تعمیراتی لاگت میں تقریبا ڈیڑھ ارب کمی لائی گئی ہے۔اس منصوبے کو جدید ٹیکنالوجی برؤے کار لاتے ہوئے چھ ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔چار دہائیوں کے بعد موجود حکومت کی جانب سے ایک بنیادی ضرورت کو پورا کیا جا رہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ سائلین اور وکلا کی سہولت کے لیے بھی علیحدہ انتظام کیا جا رہا ہے۔

ستر سال سے کچھ نہیں ہوا،موجودہ حکومت نے بہت کچھ کیا،چیف جسٹس اطہرمن اللہ