متنازعہ شہریت ایکٹ، بھارت کی حکمران جماعت کو لگا بڑا دھچکا

متنازعہ شہریت ایکٹ، بھارت کی حکمران جماعت کو لگا بڑا دھچکا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقلیتی ونگ کے تقریبا 76 ارکان نے شہریت ترمیمی ایکٹ پر پارٹی پالیسی کی وجہ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اقلیتی ونگ کے 48 ممبران ، جن میں بھوپال ضلع اقلیتی ونگ کے نائب صدر عادل خان اور ریاستی میڈیا کے سربراہ جاوید بیگ شامل ہیں ، نے گذشتہ ہفتے استعفیٰ دے دیا تھا۔

بی جے پی کے سینئر رہنما کیلاش وجئے ورگییا کے قریبی رازق قریشی نے کہاکہ ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ ہمارے لئے اپنے برادری کے ممبروں کو بی جے پی کو ووٹ دلانا کتنا مشکل ہے اور ہم ان کو راضی کرنے کے لئے سب کچھ کرتے ہیں ، لیکن اگر بی جے پی اس طرح کے متنازعہ امور چھیڑتی رہتی ہے تو یہ ہمارے لئے مشکل ہوجائے گا۔

بی جے پی سے استعفی دینے والے زیادہ تر افراد اندور ، مہو ، کھرگون اور دیواس علاقوں سے بوتھ سطح کے عہدیدار تھے۔

اقلیتی سیل کے جنرل سکریٹری وسیم اقبال خان کا کہنا تھا کہ ہم نے تین طلاق ، رام مندر، بابری مسجد ، آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے جیسے متنازعہ معاملات پر حمایت کرنے پر اپنی کمیونٹی میں واپس نہیں جاسکتے ۔

متنازعہ شہریت بل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بھارت میں شہریوں نے بھارتی وزیراعظم مودی کے گھر کے گھیراؤ کی کوشش کی لیکن انہیں راستے میں‌ روک دیا گیا، پولیس نے احتجاج کرنے والوں کو مودی کے گھر کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی.

احتجاج کے موقع پر سیکورٹی اداروں کی بھاری نفری موجود تھی، احتجاج کرنے والوں کی ڈرون سے بھی نگرانی کی گئی، بھارتی دارالحکومت کے علاقے جورباغ کے درگاہ شاہِ مردان سے شہریوں نے جلوس کا آغاز کیا اور مودی کے گھر کی طرف مارچ کیا، پولیس نے مظاہرین کو گھر سے دور روک دیا.سابق صدرنشین قومی کمیشن برائے اقلیتیں وجاہت حبیب اللہ بھی احتجاج میں شریک ہوئے.

شہریوں نے مطالبہ کیا کہ متنازعہ شہریت ایکٹ فوری واپس لیا جائے، مظاہرین میں ہاتھوں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں اور مودی سرکار کے خلاف نعرے بھی لگا رہے تھے.

دہلی میں جامع مسجد کے پاس متنازعہ شہریت ایکٹ کے خلاف احتجاج کیا گیا،جس میں اپوزیشن جماعت کانگریس کے اراکین اسمبلی الکا لامبا اور سابق دہلی رکن اسمبلی شعیب اقبال نے بھی شرکت کی، الکا لامبا نے بی جے پی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ بھارت میں بے روزگاری سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ لیکن وزیراعظم نریندر مودی نوجوانوں کو این آر سی اور سی اے اے کی لائن میں لگانا چاہتے ہیں.

کالا قانون کے خلاف بھارت بھر میں شدید احتجاج جاری ہے، لاکھوں افراد ملک کی مختلف ریاستوں میں احتجاج کر رہے ہیں جبکہ اس دوران پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے دوران 29 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں سب سے زیادہ ہلاکتیں ریاست اتر پردیش میں ہوئی ہیں۔

احتجاج میں حصہ کیوں لیا؟ مودی سرکار کا غیر ملکی طالبعلم کیخلاف انتہائی اقدام

متنازعہ شہریت بل، دلہن نے بھی کیا مودی سرکار کے خلاف احتجاج

متنازعہ شہریت بل، بھارت میں اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف مقدمے درج

متنازعہ شہریت بل احتجاج، بھارتی پولیس نے درندگی کی سب حدیں عبور کر لیں، طلبا کو برہنہ کر کے……..

مودی کے باپ کا ہندوستان تھوڑا ہی ہے؟ برقع پوش خواتین کا دیو بند میں مودی سرکار کو چیلنج

بھارتی پولیس کے تشدد کا نشانہ بننے والے 72 سالہ حامد نے سنائی افسوسناک داستان

واضح رہے کہ بھارت کی طرف سے منظور کیے گئے قانون کالے قانون میں مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک رکھا جس میں سکھ، ہندو، عیسائی، جین، پارسائی سمیت دیگر لوگوں کو تو شہریت دی جائے گی جبکہ مسلمان اس فہرست میں شامل نہیں ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.