fbpx

ناراض بلوچ رہنمائوں سے مذاکرات، بلوچستان میں قیام امن کے لئے اہم پیشرفت .تحریر: خدیجہ رفیع

وزیراعظم عمران خان نے حالیہ دورہ بلوچستان میں واضح اعلان کیا کہ ناراض بلوچوں کو قومی دھارے میں لانے کے لئے مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے گا اس سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان نے جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ شاہ زین بگٹی کو معاون خصوصی مقرر کر دیا ہے۔اور وہ وزیراعظم کے بلوچستان کے لئے مفاہمت و ہم آہنگی کے امور پر معاون خصوصی مقرر کئے گئے ہیں۔
جبکہ دوسری طرف وفاقی حکومت کی طرف سے سید ظہور احمد آغا کو بلوچستان کا گورنر مقرر کیا گیا ہے، نئے گورنر آغا ظہور نے بھی ناراض بلوچ رہنمائوں سے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ناراض بلوچوں کو مذاکرات کا حصہ بننا چاہئے۔ شاہ زین بگٹی کی اہم عہدے پر تعیناتی وزیر اعظم عمران خان کے ناراض بلوچ رہنمائوں سے مذاکرات کے بیان کے بعد ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے جس کے مطابق حکومتی اتحادی جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ شاہ زین بگٹی وفاقی کابینہ کا حصہ بنے ہیں۔ شاہ زین بگٹی ناراض بلوچوں سے رابطہ کریں گے۔ شاہ زین بگٹی کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر ہوگا۔ دو روزقبل وزیراعظم عمران خان نے کوئٹہ میں طلبا اور بلوچ عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ناراض بلوچوں کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں غورو خوض کر رہے ہیں۔ ناراض ہونے والوں کو شاید دوسرے رنج ہوں اور وہ دوسرے ملکوں کے لئے استعمال بھی ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں بلوچستان کی طرف وہ توجہ نہیں دی گئی جو بلوچستان کے مسائل اور محرومیوں کے ازالہ کی متقاضی تھی۔ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ انمول اور قیمتی معدنیات کے ساتھ بلوچستان میں سونے تک کی کانیں ہیں۔ بلوچستان سے نکلنے والی گیس دیگر صوبوں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ پٹرول کے ذخائر بھی زیر زمین موجود ہیں اور پھر وفاق کی طرف سے بھی ہر دور میں بلوچستان کی ترقی کے لئے وسیع القلبی کا مظاہرہ دیکھا گیاہے مگر بلوچستان پسماندگی، غربت، مسائل اور مشکلات سے نہ نکل سکا۔ ماضی میں آغاز حقوق بلوچستان پیکج دیا گیا۔ پر امن مفاہمتی پالیسی کا اجرا ہوا۔ پاک فوج کی طرف کیڈٹ کالجز اور تعلیم و روزگار کے منصوبے شروع کئے گئے۔ بلوچستان کے لئے جس قدر بڑے بڑے مالی پیکجز سامنے آئے ان پر ان کی روح کے مطابق عمل ہو جاتا تو بلوچستان کی محرومیاں اور پسماندگی مکمل نہیں تو کافی حد تک ختم ہو جاتی۔ سارے پیکجز اور مراعات صوبے کے منتخب عوامی نمائندوں ، وڈیروں اور افسر شاہی کے توسط سے دی گئی تھیں۔ آج آمدن سے زائد اثاثوں میں لوگ ملوث و ماخوذ پائے جا رہے ہیں تو سمجھ آتی ہے کہ بلوچستان کا حق کس نے مارا۔

کسی صوبے کے لوگ جتنی بھی مشکلات و مصائب سے دو چار کیوں نہ ہوں اس کا مطلب ہتھیار اٹھا کر ریاست کو چیلنج کرنا نہیں ہے۔ بلوچستان میں محرومیوں کے نام پر علیحدگی پسند گروپ وجود میں آئے۔ ان کے پاس بھاری اسلحہ و بارود بھی ہے، ناموں سے بھی ان کے کردار اور عزائم کی بو آتی ہے۔ بلوچستان لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ، بلوچ ری پبلکن آرمی ۔ ان گروپوں کی قیادت ملک سے باہر پاکستان دشمن قوتوں کے وسائل پر پل رہی ہے۔ محرومی و پسماندگی کا شکوہ کرنیوالا ہر بلوچ ہتھیار بند نہیں ہے لیکن مذکورہ تنظیموں کے شدت پسندوں کے بہکاوے میں آنے والے کچھ لوگ ضرور ہو سکتے ہیں۔ ان کے ساتھ بات چیت میں تاخیر اور دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے والوں کی معافی نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے لئے اسی صورت گنجائش نکل سکتی ہے کہ وہ پاکستان واپس آئیں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کریں ماضی میں بھی دہشت گرد اور کالعدم گروپوں کے لئے کام کرنے والوں کو معافی دی گئی تھی۔ سینکڑوں افراد سرنڈر کر کے قومی دھارے میں آئے۔ایک دور میں وزیراعلی بلوچستان عبدالمالک بلوچ نے جلاوطن رہنمائوں سے مذاکرات کے لئے بیرون ملک دورے بھی کئے تھے۔ پاکستان کو مطلوب علیحدگی و شدت پسندوں کے سرغنہ بھارت ، اسرائیل اور یورپ میں بیٹھے ہوئے ہیں ان سب کو ایک بار وسیع تر مفاہمت کے جذبے کے تحت قومی دھارے میں آنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ اس مقصد کے لئے شاہ زین بگٹی بہترین انتخاب ہیں۔

بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کے لئے بگٹی خاندان کا مجموعی طور پر اہم کردار رہا ہے۔ شاہ زین بگٹی اور ان کے والد طلال بگٹی نے ہمیشہ ہم آہنگی اور یگانگت کی بات کی۔ لاپتہ افراد کی بازیابی اور بلوچستان کی محرومیوں پر شاہ زین کھل کر بات کرتے رہے ہیں مگر کبھی ہتھیار اٹھانے کی بات کی نہ ایسے لوگوں کے پلڑے میں وزن ڈالا۔ بلوچ ہونے کے ناطے ان کے بڑے قبائل کے ساتھ مراسم کا ہونا قدرتی بات ہے۔ وزیراعظم کی طرف سے ان کو جو مشن سونپا گیا ہے وہ اپنے تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے اس میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

آج کل علاقائی حالات بھی موافق ہیں۔ امریکہ افغانستان سے انخلا کر رہا ہے اور بھارت دم دبا کر افغانستان سے بھاگ رہا ہے۔ پاکستان میں دہشتگردی کے لئے افغانستان میں موجود نیٹ ورک کمزور پڑ گیا ہے۔ بھارت کو پاکستان میں دہشتگردی کے لئے دیگر ذرائع کی تلاش ہو گی۔ اس وقت تک پاکستان کو امن کی بحالی کے تمام تر ممکنہ اقدامات اٹھانے کی ہر ممکن کوشش کرنا ہو گی۔ افغانستان سے باڑ کی تنصیب سے دہشتگردی کے داخلے راستے مسدود ہو چکے ہیں۔ بلوچستان میں بھارت کے لئے کام کونیوالوں کو قومی دھارے میں لانا آسان ہے جو بھارت کی نمک خواری پر بضد رہیں۔ ان کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ اب جبکہ ان کی کمک منقطع ہو چکی ہیں مزید آسان ہے۔