fbpx

نظام مصطفیﷺ کے لیے انفرادی کردار تحریر : اختر علی

کبھی لمحوں میں صدیاں بیت جاتی ہیں، کبھی لمحے گزارنے کے لیے صدیوں
انتظار کرنا پڑتا ہے۔ فطری عمل تو اپنی جگہ،انسان کی زہنی کیفیات گردش ایام کی پیمائش کرتی ہیں۔حضرت عزیر ؑ اور اصحابِ کہف ؓ کے واقعات تو معجزہ وکرامت سے منور ہیں ہی لیکن عامۃالناس پر یہ پیمائشیں اثراندازہوتی ہیں۔ فلم تین گھنٹے کی دیکھنے کے بعد بھی وقت کا پتہ نہیں چلتا اور نماز کا آدھاگھنٹہ بھی بوجھل محسوس ہوتا ہے۔ یہ چیزیں ہماری
روح، ضمیر اور سوچ کی سمت کاتعین کرتی ہیں۔ قبرکے امتحان میں اگر کامیاب ہو گئے تو صدیوں کی زندگی چند لمحوں میں گزرجائے گی اگر خدانخواستہ ناکامی ہوئی تو ایک ایک لمحہ اذیت ناک گزر ے گا اور کوئی چھڑانے والا بھی نہیں ہو گا۔
قارئین محترم!دنیا میں اربوں کھربوں انسان آئے،انتہائی مختصر زندگی بسرکی اوراپنا باب زندگی سمیٹ کر چل بسے۔انسان کے جانے کے بعد بھی اگرکسی شخص کا تذ کرہ ہوتاہے تو صرف اُس کے کردار کی بدولت ہوتا ہے۔ مال ومتاع،جاہ ومنصب توعارضی چیزیں ہیں۔ لیکن وہ چیز جوزندگی کےبعدبھی انسان کوجلاہ بخشتے گی وہ اس کا کرداراورمشن ہے۔روز ازل سے دو کردارہمیشہ مدمقا بل رہے ہیں۔لیکن بے سرو ں سامانی کے با وجود فتح نے ہمیشہ حق کےپلڑے میں اپناجھکاؤ رکھا۔معرکہ کربلا ہو یا نمرود کے دربار میں حضرت ابرا ہیم ؑ، غزوہ بدر ہو فرعون کے مقابلہ میں موسی ؑکاکردار، ہمارے لیےحق والوں کی معیت مشعل راہ رہی ہے۔ نمرود، فرعون، یزید اور ابو جہل مال ومتا ع، روپے پیسے، جاہ ومنصب اور حواریوں کی کثیر تعداد ہونے کے باوجود مٹ گئے۔آج ان کا نام لیوا تک نہیں رہا۔لیکن نیکوں کاروں کی سنگت کر نے والا چاہے اصحابِ کہف ؓ کا کتا ہو یا حضرت سلیمانؑ کے راستے پرآنے والی چیونٹی۔ان کے نام تا قیامت زندہ و تابندہ رہیں گے۔آج یہ کہاجاتا ہے کہ اسلام کی سر بلندی کے لیے اپنا کردار ادا کرو توجواب ملتاہےکہ ایک بندے کی کوشش سے کیا فائدہ ہو گا؟لیکن اصل بات کردارکی ہے۔حضرت ابرا ہیم ؑ کے لیے جب آگ جلائی گئی تھی تو ایک گرگٹ دورسے پھو نکیں مارنےلگا۔تا کہ آگ کی تپش میں اضافہ ہو جائے۔ وہ ایسا کر تو نہ کر سکا لیکن قیامت تک کے لیے نشان عبرت بن گیا۔ایک چڑیا اپنی چونچ میں پانی لاتی تاکہ حضرت ابراہیم ؑ کے لیے جلائی گئی آگ کو بجھا ئے گو کہ وہ آگ کوبجھاتونہ سکی لیکن بجھانے والوں میں شامل ہو گئی۔آج صدیوں بعد بھی اُس کا تذکرہ ہوتا ہے۔آج لاکھوں کی تعدادمیں کفارنے اسلام کے خلاف ویب سائٹس
لانچ کی ہو ئی ہیں۔جو مختلف میڈیا کے ذریعے ہماری نئی جنر یشن کے قلوب واذہان پر اثرات مرتب کر رہی ہیں۔کفار نے پلانگ کے تحت ہمیں مغلو ب کر نےکے لیے صدیوں پر محیط ورکنگ کی ہو ئی ہے۔ برِصغیر کے وائسرائے لارڈمیکا لے نے 1835 میں رعب ودبدبہ بٹھا نے کے لیے کہا تھا”یو رپ کی ایک الماری کی کتابیں برصغیرکے سارے لٹر یچر سے بہترہیں“۔حالانکہ اسے نہیں پتہ تھا کہ اس برصغیرکیے لٹر یچر میں قر آن مجید بھی ہے۔جس سے تمام علوم کے سر چشمے پھوٹتے ہیں۔اس نظریے کا تسلسل آج بھی نظر آرہاہے۔ہمارے لوگ یورپ کی نمو دو نما ئش سے مرعوب ہو کر وطن عز یز پاکستا ن کو چھو ڑ کر وہا ں رہا ئش پز یر ہو کر مغلوبی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
اگران تمام حالات کو بنظر غائر دیکھیں تو قصورہمارااپناہی ہےاجتماعی طورپریہ سوچ غالب ہو تی جارہی ہے کہ اگرمیں اپنے حصے کا کردارنہ بھی اداکروں توخیرہے کیوں کہ باقی جو سب اپنا کرداراداکررہے ہیں،حالانکہ ایساہوتانہیں۔ایک بادشاہ نے اپنی راعیہ سے کہا کہ تمام لوگ رات کےاندھیرے میں اس تالاب میں ایک ایک گلاس دودھ کا ڈال دیں جب صبح اٹھ کربادشاہ نے دیکھا تو ساراتالاب پانی کا بھراہواتھا۔اس نے جب معاملے کی تحقیق کی تو پتا چلا کہ ہر بندے کی سوچ یہ تھی کہ میرے ایک گلاس پانی ڈالنے سے کیاہو گاجب باقی سب نے دودھ ڈالناہے۔ یہ سوچ کروہ سبھی پانی کاگلاس ڈالتے رہے اور ساراتالاب پانی سے بھر گیا۔یوں اگرانفرادی کوشش نہ کی جائے تو نتیجہ غلط نکلتاہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے حصے کاکرداراداکرتے جائیں اورنتیجہ اللہ پرچھوڑدیں تو ضرور بہتری آئے گی۔
ہم دھوکہ کھانے کہ اتنے عادی ہوگئے ہیں کہ سچے لوگ سامنے آنے پر بھی اعتماد نہیں کرتے۔ اور ہاں! اگر دھوکہ کھانا ہی ہے تو کم از کم اسلام کےنام پر توکھائیں،نیت سچی ہونے کا ثواب تو مل جائے گا۔ حضرت عمر ؓ اپنےجس غلام کو دیکھتے کہ لمبی نماز پڑھ رہا ہے آپ ؓ اسے آزاد کردیتے،کسی نےکہا کہ یہ آپؓ کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں تو آپ ؓنے فرمایا کہ (مفہوم)کہ میں اللہ کے نام پرایسے ہزاردھوکے کھانے کو تیارہوں۔ترکی میں ہم نے دیکھاکہ عوام نے طیب اردگان کی ایک کال پر اتنی بڑی بغاوت کو کچل کر رکھ دیا۔ایسا تب ہوتا ہے جب لیڈر قوم کی توقعات پرپورا اترتا ہو۔مسلم اُمہ کی عوام کی سب سے بڑی توقع ایک ہی ہے کہ پوری دنیا پر اسلام کاپرچم بلند ہوجائے تاکہ برما،فلسطین،کشمیر،عراق
،افغانستان اورشام پرکفارکی بربریت ختم
ہو جائے اور ان کامال، جان، عزت اورآبرو محفوظ ہوجائے۔معیشت کی ثانوی
حیثیت ہے وہ خود بخود ٹھیک ہو جائے گی۔عوام کے جذبات اور اُمنگوں کی
ترجمانی کرنے والالیڈر جب بھی مل جائے گا ملک کی ترقی و خوشحالی کی منازل
بڑی برق رفتاری سے طے ہوں گی۔اقبالؓ کی روح تو آج بھی کہ رہی ہے۔
نہیں ہے نا اُمید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی
حضور ﷺنے فرمایا تھا کہ (مفہوم) ”کفار کا سب سے پہلا حملہ میری
اُمت کے نظام حکومت پر ہوگا،اور سب سے آخر پر حملہ نمازپرہوگا“(مستدرک
الحاکم)۔توآج وطنِ عزیزکے نظام کو کفار دوست ہاتھوں میں جانے سے بچانے کے
لیے ما لی و بدنی کرداراداکرنا چاہیے تاکہ آنے والی نسلوں کو قائد
اعظم اور علامہ اقبالؒ کے ویژن کے مطابق محفوظ اور خوشحال پاکستان فراہم
کر سکیں۔

DrAkAliOfficial