fbpx

گلوکارہ ناہید اختر نے زندگی کی 66 بہاریں دیکھ لیں

2007 میں گلوکارہ ناہید اخترصدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا جبکہ انہوں نے 3 بار نگا فلم ایوارڈ بھی حاصل کیا

تھا یقیں کہ آئیں گی یہ راتاں کبھی
تم سے ہو واں گی ملاقاتاں کبھی

ازقلم: آغا نیاز مگسی

اردو اور پنجابی زبان کی نامور پاکستانی گلوکارہ ناہید اختر 26 ستمبر 1956 میں ملتان میں محمد اختر کے گھر میں پیدا ہوئیں ۔ ان کی بڑی بہن حمیدہ اختر اپنے دور کی معروف گلوکارہ تھیں جس کو دیکھتے ہوئے ناہید اختر کے دل میں بھی گانے کا شوق پیدا ہوا چنانچہ 1970 میں محض 14 سال کی عمر میں انہوں نے ریڈیو پاکستان ملتان اسٹیشن سے پہلا گانا ریکارڈ کروا کر اپنی گائیکی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ۔

وہ اپنی خوب صورت آوز اور خوب خوب صورت شخصیت کی وجہ سے پاکستان کی صف اول کی مقبول ترین گلوکاراؤں کی فہرست میں شامل ہو گئیں اور ایک وقت میں تو صرف انہی کا طوطی بولتا تھا۔ شہر جنگل ، بازار اور گلی کوچوں میں ان کی آواز کی گونج سنائی دیتی تھی ۔ انہوں نے ریڈیو کے علاوہ فلموں اور ڈراموں کے لیے بھی گیت ، غزلیں اور نغمے ریکارڈ کروائے ۔

2007 میں انہیں صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا جبکہ انہوں نے 3 بار نگا فلم ایوارڈ بھی حاصل کیاموسیقی کی دنیا میں ناہید اختر کی مقبولیت عروج پر تھی تو ایسے وقت میں ایک صحافی آصف علی پوتا نے ان کا فن گائیکی کے متعلق اخبار کےلیےانٹرویو کیا اس انٹرویو کے دوران دونوں ایک دوسرے کو اپنا دل دےچ بیٹھے اور پھر 1992 میں ان کی یہ محبت شادی میں تبدیل ہو گئی جس کے بہت جلد دو سال بعد ناہید اختر نے گائیکی ترک کر کے گھریلو خاتون بننے کا فیصلہ کر کے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔

شادی کے بعد ناہید اختر نے اپنی تمام تر توجہ امور خانہ داری اور بچوں کی تعلیم اور تربیت پر دی ۔ 8 جولائی 2017 کو ان کے محبوب شوہر آصف علی پوتا کا حرکت قلب بند ہونے سے انتقال ہو گیا اس وقت آصف علی پوتا باغی کے ایڈیٹر تھے۔ ناہید اختر شادی کے بعد لاہور منتقل ہو گٙئیں تھیں اور اس وقت بھی وہ لاہور ہی میں مقیم ہیں ناہید اختر کے گائے ہوئے کئی گیت، غزلیں اور نغمے مقبول ہوئے جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں ۔

1 جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں
2 زندہ رہیں تو کیا ہے مر جائیں ہم تو کیا
3 اللہ ہی اللہ کیا کرو دکھ نہ کسی کو دیا کرو
3 تھا یقیں کہ آئیں گی یہ راتاں کبھی
4 چھاپ تلک سب چھین لی رے
5 . کچھ ان کی جفائوں نے لوٹا
6 ایسے موسم میں چپ کیوں ہو
7 . کسی مہرباں نے آ کر میری زندگی سجا دی
8 یہ رنگینی نوبہار اللہ اللہ
9 . تم سے الفت کے تقاضے نہ نبھائے جاتے