fbpx

نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے چئیرمین سندھ پبلک سروس کمیشن کے خلاف انکواٸری کرنے کی منظوری دی۔

نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے چئیرمین سندھ پبلک سروس کمیشن نور محمد جادمانی کے خلاف انکواٸری کرنے کی منظوری دے دی۔
باغی ٹیوی کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ روزنیب کے ایگزیکٹو بورڈ نےچئیرمین سندھ پبلک سروس کمیشن نور محمد جادمانی اور رکن سندھ پبلک سروس کمیشن اعجاز علی درانی و دیگر کے خلاف انکواٸری کرنے کی منظوری دی۔
رپورٹ کے مطابق امریکا میں موجود شوکت زرداری کی جامعہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سندھ پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین نورمحمد جادمانی کی بیٹی کے نام پر امریکی ریاست کیلیفورنیا میں 785000 ڈالر میں جائیداد کی خرید سامنے آگئی ہے۔ مارچ کے وسط میں امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر کینن کنٹری میں 2568 اسکوائر فٹ کا گھر سمرین جادمانی اور شاٹ اسٹیون کے نام پر خریدا گیا۔ شواہد سےمعلوم ہوتا ہے کہ چیئرمین سندھ پبلک سروس کمیشن نے اس گھر کی خرید کے لیے بیٹی کو ہزاروں/لاکھوں ڈالر کی رقم بطور تحفہ بھیجی۔ ذرائع کے مطابق یہ رقم سی سی ای 2019 کے انٹرویوز ختم ہونے کے بعد بھیجی گئی۔ سندھ پبلک سروس کمیشن حال ہی میں اعلانیہ سی سی ای 2019 کے نتائج کے بعد خبروں کی زینت بنا ہوا ہے اور غیر کامیاب قرار پانے والے نوجوان کمیشن پر میرٹ بیچنے کا الزام لگا رہے ہیں۔ سندھ پبلک سروس کمیشن کے کنٹرولر ہادی بخش کلہوڑو نے بھی کمیشن میں مقرر ہونے کے بعد اپنے خاندان اور دوستوں کے قریبی دو سو سے زائد لوگ آٹھ سال میں پاس کروائے۔ انٹرویو لینے والی کمیٹی میں پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین نور محمد جادمانی، غلام شبیر شیخ ، اعجاز علی خان، عبدالعلیم جعفری شامل تھے۔ ان میں سے کمیشن کے رکن شبیر شیخ پر نیب نے قومی خزانے کو 500 ملین روپے نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا تھا۔ دوسری جانب سپریم کورٹ کا واضح حکم تھا کہ کرپشن کے الزام کا سامنا کرنے والا کوئی شخص کمیشن کا رکن نہیں ہوسکتا۔ انٹرویو میں شامل شبیر شیخ کے قریبی دوست کا بیٹا محسن کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح سیکریٹری پبلک سروس کمیشن احمد علی قریشی کا بیٹا کاشف علی کو بھی کامیاب قرار دیا گیا ہے بڑی تعداد میں نہ صرف سندھ حکومت کی اہم شخصیات اور بیورو کریٹس کے بچے اور رشتےدار کامیاب ہوئے ہیں بلکہ سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذمہ داروں کے رشتہ دار بھی کامیاب قرار پائے ہیں۔ ان میں چیف انجینئر بلڈنگز اختر ڈاؤچ کا بیٹا ولید ڈاؤچ، سیپکو چیف سعید ڈاؤچ کی بیٹی کنزہ ڈاؤچ،ڈپٹی کمشنر ٹنڈو الہ یار رشید زرداری کا بیٹا حماد زرداری، سندھ پبلک سروس کمیشن کےڈپٹی ڈائریکٹر ریکروٹمنٹ اخلاق کلہوڑ کابھائی وقار کلہوڑ، سندھ پبلک سروس کمیشن کے رکن شبیر شیخ کا قریبی رشتہ دار ماجد حمید شیخ، سابق ڈی آئی جی اکبر پنگوار کا بیٹا حازم پنگوار کامیاب ہوئے،اسی طرح ریٹائرڈ بیورو کریٹ آغا فخر درانی کے ایک برادر نسبتی عبدالمنان سندھ پبلک سروس کمیشن کے گزشتہ امتحان میں کامیاب ہوئے جبکہ دوسرے برادر نسبتی عبدالحنان رواں سال امتحان میں کامیاب قرار دیئے گئے، دوسری جانب سندھ پبلک سروس کمیش کے عہدیداروں کے رشتہ دار بھی اس امتحان میں کامیاب قرار پائے، جن میں کنٹرولر امتحانات ہادی بخش کلہوڑ کا بھتیجا فراز احمد کلہوڑ اور انہی کے ایک اور رشتہ دار عبیدالرحمن کلہوڑ بھی شامل ہیں۔ان کے علاوہ سندھ پبلک سروس کمیشن کے ممبر آفتاب انور بلوچ کا بیٹا فہد انور بلوچ اور سائیں دادسولنگی کی بیٹی عمامہ سولنگی بھی کامیاب قرار پائی، اس کے ساتھ ساتھ ایسے امیدواروں کیبھی کامیابی کا انکشاف ہوا ہے، جن کے ڈومیسائل اس امتحان میں شریک کرانے کے لئے خصوصی طور پر بنائے گئے تھے، اس ضمن میں اردو سپیکنگ کوٹے میں کئی امیدواروں کی سیٹیں ڈومیسائل کی تبدیلی سے غیر اردو سپیکنگ کو دیکر حق تلفی کی گئی۔ نادرا ریکارڈ کے مطابق سندھ اربن کے کوٹے پر منتخب ہونے والے امیدواروں کے شناختی کارڈ پر پتہ شہری سندھ کا ہے۔اسی طرح سندھ پبلک سروس کمیشن میں عہدیداروں کے اثرورسوخ کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کے موجودہ کنٹرولر امتحانات ہادی بخش کلہوڑ کی اس عہدے پر تقرری جون 2013 میں کی گئی تھی، 23 اگست 2019 کو ان کا تبادلہ کردیا گیا تھا تاہم احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے وہ اس عہدے پر فائز رہے، بعدازاں 30 اگست 2019 کو سیکرٹری سروسز نے ہادی بخش کلہوڑ سے احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے پر وضاحت مانگی، جس کا جواب نہیں دیا گیا۔البتہ 25 ستمبر 2019 کو چیف سیکرٹری سندھ کی جانب سے جاری کئے گئے نوٹیفکیشن میں ہادی بخش کلہوڑ کے ٹرانسفر آرڈر واپس لئے گئے ہیں، اس حوالے سے ان پر الزام ہے کہ اپنے اثر و رسوخ کی بدولت وہ اس عہدے پر قابض ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.