fbpx

مستقبل میں عالمی وباؤں سے بچنے کے لیے قدرتی ماحول کو بچانا ہوگا. نئی تحقیق

مستقبل میں عالمی وباؤں سے بچنے کے لیے قدرتی ماحول کو بچانا ہوگا. نئی تحقیق

 ایک نئی تحقیق میں زور دیا گیا ہے کہ اگر مستقبل میں عالمی وباؤں سے بچنا ہے تو قدرتی ماحول کو محفوظ اور بحال کرنا ہوگا۔ سائنسی جرنل نیچر میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ناکافی غذائی ذرائع کی وجہ سے جانور اپنے مسکن چھوڑتے ہیں اور مویشی اور انسانوں میں بیماریاں پھیلانے کا خطرہ بنتے ہیں۔

امریکا کی کورنیل یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے، جنہوں نے تحقیق تصنیف کی، آسٹریلیا کے ایک قسم کے چمگادڑ فروٹ بیٹ پر 1996 سے 2020 کے درمیان تحقیق کی اور ایک جانور سے دوسرے میں بیماریوں کی منتقلی کے خطرات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ محققین کے مطابق 1990 کی دہائی سے پھیلنے والی ہر عالمی وباء جانوروں سے انسانوں میں پیتھوجن کی منتقلی کی وجہ سے پھیلی جس کے دو بنیادی عوامل تھے۔ پہلی چیز ان جانوروں کے مسکن کا ختم ہونا ہے جس کی وجہ سے جانور زرعی علاقوں میں چلے جاتے ہیں اور دوسری موسمیاتی تغیر کی وجہ سے غذائی قلت کا ہونا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛ پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا
کورنیل یونیورسٹی کی ایک پروفیسر رائنا پلورائٹ کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ابھی دنیا کی اس جانب توجہ ہے کہ ہم کس طرح اگلی عالمی وباء کو روک سکتے ہیں۔ بد قسمتی سے قدرت کو محفوظ کرنا یا اس کو بحال کرنے کا خیال زیر بحث نہیں ہے۔ ان سالوں میں جب موسمِ سرما میں غذا وافر مقدار میں موجود تھی، محققین نے دیکھا کہ چمگادڑ اپنے مقامی جنگلات میں انسانوں سے دور رہے۔ غذائی قلت کے دوران چمگادڑ زرعی علاقوں اور انسانوں کے قریب چلے گئے جہاں وہ مزید وائرس پھیلا سکتے تھے۔