fbpx

مصطفی کمال نے پی ایس پی کے پارٹی سلوگن ‘‘ہم ٹھیک کردیں گے‘‘کا اجرا کردیا

چیئرمین پی ایس پی سید مصطفی کمال نے پی ایس پی کے پارٹی سلوگن ‘‘ہم ٹھیک کردیں گے‘‘کا اجرا کردیا۔ نواز شریف نعرہ لگا رہے ہیں کہ ووٹ کو عزت دو، مطلب یہ کہ مسلم لیگ ن کو ووٹ دو ورنہ ووٹ کی کوئی عزت نہیں، پیپلزپارٹی نے روٹی کپڑا مکان کیساتھ جیے بھٹو کا نعرہ لگا کر قوم سے سب کچھ چھین کر پیپلز پارٹی جاگیر بنادی، ایم کیو ایم نے اپنوں کا ووٹ اپنوں کا نعرہ لگایا یعنی اگر ان کو ووٹ نہیں دیا تو آپ انکے اپنے نہیں، جبکہ تحریک انصاف نے تبدیلی کا نعرہ لگایا، قوم سوچے سمجھے بغیر نعرے کے پیچھے چل پڑی جسکی وجہ سے آج تبدیلی تباہی بن کر ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، نا کسی نے ان تمام نعروں کے آگے کا نظام بتایا اور نا پاکستان میں کسی نے سیاسی جماعتوں سے یہ پوچھنے کی ہمت کی کہ وہ اپنے نعروں کو عملی جامہ کیسے پہنائیں گے۔
پاک سر زمین پارٹی پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جسکا نعرہ "ہم ٹھیک کردیں گی” کے پیچھے تمام ملکی مسائل کا قابل عمل حل ہے۔ "ہم ٹھیک کردیں گی” کیونکہ صرف ہمارے پاس مسائل حل کرنے کے لیے پورا بلیو پرنٹ ہے۔ تین تین دفعہ وزیراعظم بننے والی جماعتیں چوتھی بار وزیراعظم بننے کے لیے تیار بیٹھی ہیں۔ چوتھی بار وزیراعظم بننے سے وہ تباہ شدہ نظام جو انہوں نے خود تباہ کیا ہے یکسر تبدیل ہوگا۔
نواز شریف نے حکومت کرنے کے لیے تین بار آصف زرداری کو سندھ گروی میں دیا تھا۔ پاکستان میں اب کسی کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں آئے گی۔ ہمارے پاس اس کراچی کی 10-15 سیٹیں ہوں تو جسکو وزیراعظم بننے کے لیے ہماری ضرورت ہوگی تو ہم سپورٹ کریں گے لیکن وزارتوں کا مطالبہ نہیں کریں گے۔ ہم 2 آئینی ترامیم کروایں گے اور غیر مشروط حمایت کریں گے۔ پہلی آئینی ترمیم کے ذریعے ہم بلدیاتی نظام کے اختیارات آئیں میں لکھوائیں گے۔
پی ایس پی اختیارات، وسائل اور طاقت وزیراعظم، وزیر اعلی سے لیکر یوسی چئیر مین کو ڈائیریکٹ دے گی جو آپکے محلے میں رہ رہا ہوگا، اگر وہ کام نہیں کرئے گا تو کچھ دن بعد محلے والے جمع ہوکر اسکے گھر پہنچ کر گریبان پکڑیں گے۔ آپ کسی وزیراعظم، وزیر اعلی اور وزیر، مشیر کو پکڑ نہیں سکتے، لیکن یہی محلے والوں کا ہاتھ نیب کا ہاتھ ہوگا۔ دوسری ترمیم کے زریعے ہم این ایف سی ایوارڈ کیساتھ پی ایف سی لکھوائیں گے۔
یہی وہ اصل اصلاحات ہیں جو پاکستان کو ترقی کی جانب گامزن کردے گی اور یہ اصلاحات صرف ووٹ سے آئیں گے۔ اس فارمولے سے سب ٹھیک ہو جائے گا، دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اسی فارمولے کے تحت ترقی یافتہ بنے۔ مجھے قوم کا ساتھ چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پا ک سرزمین پارٹی ڈسٹرکٹ ایسٹ ریزیڈنٹ کمیٹی کی جانب منعقدہ تقریب میں علاقہ معززین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں مزید کہا کہ 13 سال میں سندھ کو وفاق سے 10242 ارب ملے لیکن آج سندھ انسانوں کے رہنے کی بدترین جگہ ہے۔ پورے سندھ میں ایک ماڈل یوسی نہیں جبکہ میرے ہاتھ سے 300 ارب خرچ ہوئے جس میں تمام تنخواہیں اور پیٹرول ملالیں تو میں نے 200 ارب انفرا اسٹرکچر لگایا تو دنیا کے چار بہترین شہروں میں شامل ہوگیا۔ طاقت، اختیارات اور وسائل کے ارتکاز سے کرپشن جنم لے رہی ہے۔
ان سب کچھ تباہ کاریوں کو ہم ٹھیک کردیں گے۔ اب اگر ایک آدمی کے بجائے 2000 افراد کو اختیار دیا جائے 10242 ارب کو کام میں لا سکیں تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 18 سیٹیں حکومتی اتحاد کے پاس ہیں، صدر وزیراعظم اور گورنر، وزرا ہیں۔ 3 سیٹ والی پیپلز پارٹی کراچی پر قابض ہے کیونکہ تحریکِ انصاف اور ایم کیو ایم، پیپلزپارٹی سے زیادہ کرپٹ ہیں۔
ملک میں ہر سطح پر ظلم ہے۔ رات کے اندھیرے میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھا دیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں دواں اور تعلیمی اداروں میں صحت اور تعلیم نام کی کوئی چیز نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظالم ہمیشہ طاقت، اختیارات اور وسائل پر قابض ہوتا ہے۔ عامر خان دس ہزار مہاجر نوجوانوں کوقتل کرکہ الطاف حسین سے معافی مانگ کر 2011 ایم کیو ایم میں شامل ہوا۔
چونکہ 68 فیصد پاکستان کا نوجوان 1992 کے بعد پیدا ہوا ہے اس لیے اسے ہی پتہ نہیں کہ پاکستان کی معاشی شہ رگ کو کس طرح تباہ کیا۔ 2012 میں اپنی گورنری بچانے کے لیے ایم کیو ایم نے شہر کا بلدیاتی نظام پیپلز پارٹی کو دے دیا۔ منٹ منٹ پر ہڑتال کرنے والی ایم کیو ایم نے ایک ہڑتال نہیں کی جب شہر پر ڈاکہ پڑ رہا تھا۔ ہڑتال کیوں نہیں کی ایک ہیلو کی آس لگائے بیٹھے سمجھ لیں کہ الطاف حسین کی بد اعمالیوں کے باعث ملک چھوڑ کر چلے گئے پھر ہم جب واپس آئے تو ہیلو چل رہی تھی۔
ایم کیو ایم کا پورا شباب اپنے عروج پہ تھا۔ جب ہم اکیلے تھے تو انکی ہیلو سے نہیں ڈرے تو اب کیا ڈریں گے جب ہمارے ساتھ لاکھوں لوگ ہیں۔ہم اپنے بچوں کو بلکتا چھوڑ کر مرنے کے لیے پاکستان واپس آئے کیونکہ اس شہر میں سچ بولنے کی سب سے چھوٹی سزا موت تھی۔ مہاجروں کے نام نہاد ٹھیکیدار ہمیں مہاجروں کا غدار کہتے ہیں کیونکہ ہم مہاجروں کو پختونوں، سندھیوں، بلوچوں اور پنجابیوں سے نہیں لڑوا رہے۔
ہماری وجہ سے شہدا قبرستان میں تالے لگ گئے۔ ہماری وجہ سے انکی خون آشام سیاست ختم ہوگئی ہے۔ ہم مہاجروں کے حقوق حاصل کرنے کے لیے پختونوں، سندھیوں، پنجابیوں اور بلوچوں کو ملا کر سب کے حقوق حاصل کریں گے۔ عامر خان ٹی وی پر کھڑے ہوکر مہاجروں کے قتل کا اعتراف کررہا ہے۔ مہاجروں کے حقوق کا علمبردار بنا ہوا ہے، کوئی مہاجر عامر خان سے کیوں نہیں پوچھتا، انہوں نے کہا کہ جو لوگ ہمیں ہارنے کا طعنہ دیتے ہیں وہ دیکھ لیں کہ ہم کامیاب ہوگئے ہیں کیونکہ تڑپتی ماں کے لعل اپنی ماں کے پاس ہیں۔
انکی دعائیں ہمارا منافع اور انعام ہے۔ ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ پروردگار نے ہم سے کام لیا۔