نیب کیسزمیں التوا کیوں ہورہا ہے،بڑے بڑے لوگ کیوں بچ جاتےہیں‌،نیب کی کارکردگی پرسوالیہ نشان ہے :مبشرلقمان

لاہور:نیب کیسزمیں التوا کیوں ہورہا ہے،بڑے بڑے لوگ کیوں بچ جاتےہیں‌،نیب کی کارکردگی پرسوالیہ نشان،باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان کے سنیئراورمعروف تجزیہ نگارمبشرلقمان نے پاکستان میں کرپشن اوربدعنوانی کے دیگرکیسز میں نیب کو مطلوبہ نتائج نہ ملنے نیب کی کارکردگی سے متعلق اہم گفتگو کی ہے

باغی ٹی وی کے مطابق اس حوالےسے سنیئرتجزیہ نگارمبشرلقمان نے نیب کے سابق سینیئرپراسیکیوٹرصاحبزادہ مظفرعلی سے ایک جامع اورٹودی پوائنٹ گفتگوکرکے اس مسئلے کے حوالے سے اہم نقات کھول کرسامنے رکھ دیئے ہیں

باغی ٹی وی کے مطابق سنیئرصحافی نے نیب کی کارکردگی کی حوالے سے بنیادی سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ نیب ملزم پرلگائے گئے الزامات ثابت کیوں‌ نہیں کرپاتا

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے صاحبزادہ مظفرعلی نے انکشاف کیا کہ پہلا تو مسئلہ یہ ہےکہ نیب کے پاس کسی بھی کیس میں‌ شامل ملزمان اگردس تک ہیں اوراکثرکیسز میں کم وبیش اتنے ہی لوگ مطلوب ہوتے ہیں‌، ان میں‌سے کئی بیرون ملک ہیں‌ تو ان کو واپس آنے میں چھ چھ ماہ لگ جاتے ہیں‌ اوراوردوسرا بڑا مسئلہ یہ ہےکہ جتنے ملزمان ہوتے ہیں اتنے ہی وکیل ہوتے ہیں‌اوریوں‌ وکیل ایک ایک شہادت کے معاملے میں‌کیس کوطول دیتے ہوئے کئی کئ ماہ لگا دیتے ہیں‌

صاحبزادہ مظفرعلی کہتےہیں کہ ملزمان کی حاضری کے بغیر کیس بھی نہیں چلا یا جا سکتا ، یوں کیسز ایسے ہی طول پکڑ لیتے ہیں‌

 

صاحبزادہ مظفرعلی نے دوسرا اہم نقطہ یہ بیان کیا کہ اگرکسی نیب کورٹ سے کوئی آسامی خالی ہوجائے تو اس کو پرکرنے کے لیے کئی کئی ماہ لگ جاتے ہیں‌

سنیئر صحافی مبشرلقمان نے ایک سوال کیا کہ کیا یہ سچ نہیں کہ نیب کوئی ریکوری ہی نہیں‌ کررہا ، تو اس کے جواب میں نیب کے سابق پراسیکیوٹرنے کہا کہ یہ بات درست نہیں‌ سب سے زیادہ ریکوری نیب نے ہی کی اوراس کی کامیابی کا رزلٹ 79 فیصد سے زائد ہے

مبشرلقمان نے کہا کہ نیب نے عام کاروباری افراد سے تو پیسے نکلوا لیئے لیکن سیاستدانوں سے کیوں نہیں نکلوا سکے ، صاحبزادہ مظفرعلی نے کہا کہ سیاستدانوں سے اچھی ریکوریاں کررہی ہے

صاحبزادہ مظفرعلی نے اس موقع پرکہا کہ اس حوالے سے ایک آرڈینینس ہونا چاہیے تاکہ ان بڑے طاقتوروں سے جلد از جلد قوم کا کھایا ہواپیسہ واپس لیا جاسکے، ان کا کہنا تھا کہ ویسے بھی یہ کوئی آسان کام نہیں بلکہ ایسے کیسز کومنطقی انجام تک پہنچانے کےلیے نیب کے ماہرین بڑی محنت سے کام کرتے ہیں

ایک اورسوال کے جواب میں نیب کے سابق پراسیکیوٹرکا کہنا تھا کہ اگرکسی شخص کے پاس کوئی پراپرٹی ہے تو اسے ثابت کرنے کےلیے ملزم کے پاس کھلے مواقع ہوتے ہیں ، لیکن اگروہ پھربھی ثابت نہ پائے تو پھریہ ایک غیرقانونی فعل بن جاتا ہے

سنیئرصحافی مبشرلقمان کے اس سوال کے جواب میں کہ لاہوراورایسے ہی بڑے بڑے شہروں میں بڑے بڑے مکانات والوں کے پاس تو پھرکوئی ریکارڈ نہیں تو کیا وہ بھی اس جرم کے مرتکب ہوئے ، اس سوال کے جواب میں نیب کے سابق پراسیکیوٹرکا کہنا تھا کہ ہرکسی پراس کا اطلاق نہیں ہوتا ، یہ زیادہ ترسرکاری ملازمین پراس کا اطلاق ہوتا ہے

ایک سوال کے جواب میں کہ کیا نیب کیسز کی روزانہ سماعت نہیں ہوتی تو پراسیکیوٹرنے بتایا کہ کسیز کے التوا میں نیب کی طرف سے کمزوری نہیں بلکہ دوسرے عوامل کا عمل دخل زیادہ ہے

ایک اورسوال کےجواب میں جس میں مبشرلقمان نے اشارتا خواجہ سعد رفیق کا حوالہ دیا کہ ان پرالزام توکروڑوں روپے کا تھا لیکن سات آٹھ ماہ کے بعد وہ بے گناہ قراردے کرچھوڑدیئے

نیب کے سابق پراسیکیوٹرصاحبزادہ مظفرعلی نے انکشاف کیا کہ کیسز کوزیادہ التوا میں ڈالنے میں ملزم کےوکیل کا بڑاکردار ہوتا ہے

ان کا کہنا تھا کہ نیب کی کارکردگی کو بہترکرنے کےلیے نئی قانون سازی ہونی چاہیے ، اعلیٰ عدلیہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے جس طرح سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے اور ساتھ ساتھ نیب کے ججوں کی تعداد میں اضافہ بھی ہونا چاہیے تاکہ بڑے بڑے مجرم اپنے کیفرکردار تک پہنچ جائیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.