fbpx

نیب نے وزیراعظم آفس سے بحریہ ٹاون اور این سی اے ڈیل کا ریکارڈ مانگ لیا

اسلام آباد:نیب نے عمران خان حکومت میں بیریسٹر شہزاد اکبر کی زیر قیادت قائم کردہ اثاثہ ریکوری یونٹ (اے آر یو) کیخلاف مالی فوائد کی خاطر اختیارات کے غلط استعمال اور برطانیہ سے موصول ہونے والی جرمانہ کی رقم کے معاملے میں اعتماد کو ٹھیس پہنچانے اور ریکارڈ کو غیر قانونی انداز سے سیل کرنے کے الزامات کے تحت تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ ادارے نے باضابطہ طور پر وزیراعظم آفس سے رجوع کر لیا ہے اور شہزاد اکبر کے دفتر سے تمام متعلقہ ریکارڈ کی نقول فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔

قائم مقام چیئرمین اور ڈی جی نیب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش

وزیراعظم آفس کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ’’نوٹ ٹوُ دی پرائم منسٹر‘‘ کی نقل فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے جو دسمبر 2019ء میں بھیجی گئی تھی جس میں دو پاکستانی شہریوں احمد اور مبشرا کے جرائم سے حاصل ہونے والی رقم سرنڈر کرکے برطانیہ سے پاکستان بھیجنے کی بات کی گئی تھی۔

قائم مقام چیئرمین نیب نے مزید 5 ایڈیشنل ڈائریکٹرز اور ایک ڈپٹی ڈائریکٹر کے تبادلے

نیب کی جانب سے جو تفصیلات مانگی گئی ہیں ان میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے ساتھ مذکورہ بالا دو پاکستانی شہریوں کے حوالے سے کی گئی مکمل خط و کتابت، ان افراد کے غیر قانونی انداز سے کمائی گئی رقم اور اس رقم کی پاکستان منتقلی کی تفصیلات شامل ہیں۔

آفتاب سلطان کو چئیرمین نیب تعینات کرنے کی منظوری دے دی گئی

‏نیب نے وزیراعظم ٓشہباز شریف کے افس سے عمران خان حکومت کا بحریہ ٹاون اورنیشنل کرائم ایجنسی ڈیل کا ریکارڈ مانگ لیا