fbpx

نفسیاتی دباو تحریر : تعمیر حسین

زندگی میں کوئ نا کوئ واقع ایسا رونماں ہوتا ہے جس سے انسان ڈپریشن کا مریض بن جاتا ہے اس کو نفسیاتی بیماری کہا جاتا ہے کیونکہ اس بیماری کا زیادہ اثر دماغ پہ پڑتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ  جسمانی کمزوری بھی ہونے لگتی ہےنفسیات ۔۔۔

نفسیات ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کو ماضی سے نہیں نکلنے دیتی ایک نفسیاتی انسان تلخ ہونے کے ساتھ ساتھ الگ تھلک رہنے لگتا ہے اسکو یہی لگتا ہے میں الگ دنیا کا ہوں مجھے کوئ سمجھ نہیں سکتا اور ہوتا بھی ایسے ہی ہے ایسے انسان کو ہم سمجھنے کے بجائے اور تکلیف دیتے ہیں اور وہ مزید تلخ ہوتا جاتا ہے

ایسا انسان توجہ کے ساتھ پیار چاہتا ہے انسان کو نفسیاتی بنانے میں اس کے اردگرد کا ماحول اور وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جن سے وہ جوڑا ہوا ہوتا ہے سوشل میڈیا کے تعلقات انسان کو  نفسیاتی بنانے میں سب سے پہلے ہے وقت گزاری سے کہیں لوگوں کی زندگیاں برباد ہوگئ عارضی تعلقات دکھ کا باعث بن کے انسان کو روحانی طور پہ ختم کررہے ہیں

دوسروں کو تکلیف دینا دل آزاری کرنا ہمارا مذہب اسلام نہیں سیکھاتا دوسروں کو محبتوں کے جال میں پھنسانا  اور کسی کا ناجائز فائدہ اٹھانا 

کیا یہ جائز ہے؟؟ جو ہر کوئ اس راہ پہ گامزن ہورہا ہے ہمارا مستقبل یہ تو نہیں تھا کہ اپنوں کی بربادی کا خود ہی سبب بنے خدارا ہوش کیجیے دوسروں کو عزت دیجیے استعمال نا کیجئے نفساتی بنانے اور کسی کو زندہ مار دینے میں کوئ فرق نہیں کسی کا دل دکھانے کی کوئ معافی نہیں

ایک نفسیاتی انسان یا تو خاموش ہوجاتا ہے یا پھر مختصر جواب دینے لگتا ہے وہ اپنی الگ دنیا میں رہنے لگتا ہے اسکو کسی سے لگاو نہیں رہتا نا وہ اپنا صیح خیال رکھ پاتاہے نا کھانے پینے کی اسکو خبر ہوتی ہے اور نا روز مرہ کے  کاموں پہ توجہ دے  پاتا ہے تنہا رہنے لگتا ہے اور کمتری کا شکار ہوجاتا ہے 

اور مایوسی میں جینے لگتا ہے 

ایسے انسان کو کسی دوسرے کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے ڈپریشن کا علاج باتوں سے بھی کیا جاسکتا ہےوہ یہی چاہتا ہے  کوئ اسکے سنے اور سمجھے 

وقت سب سے زیادہ قیمتی ہے دوسروں کو اچھا وقت دے انکے کام ائے اور نفسیاتی انسان پاگل نہیں ہوتا لہذا اس کو سمجھنے کی کوشش کریں اور دوسروں کے لیے ذہنی سکون کا باعث بنے اور سوشل میڈیا کے تعلقات سے پرہیز کیا جائے کیونکہ ہر کوئ اپنی اصل شناخت سے موجود نہیں ہوتا ایک انسان کے سو نام اور پہچان بنی ہوتی ہے اور مختلف چہروں میں چھپا ہوا ہوتا ہے اور سوشل میڈیا پہ ویسے بھی ہر کوئ نیک پرہیزگار بنا ہوتا ہے لازمی نہیں حقیقت میں وہ ویسا ہی ہو جیسا وہ ثابت کر رہا ہو خوشیار رہے خود کو ایسے لوگوں سے بچا کے رکھے جو اپکو ذہنی طور پہ بیمار کر دے اپنا خیال رکھا جائے  اور خود کو کاموں میں مصروف رکھے تاکہ اکیلا پن ڈپریشن کی بیماری میں مبتلا نا کرے 

تلخ ہونا کوئ عداوت نہیں 

مٹھاس میں زہر پوشیدہ نا ہو
         

Official Twitter Account ‎@J_Tameer