مقبوضہ جموں و کشمیر کے 80 لاکھ معصوم شہری کروناکے باعث دوہرے لاک ڈاؤن کی صعوبت برداشت کر رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی

پاکستان کے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا اقتصادی تعاون تنظیم(ECO) کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حادی سلیمان پور سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں راہنماوں نے اقتصادی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ اور تنظیم کے طے شدہ، اہداف کے حصول میں درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا.وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، اقتصادی تعاون تنظیم کے بانی رکن ملک ہونے کی حیثیت سے ہمیشہ کوشاں رہا کہ یہ تنظیم ، خطے میں اقتصادی تعاون کا مضبوط اور مستحکم مرکز بن کر سامنے آئے۔ وزیر خارجہ نے سیکرٹری جنرل اقتصادی تعاون تنظیم کو باور کرایا کہ پاکستان اقتصادی تعاون تنظیم کے وژن 2025 کی روشنی میں ممبر ممالک کے مابین علاقائی،تجارتی و اقتصادی روابط کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے پر عزم ہے۔ وزیر خارجہ نے سیکرٹری جنرل ای سی او کو، کرونا وبا کے معاشی مضمرات سے نمٹنے اور ترقی پذیر ممالک کی کمزور معیشتوں کو سہارا دینے کیلئے، وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے عالمی سطح پر دی گئی، "ڈیٹ ریلیف” تجویز کے خدوخال سے آگاہ کیا اور اس ضمن میں مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر خارجہ نے کرونا عالمی وبائی چیلنج سے نمٹنے اور علاقائی سطح پر مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کیلئے ای سی او وزرائے صحت ورچول کانفرنس کے جلد انعقاد کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر خارجہ نے سیکرٹری جنرل اقتصادی تعاون تنظیم کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے 80 لاکھ معصوم شہری کرونا وبا کے باعث دوہرے لاک ڈاؤن کی صعوبت برداشت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مظلوم کشمیریوں کو بھارتی جبر و استبداد سے نجات دلانے کیلئے، عالمی برادری کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ دونوں رہنماؤں کا مشترکہ اہداف کے حصول کیلئے باہمی مشاورت جاری رکھنے پربھی اتفاق

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.