fbpx

میانمار کی فوجی کونسل نے یوکرین پر روسی حملے کی حمایت کر دی

میانمار کی ملٹری نے جمعرات کو یوکرین پر روس کے حملے کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئےعالمی برادری کے دھارے سے یکسر مختلف موقف اپنایا ہے۔ عالمی برادری نے یوکرین کے خلاف روسی جارحیت کی نہ صرف مذمت کی ہے ، بلکہ ماسکو کے خلاف سخت پابندیاں عائد کرنے کا اقدام کیا ہے۔

وائس آف امریکہ کی برمی سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے، میانمار کی فوجی کونسل کے ترجمان جنرل زا من تن نے فوجی حکومت کی جانب سے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی حمایت کے اقدام کی وجوہ بیان کی ہیں۔

بقول ان کے، ”اول یہ کہ روس نے میانمار کی خودمختاری کو مستحکم کرنے میں مدد دی ہے، اسی لیے،میرے خیال میں ہمارے لیے یہی اقدام درست ہے۔ دوئم یہ کہ دنیا کو بتایا جائے کہ روس ایک عالمی طاقت ہے”۔

فوجی انقلاب کے سربراہ من آنگ ہلینگ نے گزشتہ سال جون میں روس کا دورہ کیا تھا، اور تب سے برما اور روس کی فوج کے مابین مضبوط مراسم قائم ہیں۔ روس اُن چند ملکوں میں سے ایک ہے جس نے یکم فروری 2021ء کے انقلاب کے بعد برما کی ملٹری کونسل کی حمایت کی تھی، اس بغاوت میں ایک سویلین حکومت کا تختہ الٹ کر جمہوریت پسند راہنما آنگ سان سوچی اور دیگر اعلیٰ عہدے داروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

تب سے، اقوام متحدہ اور برما کے امور پر نظر رکھنے والے ماہرین، ملٹری کونسل کو اسلحہ فروخت کرنے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ تاہم روس اس مطالبے کو نظرانداز کرتار ہا ہے۔