fbpx

نیب ترمیمی آرڈیننس، آصف زرداری عدالت پہنچ گئے

نیب ترمیمی آرڈیننس، آصف زرداری عدالت پہنچ گئے

سابق صدر آصف علی زرداری نے جعلی اکاونٹس کے مزید ریفرنسز میں بریت کی استدعا کردی

آصف علی زرداری نے دوسرے نیب ترمیمی آرڈیننس کی بنیاد پر بریت کی درخواستیں دائر کیں آصف علی زرداری نے پارک لین اور میگا منی لاندرنگ ریفرنسز میں بریت کی استدعا کردی سابق صدر آصف علی زرداری نے ٹھٹھہ واٹر سپلائی ریفرنس میں بھی بریت کی استدعا کردی ،عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری کی درخواستوں پر نیب کو نوٹس جاری کر دیا اور 18 نومبر تک جواب طلب کر لیا،نیب نے موقف اپنایا کہ تیسرے نیب ترمیمی آرڈیننس کا گزٹ نوٹیفکیشن موصول نہیں ہوا، جج احتساب عدالت نے کہاکہ نئے آرڈیننس کا گزٹ نوٹیفکیشن نہ ہونے سے کام متاثر ہورہا ہے، توشہ خانہ ریفرنس میں بھی آصف علی زرداری بریت کی درخواست دائر کر چکے ہیں

نیب نے سابق صدر آصف علی زرداری کی درخواست بریت کی مخالفت کر دی، نیب نے جواب دیا کہ آصف زرداری کی درخواست حقائق پر مبنی نہیں،نیب کے پاس آصف زرداری کیخلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں، آصف زرداری کیخلاف تحقیقات قانون کے مطابق کی گئیں،آصف زردادی کیخلاف کیس میں کوئی بددیانتی شامل نہیں،آصف زرداری کرپشن اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں، ملزم ٹرائل کو لٹکانے کیلئے تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے،ریفرنس میں 22 گواہان کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں،احتساب عدالت آصف زرداری کی درخواست بریت مسترد کرے،

قبل ازیں احتساب عدالت اسلام آباد میں توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت 18 نومبر تک ملتوی کر دی گئی،وکیل فاروق نائیک، نیب پراسیکیوٹر احتساب عدالت اسلام آباد میں پیش ہوئے ،نیب نے سابق صدر آصف زرداری کی بریت کی درخواست کی مخالفت کر دی ،نیب نے عدالت میں کہا کہ احتساب عدالت آصف زرداری کی بریت کی درخواست مسترد کرے،آصف زرداری، یوسف رضا گیلانی کی ایک روزہ حاضری سے استثنٰی کی درخواست منظورکر لی گئی.

واضح رہے کہ صدرمملکت کی منظوری سے تیسرا نیب ترمیمی آرڈیننس جاری کر دیا گیا ہے عوام سے دھوکہ اورفراڈکیسز دوبارہ نیب کے حوالے کر دیئے گئے،مضاربہ کیسزبھی نیب کےحوالے کر دیئے گئے فراڈاوردھوکہ دہی کے کیسز 6 اکتوبرسے پہلےکی پوزیشن پربحال کر دیئے گئے، نیب اوراحتساب عدالتوں کوفراڈ کیسزپرکارروائی کا اختیاردے دیا گیا آرڈیننس کا اطلاق بھی 6 اکتوبر سے ہوگا،جعلی اکاؤنٹس کے پرانے مقدمات آرڈیننس کے تحت جاری رہ سکیں گے، مضاربہ اور بی فور یو کیسز بھی دوبارہ نیب کے حوالےکر دیئے گئے

چیئرمین نیب کو ہٹانے کا اختیار سپریم جوڈیشل کونسل سے واپس لے لیا گیا ،ترمیمی آرڈیننس کے مطابق چیئرمین نیب کو عہدے سے ہٹانے کا اختیار صدر مملکت کے پاس ہوگا،الیکٹرانک ڈیوائسز کی تنصیب تک پرانے طریقے سے شہادتیں قلمبند کی جائیں،حکومت نے 6 اکتوبر کے آرڈیننس میں چیئرمین نیب کو ہٹانے کا اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کو دیا تھا جوڈیشل کونسل نے اٹارنی جنرل کو چیئرمین نیب کو ہٹانے کے طریقہ کار پر وضاحت کی ہدایت کی تھی سپریم جوڈیشل کونسل میں چیئرمین نیب کیخلاف ریفرنس زیر التوا ہے زر ضمانت کے تعین کا اختیار بھی عدالت کو دے دیا گیا پہلے ترمیمی آرڈیننس میں جرم کی مالیت کے برابر مچلکے جمع کرانے کی شرط رکھی گئی تھی

نواز شریف سے جیل میں نیب نے کتنے گھنٹے تحقیقات کی؟

تحریک انصاف کا یوٹرن، نواز شریف کے قریبی ساتھی جو نیب ریڈار پر ہے بڑا عہدہ دے دیا

بلی بارگین کرنے والے کو الیکشن لڑنے کی اجازت ہونی چاہئے، نیب ترمیمی بل سینیٹ میں پیش

نیب آرڈیننس میں ترامیم کے بعد نیا مسودہ تیار

کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

 

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!