fbpx

قومی احتساب آرڈیننس میں مزید ترامیم کا بل اسمبلی میں منظور

قومی اسمبلی نے قومی احتساب آرڈیننس میں مزید ترامیم کا بل منظورکرلیا۔

وزیرمملکت برائے قانون سینیٹر شہادت اعوان نے قومی اسمبلی میں قومی احتساب آرڈیننس 1999 میں مزید ترمیم کا بل دوئم 2022 پیش کیا ۔

ایوان نے بل کی شق وار منظوری دی۔ مسلم لیگ ن کی رکن قومی اسمبلی زہرہ ودود فاطمی نے بورڈ اینڈ ٹرسٹیز کو بھی استشنی دینے کی ترمیم پیش کردی۔حکومت نے ترمیم کی حمایت کی۔

وزیر مملکت قانون شہادت اعوان نے اشاعت قوانین پاکستان ترمیمی بل2022 ایوان میں پیش کیا جسے کثرت رائے سے منظورکرلیا گیا۔

جی ڈی اے کی رکن ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے قومی اسمبلی میں خطاب میں کہا کہ وقفہ سوالات کو معطل کرکے نیب کا قانون جلد بازی میں منظور کیا گیا۔ بتایا جائے اتنی جلدی کیا تھی۔ نیب کا اتنا اہم قانون بغیر کورم کے منظورکرلیا گیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی قومی اسمبلی میں نیب قوانین میں ترمیم کا بل منظور ہوچکا ہے جس کے تحت ریمانڈ کی مدت 90دن سے کم کر کے 14روز کر دی گئی تھی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں نیب کے قوانین میں ترمیم کا بل پیش کیا گیا تھا ، ترمیم کا بل وزیر قانون اعظم نذیرتارڑ نے پیش کیا تھا۔

جس کے بعد قومی اسمبلی نے قومی احتساب بیوروآرڈیننس1999میں ترمیم کا بل منظورکرلیا تھا ، جس کے تحت نیب کے متعدد اختیارات ختم کردیئے گئے تھے۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا تھا کہ ترمیم کے تحت اسوقت تک گرفتاری نہیں ہوگی جب تک تفتیش مکمل نہ ہو، ملزم کو ضمانت کی سہولت بھی حاصل ہوگی۔

انھوں نے کہا تھا کہ نیب اب چھ ماہ کی حد کے اندر انکوائری کا آغاز کرنے کا پابند ہوگا، اس سے پہلے نیب 4سال تک انکوائری شروع نہیں کرتا تھا، نیب انکوائری کے لیے وقت کی حد کا پابند نہیں تھا۔

وزیر قانون نے بتایا تھا کہ ترمیم کے تحت ریمانڈ کی مدت 90دن سے کم کر کے 14روز کر دی گئی، نیب 6ماہ میں انکوائری مکمل کرنے کا پابند ہو گا، قانون میں آئین کے منافی کوئی چیز نہیں ڈالیں گے۔

اعظم نذیر تارڑ کااس وقت کہنا تھا کہ نیب کی جانب سے گرفتاری مخصوص کیسز میں ہوگی اور نیب گرفتارشدگان کو24گھنٹےمیں احتساب عدالت میں پیش کرنے کا پابند ہوگا، کیس کے دائر ہونے کے ساتھ ہی گرفتاری نہیں ہوسکتی اور نیب گرفتاری سے پہلے ٹھوس ثبوت کی دستیابی یقینی بنائے گا۔

وزیر قانون نے کہا تھا کہ نیب قانون کو سیاسی اور غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، گزشتہ حکومت نے بیشتر ترامیم آرڈیننس کے ذریعے کیں تھی، چیئر مین نیب کو مزید رکھنے کے لیے ترمیم کی گئی تھیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نیب قانون میں ترمیم ہےکہ یہ شخص ملک سےبھاگ نہیں رہا، دہشت گردی ، قتل کےجرم میں ضمانت ہے تو نیب کے قانون میں کیوں نہیں، نیب کے پاس اختیار تھا کہ 90 روز اپنی تحویل میں رکھے، اس عقوبت خانے سے متاثرین کو نکالیں گے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا تھا کہ سیاستدانوں ، بزنس مینوں، تاجروں سمیت ہر طبقے کیلئےقوانین لائے ہیں، ایک آرڈیننس چیئرمین نیب کے حوالے سے جاری کیا گیا اور توسیع دی گئی ہے، اس کے بعد کچھ اور ترامیم کی گئی، جس سےسول سرونٹس کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

وزیر قانون نے بتایا تھا کہ بغیر کسی ثبوت کے سول سرونٹس کو جیل میں ڈالا گیا ، سیاستدانوں کو انکی آواز تبدیل کرنے کیلئےاس نیب کے قانون کو استعمال کیا گیا، ججز نے کہا کہ نیب کو سیاستدانوں کو دیوار سے لگانے کے لئے استعمال کیا گیا.