fbpx

نجی شعبہ کے ساتھ مشترکہ منصوبہ سازی کو تیار ہیں، وفاقی وزیر ریلوے

نجی شعبہ کے ساتھ مشترکہ منصوبہ سازی کو تیار ہیں، وفاقی وزیر ریلوے
وفاقی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کاروباری برادری کو ہرممکن سہولیات مہیا کرنے اور معاشی استحکام کے خواہاں ہیں،پاکستان ریلوے نجی شعبہ کے ساتھ مشترکہ منصوبہ سازی کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر کے صدر میاں طارق مصباح، سینئر نائب صدر ناصر حمید خان، نائب صدر طاہر منظور چودھری اور ایگزیکٹو کمیٹی اراکین سے لاہور چیمبر میں ملاقات کے موقع پر کیا۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو اوپر اٹھانے، امپورٹ ایکسپورٹ کی لاگت کم کرنے کے لیے ریلوے کو اپ گریڈ کرنا ناگزیر ہے، نجی شعبہ پاکستان ریلوے کی زمین پر پارٹنرشپ کے تحت منصوبے شروع کرے، ریلوے کی زمین فروخت نہیں کی جائے گی بلکہ لیز پر دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ایف بی آر میں بنیادی تبدیلیاں لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کارگو ٹرین کی ای ٹیکنگ جلد شروع کررہے ہیں، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ڈرائی پورٹس کو فعال کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوٹ لکھپت میں نجی شعبہ سے مل کر کارگوسنٹر بنائیں گے۔ لاہور چیمبر کے صدر میاں طارق مصباح نے کہا کہ پاکستان ریلوے نقل و حمل کا ایک انتہائی اہم ذریعہ ہے، دیگر ذرائع کی نسبت ریل کارگو سروس کم لاگت ہے ، زیادہ بہتر سہولیات کی فراہمی سے کاروباری برادری ان سے زیادہ استفادہ کرے گی اور کاروباری لاگت میں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ کچھ عرصہ کے دوران کارگو ویگنزکی عدم دستیابی کی وجہ سے ، تاجروں کو ٹرکوں کے ذریعہ سامان کی نقل و حمل کرنا پڑی جو ٹرین کارگو سروس کی نسبت بعض اوقات تین گنا تک مہنگا پڑتا ہے۔ ا

نہوں نے کہا کہ سی پیک پراجیکٹ کی وجہ سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ متوقع ہے لہذا ریلوے ٹریک کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ ایم ایل ون پراجیکٹ کی تکمیل کے بعد صورتحال میں نمایاں بہتری نظر آئے گی۔  پاکستان ریلوے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے نجی شعبے کے اشتراک سے نئے منصوبے شروع کیے جائیں۔ انہوں نے وزیر کو آگاہ کیا کو بانڈڈ اورنان بانڈڈ دونوں اقسام کے کنٹینرز کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ پاکستان ریلوے صرف بانڈڈ کنٹینر کو ترجیح دے اور اگر کوئی اضافی جگہ ہو تونان بانڈڈ کنٹینرز کو لوڈ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں کو کنسائنمنٹس کی کلیئرنگ کے لیے پانچ سے سات دن دیے جاتے ہیں، یہ وقت پندرہ دن تک بڑھایا جائے۔

لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ کارگوٹرین کی سست رفتاری کی وجہ سے شپمنٹس کو تاخیر ہوجاتی ہے اور تاجروں کو ڈیمرج برداشت کرنا پڑتا ہے۔ لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر ناصر حمید خان اور نائب صدر طاہر منظور چودھری نے کہا کہ لاہور ڈرائی پورٹ پر ہفتے میں دو سے تین دن تک کارگوٹرین دستیاب ہوتی تھی مگر یہ سروس معطل کردی گئی ہے جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہورہے ہیں، اسے بحال کیا جائے۔ لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے ٹرین حادثات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی روک تھام کے لیے سینٹرل ٹریفک کنٹرول سسٹم کو بہتر بنایا جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.