fbpx

این اے 249 کا ضمنی انتخاب : ن لیگ کے بعد پی ٹی آئی، ایم کیو ایم اور پی ایس پی نے بھی نتائج مسترد کردیے

گذشتہ روز کراچی کے حلقہ این اے 249 کے ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ ہوئی۔ این اے 249 کے ضمنی انتخاب کے لیے 30 امیدوار میدان میں تھے، ان میں سے 12 کا تعلق مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے اور 18 امیدوار آزاد حیثیت میں بیلٹ پیپر پر موجود تھے ۔ تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کے قادر خان مندوخیل 16 ہزار 156 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔
لیکن مسلم لیگ ن سمیت پی ٹی آئی، ایم کیو ایم اور پی ایس پی نے بھی این اے 249 کے نتائج مسترد کردیے۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی رہنما علی زیدی نے کہا کہ کرپٹ پیپلزپارٹی اور صوبائی الیکشن کمیشن کا کرپشن میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ این اے 249 میں پیپلزپارٹی مقابلےمیں ہی نہیں تھی، پی ٹی آئی نے 17 ہزار پرچیاں کاٹیں، ووٹ سامنے کیوں نہیں آئے؟ ہر امیدوار لعن طعن کررہاہے، کوئی مطمئن نہیں ہے۔
جبکہ چئیرمین پاک سر زمین پارٹی مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ڈی آر او آفس میں ڈرامہ چلایا گیا اور پاک سرزمین پارٹی نتائج قبول نہیں کرے گی۔ اس کے علاوہ این اے 249 کے ضمنی انتخاب کے نتائج پر رد عمل دیتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما بھی این اے 249 کے نتائج پر غیر مطمئن نظر آئے ۔ ایم کیو ایم رہنما عامرخان نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے یہ 2018ء کے الیکشن کا تسلسل ہے۔
جبکہ ایم کیو ایم کے سینیٹر فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو چاہئیے وہ اپنے عملے کی شفافیت کو چیک کرے، ضمنی الیکشن کےحوالے سے بہت سنگین سوالات پیدا ہوئےہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.