fbpx

ناراض بلوچوں سے مزاکرات تحریر: ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

 

وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے بلوچستان میں کھڑے ہوکر اعلان کیا کہ 

 ہم چاہتے ہیں کہ ناراض بلوچوں کو بھی راضی کیا جائے 

اس اعلان کے فوری بعد وزیراعظم صاحب نے اسلام آباد پہچتے ہی نواب اکبر خان بگٹی کے پوتے ایم این اے شاہ زین بگٹی کو اپنا معاون خصوصی کا درجہ دیتے ہوئے انہیں ناراض بلوچوں سے بات چیت کا اہم ٹاسک سونپ دیا جو کہ یقینن بہت خوش آئند بات ہے کیونکہ اگر ہمیں ایک مضبوط ،بہتر اور خوشحال پاکستان کی طرف گامزن ہونا ہے تو سب سے پہلے اپنے ناراض لوگوں کو سینے سے لگانا ہوگا ان کی داد رسی کرنی ہوگی ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے اندر اس احساس محرومی کا ازالہ کرنا ہوگا جس بنیاد پر وہ ہم سے روٹھے ہوئے ہیں اور اس میں کوئ شک نہیں کہ گھر سے روٹھا ہو /ناراض بھائ جب گھر چھوڑتا ہے تو قوی امکان  ہوتا ہے کہ اس ناراض بھائ کی ناراضگی کا فائدہ کوئ غلط بندہ اٹھائے 

ایک چھوٹے سے خاندان میں بھی جب گھر کا کوئ فرد ناراض ہوکر گھر سے نکلتا ہے تو سب سے ذیادہ گھر کے بڑوں کو ڈر اسی بات کا رہتا ہے کہ کہیں یہ کسی غلط صحبت میں نا چلاجائے کہیں نشہ شروع نا کردے یا کسی چوری،ڈکیتی میں ملوث لوگوں کے ساتھ ان کاموں میں نا پڑجائے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ناراض بندہ پھر جن کی صحبت اختیار کرتا ہے وہ اسے اور ورغلاتے ہیں تاکہ اس کے دل میں اپنوں کے لئے ذیادہ نفرت پیدا ہو 

یہی معاملہ ہمیں بلوچستان میں بھی دیکھنے کو ملے گا یہاں سے بھی کئ بلوچ بھائ جو ہم سے تھوڑے بہت ناراض تھے پھر وہ بیرونی قوتوں کے ہاتھوں میں گئے تو ان کے مزید ورغلاکر ہمارے خلاف کیا گیا ،یہاں تک کہ کچھ ناراض بلوچوں نے ہمارے دشمن ممالک کی کے ورغلانے پر ہمارے ہی خلاف ہتھیار بھی اٹھالئے ایسے لوگوں سے بات چیت کرنا حکومت کے لئے بہت مشکل ہوگا کیونکہ یہ لوگ اب ناراضگی کی حد سے کافی آگے نکل چکے ہیں یہ لوگ اب دشمن کے آلہ کار بنے بیٹھے ہیں ایسے ناراض بلوچ ملک سے باہر بیٹھ کر بلوچستان میں فنڈنگ کے زریعے اور اپنے بیانات و تقریروں کے زریعے بلوچستان میں بیٹھے نوجوانوں کو لڑوا رہے ہیں ہماری افواج کے ساتھ جوکہ ہمارے ملک کی تعمیر و ترقی میں بڑی رکاوٹ کا سبب بھی بنتے آرہے ہیں 

اس وقت حکومت کے پاس سب سے بہتر آپشن ہونا چاہیے بلوچستان میں بیٹھے ان نوجوانوں سے بات چیت کرنے کا ان کو پہاڑوں سے واپس لائیں ان کے مطالبات سنیں جو احساس محرومیاں ان کے اندر پائ جاتی ہیں ان مسائل کا حل نکالیں ،انہیں بتایا جائے کہ جن کی ایماء پر آپ لوگوں نے ہتھیار اٹھائے ہیں وہ لوگ تو انڈیا،روس ،فرانس،دبئ میں بیٹھے عیاشی کی زندگی گزارہے ہیں ان لوگوں کو بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی سے اب کوئ غرض نہیں وہ اب مکمل طور پر دشمن کے ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے آپ لوگوں کی ترقی و خوشحالی کا راستہ روک رہے ہیں آپ ان دشمن قوتوں سے اپنا رابطہ ختم کریں قومی دھارے میں آئیں تاکہ بلوچستان کی ترقی ،خوشحالی و بہتری کا سفر مزید بہتر انداز میں جاری رہ سکے 

آپ نا صرف اپنی حکومت اور افواج پر یقین رکھیں بلکہ آپ خود بھی عملی سیاست میں حصہ لیں محرومیوں کی نشاندھی کریں اپنے لوگوں کو ایسے سرداروں کے پیچھے چلنے سے روکیں جو دشمن قوتوں کی گود میں بیٹھ کر آپ کو غلط راستے پر چلنے کی ہدایات جاری کررہے ہیں ایسے نام نہاد سرداروں سے جان چھڑائیں اپنے ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیں انشااللہ بلوچستان کی ترقی و خوشحالی سے ہی ہم ملک دشمن قوتوں کو زیر کرسکتے ہیں 

یہ تو تھی ہماری رائے یقینن ہمارے ملک کے سربراہان ،افواج اور انٹیلی جنس اداروں سمیت پاکستان کے ان تمام طبقات کےپاس جوکہ بلوچستان کے ان ناراض دوستوں کو راضی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ان کے پاس بہترین آپشن کے ساتھ مزید کارآمد حکمت عملی بھی ہوگی 

ہمیں یقین ہے بلوچستان کا یہ مسئلہ جلد حل ہوگا پہاڑوں پر بیٹھے تمام لوگ جلد قومی دھارے میں شامل ہوکر اپنی تمام تر توانائیاں بلوچستان کی خوشحالی کے لئے صرف کریں گے ،اور دشمن ممالک کی تمام چالیں ایک بار پھر ناکام ہوں گی 

اللہ پاک ہمارے پیارے وطن پاکستان کو دشمن کی میلی نظر سے بچائے آمین