fbpx

نعرہ تکبیر تک کا سفر ، ازقلم :غنی محمود قصوری

نعرہ تکبیر تک کا سفر

ازقلم غنی محمود قصوری

انڈیا 1974 میں ایٹمی طاقت بن چکا تھا اور ہر وقت پاکستان کو ختم کرنے کی باتیں سرعام کرتا تھا اس سے قبل 1971 میں مشرقی پاکستان کو اس نے باقاعدہ سازش سے دولخت کروایا تھا

18 مئی 1974 کو راجھستان میں مسکراتا بدھا نامی مشن میں انڈیا نے ایٹمی دھماکے کئے اور خود کو پوری دنیا کا مالک سمجھ لیا خاص کر ایشا کا غنڈہ بننا اس کا خواب تھا
انڈیا کے اس رویے کے باعث اب پاکستان پر فرض تھا کہ مساوی طاقت حاصل کی جائے

اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے
نان پرولیفیشن ٹیریٹری (ایٹمی طاقت نا بننے کا معاہدہ) پر دستخط نا کئے اور 1976 میں ڈاکٹر قدیر مرحوم علیہ الرحمہ کی سرپرستی میں پاکستانی اٹامک انرجی کمیشن کا آغاز کیا گیا
ڈاکٹر عبدالقدیر علیہ الرحمہ نے قلیل وسائل کے باوجود جس محنت اور لگن سے کام کیا اس پر جتنا خراج تحسین انہیں پیش کیا جائے کم ہے

1977 میں ضیاءالحق کی حکومت میں سخت عالمی پابندیوں کے باوجود پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی نے سنگاپور،یورپ اور مشرق وسطی سے بڑی دلیری اور خفیہ طریقوں سے حساس آلات خریدے اور پاکستان منتقل کئے
کیونکہ امریکہ پاکستان کو کبھی بھی ایٹمی طاقت بننے نہیں دینا چاہتا تھا

یہ بات بھی بہت مشہور اور مستند ہے کہ آئی ایس آئی کے ایجنٹوں نے انڈین اٹامک سنٹر سے بھی حساس آلات حاصل کئے جس پر انڈیا سخت پریشان بھی ہوا اور امریکہ کو رپورٹ کی تبھی امریکہ نے خطرہ بھانپ کر فرانس جرمنی اور کینیڈا پر پابندیاں لگا دیں کہ پاکستان کو کوئی بھی حساس آلات یا ٹیکنالوجی نا فروخت کی جائے –

تاہم آئی ایس آئی نے بڑے ماہرانہ طریقے سے جرمنی سے حساس آلات اور ٹینالوجی حاصل کرکے انتہائی مشکل ترین طریقے سے پاکستان منتقل کیا کیونکہ امریکہ اور انڈیا پاکستان پر پوری نظر رکھے ہوئے تھےپاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے بڑی محنت اور لگن سے اپنا کام جاری رکھا –

امریکہ و انڈیا نے پاکستان کے جوہری پروگرام کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی اور دھمکیاں بھی لگائیں اور 1986 میں راجھستان کے علاقے میں 6 لاکھ فوجیوں کو جمع کرکے پاکستان کو جنگ کی دھمکی لگائی 1989 کی مسلح تحریک آزادی کشمیر کی شروعات پر بھارت نے پھر پاکستان کو جنگ کی دھمکی لگائی اور ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تاہم پاکستان نے اپنا کام جاری رکھا

11 اور 13 مئی 1998 کو ایک بار پھر انڈیا نے چولستان میں ایٹمی دھماکے کئے اور اپنی ڈھاک بٹھانے کی کوشش کی
اب وقت آگیا تھا کہ انڈیا کو منہ توڑ جواب دیا جائے سو پاکستان نے انڈیا کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 28 مئی 1998 کو ایٹمی دھماکے کئے

پاکستان نے بلوچستان کے ضلع چاغی میں 28 مئی کو 5 اور 30 مئی کو 1 ایٹمی دھماکہ کیا ایٹمی دھماکوں کے بعد جنگ کی دھمکی دینے والا انڈیا پیشاب کی جھاگ کی طرح بیٹھ گیا-

انڈیا امریکہ کا خیال تھا کہ بے انتہاہ پابندیوں میں پاکستان ایٹمی قوت نا بن پائے گا مگر اللہ کے فضل اور پاکستان آئی ایس آئی،ڈاکٹر عبدالقدیر علیہ رحمہ کی محنت و لگن سے اللہ نے وہ دن بھی دکھلایا کہ جب نعرہ تکبیر لگا کر بدمست ہاتھی انڈیا کو جواب دیا گیا اور اس کا غرور خاک آلود ہوا

پاکستان دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہےپاکستان کے ایٹمی دھماکوں پر پوری اسلامی دنیا نے جشن منایا

لکھنے بولنے کو تو ،یوم تکبیر، ایک معمولی بات ہے مگر اس کے پیچھے ہمارے حکمرانوں،آئی ایس آئی اور ڈاکٹر عبدالقدیر و ان کی ٹیم کی بے شمار قربانیاں ہیں ایٹمی طاقت بننے کے بعد بظاہر انڈیا نے جنگ کی دھمکیاں دیں ہیں مگر ان دھمکیوں میں وہ پہلے سا غرور و رعب نہیں اور یہ سب نعرہ تکبیر کے مرہون منت ہی ہے