ناقابل ضمانت مقدمے میں ضمانت کیسے؟ تحریر: کنول زہرا

0
45

ہائبرڈ وار ریاست کے امور کو کمزور کرنے کے لیے سرگرم کی جاتی ہے, دشمن براہ راست پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج بہترین مہمان نواز ہیں نہ صرف زبردست ناشتہ کرواتے ہیں بلکہ ان کی چائے کے بھی کیا کہنے, دشمن نے بزدلوں کی طرح چھپ کا وار کرنے کا ایک اور حربہ آزمایا ہے جو ففتھ جنریشن وار کے نام سے جاننا جاتا ہے, جس کا مقصد ہے کہ ریاست کے اداروں خلاف اتنا جھوٹ بولو کہ سچ لگنے لگے, دشمن ایک عرصے سے مختلف  ہتھکنڈوں کے ذریعے سے پاکستان کے دفاعی اداروں پر حملہ آور رہا ہے,  کبھی لسانیات کی سوچ کے تحت وطن عزیز کو نقصان پہنچایا تو کبھی چھوٹے اور بڑے صوبے کی بات کی,  کبھی مسنگ پرسن کا چورن فروخت کیا تو کبھی فرقہ وارانیت کا زہر گھول کر قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کی

ظاہر ہے دشمن یہ کام بذات خود نہیں بلکہ ہمارے ہی لوگوں کو استعمال کر کے اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے, سب جانتے ہیں کہ دفاعی لحاظ سے افواج پاکستان دنیا کی آٹھویں بڑی فوج ہے اس تناظر میں دشمن سمجھتا ہے کہ پاک فوج ایک منظم اور مضبوط ادارہ ہے, جسے کمزور کرکے ناپاک عزائم میں کامیاب حاصل کی جاسکتی ہے, اس لئے وہ کچھ ناپختہ زہنوں کو اپنی جانب راغب کرکے اپنے بنائے تماشے میں استعمال کر رہا ہے. سابق وفاقی وزیر شریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کی ٹوئٹر ایکٹویٹی سے کون واقف نہیں ہے, وکالت سے وابستہ ہونے کے باوجود وہ ایسی غیر اخلاقی حرکات اور الفاظ کا استعمال کرتی ہیں جو پاکستانی معاشرے کی اقدار کے خلاف ہے, محترمہ کو نا * نہ* جانے کس بات پر افواج پاکستان سے شدید بغض ہے, ان کی غیر مہذب پوسٹس پر ان کی والدہ انہیں متنبے بھی کر چکی ہیں مگر انہوں نے اپنی والدہ کی ایک نہ سنی اور پاک فضائیہ کے سربراہ کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی کی اور ان کے گھر کی لوکیشن تک سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کردی, اتنی غیر ذمہ داری کا ثبوت تو عام آدمی نہیں دیتا  ہے جبکہ وہ وکیل ہیں اور با اثر قابل خاتون کی دختر ہیں مگر افسوس ان کی شخصیت میں کوئی مثبت اثر نظر نہیں آتا ہے.

ایمان مزاری اپنی تربیت کی دھجیاں بکھرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ہیں, کبھی ٹوئٹر پر اپنا خاندانی پس منظر بتا رہی ہوتی ہیں تو کبھی نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے سستی شہرت کی خاطر مسلح افواج کے خلاف ہرزہ سرائی کرتی نظر آتی ہیں, جس کا مقدمہ کوہسار تھانے اسلام آباد میں مختلف الزامات کے تحت درج ہوا تھا, جس میں مجرمانہ سازش، فساد، غیر قانونی اجتماع، ہتک عزت، امن کی خلاف ورزی اور حملہ کو اکسانے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین شامل تھیں تاہم ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے مطابق ایمان مزاری معزز وکیل ہے, نوجوان ہیں اس لئے کچھ جذباتی ہیں,  انہوں نے اس مقدمے کو مزید آگے نہ چلنے دیا اور پولیس کو ہتک عزت کے الزام میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا, سوال یہ ہے کہ کیا اس قدر جذباتی وکیل کوئی کیس عقل کے دائرے میں رہ کر لڑ سکتا ہے? اس لحاظ سے تو ان کی ذہنی کیفیت خاصی مشکوک ثابت ہوتی ہے, کیا ان کی ڈگری نظام عدل کے لئے موزوں ہیں؟

ایمان مزاری کی جانب سے پاک فوج کے خلاف پے در پے بے بیناد الزام تراشی کے تحت وار کرنے پر 27 مئی  2022 کو پاک فوج نے انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے, ایمان مزاری کے خلاف جج ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے, ایف ائی آر کے متن کے تحت بارہ مئی کی شام پانچ سے چھ بجے شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری نے پاک فوج اور اس کے سربراہ کے خلاف سرعام من گھڑت، بے بنیاد الزامات لگائے, 
آرمی قیادت کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔
جان بوجھ کر دیے گئے ریمارکس کا مقصد فوج کے رینکس اینڈ فائل میں اشتعال دلانا تھا۔
یہ اقدام پاک فوج کے اندر نفرت پیدا کرنے کا باعث بن سکتا تھا جو ایک سنگین جرم ہے۔
یہ بیان دینا پاک فوج کے افسروں، جوانوں کو حکم عدولی پر اکسانے کے مترادف ہے۔
پاک فوج اور سربراہ کی کردار کشی سے عوام میں خوف پیدا کرنا ریاست کے خلاف جرم ہے۔
متعلقہ قوانین کے تحت ایمان مزاری کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ پاک فوج کی جانب سے پہلی بار ایف آئی آر کا اندراج کر کے عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا ہے, یہ اس بات کا واضح ثبوت ہےکہ فوج عدلیہ کا احترام کرتی ہے, اس کے ساتھ ہی انہیں پاکستان کے نظام عدل پر پورا بھروسہ ہے,

سوال یہ ہے کہ کیا میڈیا اور سول سوسائٹی پاک فوج کو انصاف دلانے کے لیے آواز بلند کریں گے جیسے وہ  دیگر معاملات میں کرتے ہیں امید کی جا رہی تھی کہ عدالت حسب سابق ایمان مزاری کو معصوم, جذباتی, نوجوان, خاتون, یا وکیل ہونے کریڈٹ دیکر کلین چیٹ نہیں دئیگی بلکہ اب کی دفعہ انہیں باقاعدہ قانون کے دائرہ میں لاکر ان سے بازپرس کی جائے گی اور آئین و قانون کے مطابق ایسی مثال قائم کی جائے گی, جس کے اثرات مثبت اور باوقار ہونگے, مگر فی الحال ایسا نہیں ہوا بلکہ ایمان مزاری کو محض ایک ہزار کے مچلکے کے عوض نو جون تک عبوری ضمانت مل گئی

جیسے ہی ایمان مزاری پر ایف آئی آر  درج ہونے کی خبر آئی, ان کی جانب سے ایڈووکیٹ زینب جنجوعہ نے عبوری ضمانت کی درخواست عدالت میں پیش کی, جو فوری  منظور ہوگئی, جس کے تحت عدالت نے 9 جون تک ایمان مزاری کو گرفتار کرنے سے روک دیا,بعض صحافتی حلقوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کی اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی پر اسلام آباد ہائیکورٹ کیطرف سے دی گئی ضمانت قانون کی خلاف ورزی ہے, ایف آئی آر ناقابل ضمانت، ناقابل مصالحت ہے۔ عام آدمی کی طرح افواج پاکستان بھی وطن عزیز کے نظام عدل سے انصاف کے حصول کی منتظر ہے

Leave a reply