دوہرے معیارکب تک چلیں گے مسلمانوں کو خود ایسے پلیٹ فارمز بنانے کی ضرورت ہے علامہ ہشام الہی ظہیر

دوہرے معیار اور سٹینڈرڈ کب تک چلیں گے مسلمانوں کو خود ایسے پلیٹ فارمز بنانے کی ضرورت ہے جہاں پر مسلمانوں اورانسانی حقوق کے لئے آزادی سے آواز بلند کی جا سکے،علامہ ہشام الہی ظہیر

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق علامہ ہشام الہی ظہیر نے مودی سرکار کی جانب سے باغی ٹی وی کے ٹویٹر اکاونٹس بند کرنے کی درخواست کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہےبنیادی طور پر بات یہ ہے کہ جتنے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ہیں ان کا بنیادی نعرہ یہ ہے کہ آزادی رائے کا حق ہو نا چاہیئے –

علامہ ہشام الہی ظہیر نے کہا کہ آزدی اظہار کا یہ دعویٰ اور نعرہ بلند کرتے ہیں حتی کہ جب تک مسلمان یہ بات کہتے ہیں رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاکے اور ان کے توہین آمیز کلمات نہیں ہونے چاہیئں تو ان کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ آزادی رائے ہے اور جب حق خود ارادیت کے لئے کشمیریوں کے لئے آواز اٹھائی جاتی ہے تو اب مودی حکومت باغی ٹی وی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو معطل کرنے کی درخواست کر رہی ہے-

علامہ ہشام الہی ظہیر نے کہا کہ اب کہاں گئے آزادی اظہار کے نعرے گویا انڈیا کے پاس کمانڈ اور کنٹرول سسٹم کا کچھ حصہ بھی موجود نہیں ہے لیکن جو بھی کشمیر کے اوپر بات کرے گا حالانکہ بات 100 فیصد درست اور جائز ہو تو کیا ان کے اکاؤنٹس بند کر دیئے جائیں گے کسانوں کے احتجاج کے حوالے سے پوسٹ پر اکاونٹ بند ہو ں گے کشمیریوں کے حوالے سے پوسٹس پر اکاؤنٹ بند ہوں گے-

انہوں نے کہا کہ یہ بڑے دکھ اور افسوس کی بات ہے اگر ایسا سلسلہ جای رہا توسوشل میڈیا کے اوپر سے لوگوں کا اعتبار ختم ہو جائے گا یعنی مسلمان کوئی بات کرے تو اس کے اوپر پابندیاں ہیں اور غیر مسلم رسول پاک کی شان میں گستاخی کریں تو اس کو آزادی رائے کہا جاتا ہے یہ دوہرے معیار اور سٹینڈرڈ کب تک چلیں گے تو مسلمانوں کو خود ایسے پلیٹ فارمز بنانے کی ضرورت ہے-

واضح رہے کہ بھارت میں کسانوں کے مسلسل احتجاج اور انکے مطالبات کو نہ ماننے والی مودی سرکار نے پاکستانی میڈیا کے ٹویٹر اکاؤنٹس کو وارننگ دلوانا شروع کر دی-

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر کی جانب سے باغی ٹی وی کو وارننگ موصول ہوئی ہے جس میں کہا گیا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے درخواست کی گئی ہے کہ باغی ٹی وی ہمارے قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہے، مودی سرکار کی جانب سے ٹویٹر پر دباؤ کے بعد باغی ٹی وی کے اکاونٹ کو ای میل بھیج کر وارننگ دی گئی ہے

مودی سرکار بھارت میں ایک طرف کسانوں کو کچلنے، اقلیتوں پر مظالم روا رکھے ہوئے ہے تو دوسری جانب انکے حق میں اٹھنے والی آواز کو بھی دبانے کی کوششوں میں مگن ہے، کسان تحریک کے دوران کئی کسان رہنماؤں کے ٹویٹر اکاؤنٹس معطل کروائے گئے ہیں اب مودی سرکار نے پاکستان کے اکاونٹس پر نظر رکھ لی ہے-

پروپیگنڈے کرنیوالی مودی سرکار باغی ٹی وی کا "سچ” برداشت نہ کر سکی،باغی ٹی وی کا ٹویٹر اکاؤنٹ بند کروانے کی درخواست کر دی

آزادی اظہار کی دعویدار ٹویٹر انتظامیہ کو مودی کے ظلم کی حمایت کرنے پر شرم آنی چاہیے ، سید فیاض الحسن رہنما پی ٹی آئی

بھارتی اقدام قابل مذمت، باغی ٹی وی کو دباؤ میں نہیں آنا چاہیئے،خرم نواز گنڈا پور

ٹوئٹر انتظامیہ کی بھارت نوازی شرمنا ک ہے ، حکومت کو آواز اٹھانا چاہیے، چوہدری ذولفقار علی بھنڈر

سوشل میڈیا اکاؤنٹس معطل کروانا آزادی صحافت پر حملہ ہے،لیاقت بلوچ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.