fbpx

امریکا میں ہیپاٹائٹس کا پراسرار حملہ،5 بچے ہلاک،100 سے زائد بیمار

امریکا میں جگر کی پراسرار بیماری کے پھیلاؤ نے طبی ماہرین کو چکرا کر رکھ دیا ہے جس نے اب تک پانچ بچوں کی جان لے لی اور سو سے زائد کو شدید بیمار کر رکھا ہے۔ زیادہ تر بچے ایک سے تین سال کی عمر کے ہیں۔

امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کے مطابق گزشتہ سات ماہ کے دوران 25 ریاستوں میں اس بیماری کے 109 کیس سامنے آ چکے ہیں جن میں سے آٹھ بچوں کی جگر کی پیوندکاری کی گئی۔سی ڈی سی میں متعدی بیماریوں کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر جے بٹلر نے گزشتہ ہفتے ایک کانفرنس کال میں ڈاکٹروں پر زور دیا کہ وہ جگر کی بیماری کے کیسز پر نظر رکھیں۔

ڈاکٹر بٹلر کے مطابق نصف سے زائد متاثرہ بچوں کو اڈینو وائرس سے بھی انفیکشن ہوا جو کامن کولڈ کی وجہ بنتا ہے تاہم بیماری کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

اس بیماری کا حالیہ پھیلاؤ سب سے پہلے نومبر میں الاباما میں سامنے آیا جب ریاستی طبی اہلکاروں نے نو بچوں میں شدید ہیپاٹائٹس کی تحقیقات شروع کیں تاہم ٹیسٹ کرنے پر ہیپاٹائٹس وائرس کی بجائے اڈینو وائرس پایا گیا۔

الاباما کے علاوہ کیلیفورنیا، کولوراڈو، ڈیلاویئر، فلوریڈا، جارجیا، آئیڈاہو، ایلانوئے، انڈیانا، لوزیانا، مشیگن، منیسوٹا، مزوری، شمالی کیرولائنا، شمالی ڈکوٹا، نبراسکا، نیو یارک، اوہائیو، پینسلوانیا، ٹینیسی، ٹیکساس، واشنگٹن اور وسکانسن میں بھی مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ پورٹوریکو میں بھی ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا کے 20 ممالک میں 300 کے قریب بچوں میں شدید ہیپاٹائٹس کے کیس ریکارڈ ہوئے ہیں۔

برطانیہ میں 163 بچوں میں یہ بیماری پائی گئی ہے اور طبی حکام اس بات کی تحقیق کر رہے ہیں کہ کہیں اس کا تعلق پالتو کتوں سے تو نہیں ہے۔ یو کے ہیلتھ سکیورٹی ایجنسی کے مطابق 92 میں سے 64 کیسز کا رابطہ کتوں سے ہوا تھا تاہم برطانیہ میں اب تک اس بیماری سے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی ہے۔