fbpx

مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کی ایپ،خاتون سمیت دو ملزمان گرفتار

مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کی ایپ،خاتون سمیت دو ملزمان گرفتار
بھارت میں مسلمان خواتین کو آن لائن فروخت کے لئے پیش کرنے کے حوالہ سے پولیس اب حرکت میں آئی ہے

ممبئی پولیس کا کہنا ہے کہ آن لائن نیلامی میں مسلم خواتین کو نشانہ بنانے والی ایپ بلی بائی کے اکاؤنٹ چلانے والے ملزم کو گرفتار کیا ہے ،پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ایک خاتون ہے ور بنگلورو سے گرفتار کیا گیا ہے پولیس کے مطابق ایک ملزم کو اترا کھنڈ سے گرفتار کیا گیا تھا جس کی عمر 21 برس ہے اور وہ سول انجینئر ہے، اس سے جب تحقیقات کی گئیں تو اس نے انکشاف کیا تھا کہ ایک خاتون ملزم بھی اس سارے معاملے میں اس کے ساتھ ہے،

بنگلورو سے گرفتار کئے گئے ملزم کی شناخت وشال کمار کے طور پر ہوئی، ممبئی پولیس سائبر سیل کے ڈی سی رشمی کرندیکر نے تحقیقات کے بعد ملزم کو گرفتار کیا تھا، پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم ایپ کے تین اکاونٹس کو ہینڈل کر رہا تھا

خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے ممبئی پولیس کے حکام کا کہنا تھا کہ وشال کمار نے ایک سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنایا بعد میں ملتے جلتے ناموں سے تین اور اکاؤنٹ بنایا، سکھ ناموں کے اکاؤنٹ بنائے گئے تھے اور خالصہ تحریک کی بھی ان اکاونٹ سے حمایت کی جا رہی تھی ، ان اکاؤنٹ کو بنانے کا مقصد یہ تھا کہ ایسا لگے کہ اس ایپ کے پیچھے سکھ ہیں ،تا ہم ایسا نہیں ہے، پولیس تحقیقات کر رہی ہے اور جلد مزید گرفتاریاں متوقع ہیں،

مہاراشٹر کے وزیر اور کانگریس کے رہنما ستیج پٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ ممبئی پولیس نے اس ضمن میں اہم پیشرفت کی ہے تا ہم اس کی تفصیلات نہیں بتا سکتے ، تحقیقات ہوں گی اور یقین دہانی کرواتا ہوں کہ مجرموں کا پیچھا کریں گے اور انہیں سزا ملے گی

دوسری جئانب دہلی پولیس نے بھی یکم جنوری کو اس حوالہ سے مقدمہ درج کیا ہے، ممبئی سائبر پولیس تھانہ نے بھی ایپ کو ڈیولپ کرنے والوں اور اس کی حوصلہ افزائی کرنے والے ٹویٹر ہینڈل کے خلاف بھی مقدمے درج کر رکھے ہیں ، گزشتہ سال جولائی میں بھی دہلی پولیس کے سائبر سیل نے ایسا ایک مقدمہ درج کیا تھا

بھارت میں Bulli Bai نامی ایپ پر سینکڑوں مسلم خواتین کی نیلامی کیلئے ان کی تصاویر شیئر کی گئیں جس کی وجہ سے بھارتی خواتین میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔ سوشل میڈیا پر ایک عورت کو ٹرول کرنا یعنی اس کا مذاق اڑانا بہت سے لوگوں کے لیے سب سے زیادہ آسان کام ہوتا ہے اور یہ ٹرولِنگ زیادہ تر ذاتی حملوں پر مبنی ہوتی ہے۔لیکن انڈیا میں مسلمان خواتین کی ہراسانی کے لیے کم ظرفی کی تمام حدیں پار ہوتی نظر آتی ہیں۔

بھارت میں Bulli Bai نامی ایپ پر سینکڑوں مسلم خواتین کی نیلامی کیلئے ان کی تصاویر شیئر کی گئیں تصاویر ان خواتین کی ہیں جو ٹویٹر صارف ہیں اور ان کے کافی تعداد میں فالوؤرز ہیں۔ ایپ کو آن لائن سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کی سہولت کار کمپنی Github پر ڈیزائن کیا گیا ہے ’گٹ ہب‘ پر بنائی گئی اس ایپ کا نام ’بُلی بائی‘ ہے،

ایپ کھولنے والے صارفین کو’آج کے دن آپ کی بلی بائی‘ کی ٹیگ لائن کے ساتھ خواتین کی تصاویر دکھائی جاتی ہیں، جن میں زیادہ تر ایڈٹ شدہ ہیں بھارت میں صحافیوں، سماجی کارکنوں اور دیگر ممتاز شخصیات سمیت سینکڑوں خواتین کو نئے سال کے موقع پر ایپ پر اپنی تصاویر ملی ہیں اس کے بعد بہت سی خواتین نے ٹوئٹر پر اس ہراسانی کے بارے میں احتجاج کیا، جس کا خصوصاً مسلمان خواتین کو بھارت میں سامنا کرنا پڑ رہا ہے کافی گھنٹوں کے بعد بھارتی حکومت نے کارروائی کا وعدہ کیا۔

واضح رہے کہ یہ واقعہ سال میں دوسری بار ہوا ہے کہ خواتین کی آن لائن نیلامی کیلئے ایپ بنائی گئی اس سے قبل گزشتہ سال جولائی کے مہینے میں Sulli Deal نامی ایپ متعارف ہوئی تھی جس نےBulli Bai کی طرح ہی سینکڑوں مسلم خواتین کی تصاویر آئن لائن نیلامی کیلئے پوسٹ کی تھیں 80 سے زائد مسلمان خواتین کی تصاویر ان کی اجازت کے بغیر ’گٹ ہب‘ نامی ویب سائٹ پر اپلوڈ کی گئی ہیں جس کے ساتھ لکھا گیا تھا ’آج کی سلی ڈیل‘۔ سلی ایک توہین آمیز اصطلاح ہے جو مسلمان خواتین کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

ہندو انتہا پسندوں کی بھارت میں ہولی پر مسلم خواتین مخالف مہم

فلسطینی بھی وجود رکھتے ہیں وہ بھی انسان ہیں،مسلم امریکن خواتین اراکین برس پڑیں

تب بھی مسلمان خواتین کو آن لائن فروخت کے لئے پیش کرنے کے حوالہ سے دہلی اقلیتی کمیشن اورخاتون کمیشن نے نوٹس لیا تھا اس ضمن میں دہلی اقلیتی کمیشن اور خاتون کمیشن نے دہلی پولیس کمشنر کو ایک نوٹس بھجوایا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ مسلم خواتین کے خلاف ایسی بیہودہ مہم چلانے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے،دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ذاکر خان کا کہنا تھا کہ ملزم کنال شرما اور کچھ دیگر ملزمان نے مسلم خواتین کے لئے قابل اعتراض زبان کا استعمال کیا ہے۔ ایسے لوگ ہندو مت کو بدنام کر ہے ہیں بھارت میں جو لوگ دیویوں کی پوجا کرتے ہیں ان کے احساسات کو بھی انہوں نے مجروح کیا ہے۔ دہلی پولیس کو ان تمام ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے-

دہلی، اجیت دوول کا دورہ مسلمانوں کو مہنگا پڑا، ایک اور نوجوان کو مار دیا گیا

دہلی فسادات، 42 سالہ معذور پر بھی مسجد میں کیا گیا بہیمانہ تشدد

دہلی فسادات کا ذمہ دار کون؟ جمعیت علماء ہند نے کی نشاندہی

وزیراعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے انڈیا میں بسنے والے سترہ کروڑ مسلمانوں کا خیال ہے کہ وہ دوسرے درجے کے شہری بن چکے ہیں۔
گائے کے تحفظ کو بنیاد بناتے ہوئے سخت گیر ہندوؤں کے مسلمانوں پر تشدد کے واقعات نے مسلمان کمیونٹی کو خوف و مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے۔

دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے

دہلی فسادات، کوریج کرنیوالے صحافیوں کی شناخت کیلیے اتروائی گئی انکی پینٹ

دہلی فسادات میں امت شاہ کی پرائیویٹ آرمی ملوث،یہ ہندوآبادی پر دھبہ ہیں، سوشل ایکٹوسٹ جاسمین

بھارت میں ایک بار پھرمسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کا انکشاف

 

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!