نیب آرڈیننس میں ترامیم کے بعد نیا مسودہ تیار

حکومت نے نیب آرڈیننس 1999 میں ترامیم کرنے کے بعد نیا قانونی مسودہ تیا ر کر لیا ہے۔

ترامیم کے قانونی مسودے میں جن امور میں ترامیم تجویز کی ہیں ان میں ٹیکس، سٹاک ایکسچینج، آئی پی اوز، بلڈنگ کنٹرول کے مقدمات اور فرائض میں غفلت پر سرکاری ملازمین کیخلاف نیب کا دائرہ کارختم، نیب کیسز کی حد 50کروڑ روپے اور اس سے زیادہ کرنے کی حد شامل ہیں۔ اسی طرح پلی با رگین پرعوامی عہدہ یا ملازمت سے دس سال کی نااہلی،سرکاری ملا زم کا 45دن تک جسمانی ریمانڈ کرنے ،ٹرائل کورٹ یا احتساب عدالت کو ضمانت کے اختیارات دینے ،تین ماہ تک تحقیقات مکمل نہ ہونے پر ضمانت کی تجاویز بھی مسودے میں شامل کی گئی ہیں۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیب کے نئے ترمیم شدہ مسودہ کے مطابق ٹرائل کورٹ یا احتساب عدالت کو نیب کیسز میںضمانت قبل از گرفتاری اور ضمانت بعد از گرفتاری کے اختیارات ہونگے ،پلی بار گین کی منظوری کا اختیار بھی وزیراعظم کی قائم کمیٹی کے پاس ہو گا جبکہ پلی بار گین کے قوانین کو بھی تبدیل کرنے کی تجویز ہے۔دریں اثنا رقوم کی رضاکارانہ واپسی یا پلی بار گین کے بارے میں بھی کچھ رہنما اصول بنانا پڑیں گے کہ کن درخواستوں کو منظور کیا جائے ۔رہنما اصولوں میںملزم کی آفر،شواہد کی پختگی ،اپیلوں میں لگا وقت ،متوقع وصولی اور ملزمان کو ملازمتو ں سے ہٹانے جیسے عوامل شا مل ہو ں گے ۔پلی بار گین کے بعد بھی ملزم کو عوامی عہدہ یا ملازمت سے دس سال یا کسی بھی دوسرے عرصہ کے لیے نا اہل قرار دیا جا سکے گا۔

ترمیم شدہ مسودہ میں لکھا گیا ہے کہ نیب کا دا ئرہ کار کسی بھی ایسے شخص تک نہیں بڑھایا جائے گا جو کہ بلواسطہ یا بلا واسطہ کسی عوامی عہدے سے تعلق نہ رکھتا ہو ، نیب کیسز میں حد جرم پچاس کروڑ متعارف کروائی جائے گی۔

نئے ترمیم شدہ مسود ہ کے مطابق غیر منقولہ جا ئیداد کاضلعی کلکٹر یا ایف بی آر کے ریٹس سے حساب لگایا جائے گا، نیب کو ایسے کسی معاملے میں نوٹس لینے سے بھی روک دیا گیا ہے جس میں ضابطے کی خامیاں یا سرکاری ملازمین شا مل ہو ں اور جو کہ شفافیت کے اعتبار سے کسی حکومتی پراجیکٹ یا سکیم کو متاثر نہ کرتا ہو۔ نیب صرف اس صورت میں نوٹس لینے کا اہل ہو گا جب ضابطے کی خامیاں یا ایسے شواہد سا منے نہ آجائیں کہ کسی سرکاری ملازم نے اس کے فیصلے سے فائدہ حاصل کیا ہو۔

مسودے میں قرار دیا گیا ہے کہ اختیارات کے غلط استعمال بارے نیب اس وقت حرکت میں آئے گا جب اس میں فوجداری ارادہ یا سرکاری ملازمین کے اثاثہ جات میں ناقابل جواز اضافہ شامل ہو۔

نئے ترمیم شدہ مسودہ کے مطابق اگر تین ماہ تک تحقیقات مکمل نہ ہوں تو گرفتار سرکاری ملازم ضمانت کروا سکے گا، نیب کسی بھی کیس کو تحقیقات کے لیے دوربارہ نہیں کھول سکے گی جسے تحقیق کے بعد بند کیا گیا ہو ۔اسی طرح سرکاری ملازم کا جسمانی ریمانڈ بھی اب صرف 45دن کا ہو گا۔

نئے مسودے کے مطابق ٹیکس،سٹاک ایکسچینج ،سٹاک مارکیٹ،آئی پی اوز، بلڈنگ کنٹرول پر نیب کے دا ئرہ کار کو ختم کیا جائے گا ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.