fbpx

خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

نیو جرسی: امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’ناسا‘ نے ایک نئے پروگرام کے تحت 24 مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کرلی ہیں –

باغی ٹی وی :امریکی اخبار ’دی ٹائمز‘ کے مطابق ناسا نے جن 24 مذہبی رہنماؤں کی خدمات حاصل کیں ان میں مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے پیشوا بھی شامل ہیں جب خلائی ایجنسیاں زمین سے باہر رہنے کے قابل سیاروں اور اجنبی زندگی کی تلاش کے لیے نئی دوربینیں، روور اور تحقیقات شروع کر رہی ہیں، ایک برطانوی پادری ناسا کی یہ سمجھنے میں مدد کر رہا ہے کہ کس طرح ماورائے زمین کی دریافت کائنات کو دیکھنے کے انداز کو بدل دے گی۔

ناسا نےمشتری کے چاند کی پراسرار آوازوں کی ریکارڈنگ جاری کر دی

ریو ڈاکٹر اینڈریو ڈیوسن، کیمبرج یونیورسٹی کے ایک پادری اور ماہر الہیات، آکسفورڈ سے بائیو کیمسٹری میں ڈاکٹریٹ کے ڈگری ہولڈر، ان 24 ماہرینِ الہیات میں شامل ہیں جنہوں نے پرنسٹن میں سینٹر فار تھیولوجیکل انکوائری (CTI) میں ناسا کے زیر اہتمام پروگرام میں حصہ لیا۔ امریکہ اس بات کا جائزہ لینے کے لیے کہ دنیا کے بڑے مذاہب اس خبر پر کیا ردعمل ظاہر کریں گے کہ ہمارے علاوہ اور ہمارے جیسی اور بھی مخلوق ہے-

رپورٹ کے مطابق قریباً ایک سال تک جاری رہنے والے اس پروگرام کا مقصد خلائی مخلوق سے رابطے کی صورت میں مذہبی نقطہ نگاہ کو جاننا، سمجھنا، اور اسے مدنظر رکھتے ہوئے مناسب ترین ردِعمل کا تعین کرنا ہے۔

ناسا نے ایک اور کامیابی،خلائی جہاز پہلی بار سورج کے قریب سے گزر گیا

کائنات میں زمین جیسے سیاروں کے علاوہ وہاں پر انسان جیسی ذہین اور ترقی یافتہ مخلوق ملنے کے امکانات بہت روشن ہیں لیکن اب تک ایسی کسی ’خلائی مخلوق‘ سے ہمارا کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ آنے والے ہزاروں سال تک ہمیں خلائی مخلوق کا کوئی سراغ نہ ملے، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ آئندہ چند مہینوں کے دوران ہمیں اپنے جیسی کسی ذہین خلائی مخلوق کا پیغام موصول ہوجائے۔

ایسی صورت میں ایک پوری نوعِ انسانی کی حیثیت سے ہمارا جامع ترین جواب کیا ہونا چاہیے جو ہماری علمی سطح کے ساتھ ساتھ مذہبی عقائد کا اظہار بھی کرے؟ اس منصوبے کا مقصد یہی تعین کرنا ہے۔

امریکی جاسوس ڈرونز آبدوز کامنصوبہ دوسرے اور نئے مرحلے میں داخل

سال بھر جاری رہنے والے اس پروگرام کو ’فلکی حیاتیات کے سماجی مضمرات‘ کا عنوان دیا گیا ہے جو پرنسٹن یونیورسٹی، نیو جرسی کے ’مرکز برائے مذہبی تحقیق‘ (سینٹر فار تھیولوجیکل انکوائری) یا مختصراً ’سی ٹی آئی‘ میں منعقد کیا جارہا ہے۔

امریکی اخبار ’دی ٹائمز‘ میں اس پروگرام کی تفصیلات منظرِ عام پر آنے کے بعد سے یہ چہ مگوئیاں بھی شروع ہوگئی ہیں کہ شاید ناسا نے خلائی مخلوق دریافت کرلی ہے یا اس کا رابطہ کسی ذہین خلائی مخلوق سے ہوگیا ہے تاہم اس بارے میں اب تک ناسا کی جانب سے کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔

چین نے”ناسا” کو بھی پیچھے چھوڑدیا، دنیا کا طاقتور ترین ” خلائی…

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!