نیب نے گزشتہ 2 سال کے دوران کتنی وصولیاں قومی خزانے میں جمع کروائیں؟ چیئرمین نیب نے بتا دیا

نیب نے گزشتہ 2 سال کے دوران کتنی وصولیاں قومی خزانے میں جمع کروائیں؟ چیئرمین نیب نے بتا دیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی زیر صدارت نیب ہیڈ کوارٹرز میں ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں نیب کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور اس پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ چئیرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب نے گزشتہ 2 سال کے دوران سیاسی اثر و رسوخ سے بالا تر ہو کر بلا امتیاز احتساب پر سختی سے عمل پیرا ہوتے ہوئے نہ صرف زیر التوا مقدمات کومنطقی انجام تک پہنچانے کے لئے اپنی بھر پور کوششیں کیں بلکہ بدعنوان عناصر سے نیب نے گزشتہ 2 سال کے دوران تقریباََ 363 ارب روپے بلواسطہ اور بلا واسطہ وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔

چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب نے ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے آگاہی، تدارک اور انفورسمنٹ کی پالیسی اپنائی جس کے موثر نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ نیب انسداد بد عنوانی کا ادارہ ہے جو ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لئے موثر اور فعال اقدامات کر رہا ہے۔ نیب انسداد بدعنوانی،سرکاری فنڈز میں خرد برد، اختیارات سے تجاوز، منی لانڈرنگ اور بڑے پیمانے پر عوام سے دھوکہ دہی کے مقدمات پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ گزشتہ 2 سال کے دوران چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں اصلاحات کے ذریعے نیب کو فعال ادارہ بنایا گیا ہے۔ نیب کی کارکردگی اور استعداد کار میں بہتری لائی گئی ہے۔ گزشتہ دو سال کے دوران نیب سیاسی اثر و رسوخ سے بالا تر ہو کر نیب بلا امتیاز احتساب کے لئے کوشاں ہے۔ نیب کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوشن کا نظام وضع کیا گیا ہے۔ نیب کے مقدمات کو قانون کے مطابق نمٹانے کے لئے شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائری اور انویسٹی گیشنز میرٹ اور ٹھوس شواہد پر منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے سینئر افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔جس سے تحقیقات کی کوالٹی اور معیار میں بہتری کے علاوہ مشاورت سے فیصلہ سازی کے لئے ایگزیکٹو بورڈ اور ریجنل بورڈ تشکیل دیے گئے ہیں تاکہ کیس کے تمام پہلووں خصوصاََ آئینی اور قانونی پہلووں کاٹھوس شواہد کی روشنی میں جائزہ لے کر کسی بھی تحقیقات کا آزادانہ اور شفاف انداز سے میرٹ کی بنیاد پر حتمی سفارشات مرتب کرتے ہوئے فیصلہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کو گزشتہ 2 سال کے دوران 75 ہزار 268 شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں سے 66 ہزار 838کو نمٹایا گیا ہے۔ اس عرصہ میں 2417 شکایات پر کارروائی کی منظوری دی گئی ہے جبکہ 2036 مکمل کی گئی ہیں۔ گزشتہ 2 سال کے دوران نیب نے 1240 انکوائریز کی منظوری دی ہے جبکہ 1220 مکمل کی گئی ہیں۔ اس عرصہ کے دوران نیب نے 432 انوسیٹی گیشنز کی منظوری دی ہے جن میں سے 415کومکمل کیا ہے۔ نیب نے 332 بدعنوانی کے ریفرنسز دائر کیے ہیں جبکہ 270 کا فیصلہ ہوا ہے۔

قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ اور عوام کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی نیب کی اولین ترجیح ہے۔نیب کا ایمان -کرپشن فری پالیسی ہے۔ نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الا قوامی اداروں نے خصوصاََ ورلڈ اکنامک فورم کی حالیہ رپورٹ میں نیب کی آگاہی اور تدارک کی پالیسی کو سراہا ہے جو نیب کیلئے اعزازکی بات ہے۔چئیرمین نیب نے ہدایت کی کہ نیب میں جاری شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریوں اور انوسٹی گیشنز کو قانون کے مطابق مکمل کیا جائے تاکہ بد عنوان عناصر سے مبینہ طور پر قوم کی لوٹی گئی رقوم بر آمد کر کے قومی خزانہ میں جمع کروائی جاسکیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.