fbpx

نشہ ایک معاشرتی ناسور ہے تحریر: موسی حبیب راجہ

ہم ایک ایسے بیمار اور غیر صحت مند معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں دہشت گردی ،قتل عام، بدامنی، اغواکاری، بےروزگاری، ناانصافی،بد عنوانی، جنسی زیادتی اور نشہ اوری اور دوسری غیر انسانی، غیر اخلاقی اور وحشیانہ سرگرمیاں عروج پر ہیں۔اور ملکی ادارے جوکہ مختلف ادارے ہیں اور سب کا اپنا اپنا کام ہے یہ سارے ملکی حالات کو قابو کرنے میں بلکل ناکام نظر آتے ہیں۔
ویسے تو ہمارا معاشرہ بہت سے مساٸل سے دوچار ہے اور ہر مسٸلے پر الگ الگ بحث و مباحثہ تفصیلی طور پر کیاجاسکتا ہے لیکن آج میں جس مسٸلے کو قلم کی نوچ پر لا رہا ہوں وہ ہے:
"نشہ آوری اور منشیات.”
نشہ اسلامی طور پر حرام و ممنوع ہے جبکہ سماجی طور پر ایک لعنت اور ساٸینسی طور پر مضر صحت ہے ۔ ہمارے معاشرے میں سگریٹ، شراب نوشی، چرس، ہیروٸن، شیشہ، اور دوسری قسم کی زہریلی گولیاں اور انجکشنز گلی گلی، شہر شہر، مارکیٹوں اور حتی کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں استعمال ہورہے ہیں اور منشيات کو کنٹرول کرنے والے ادارے جیسے کہ انسداد منشیات فورسز، پاکستان ایکساٸز، پاکستان کوسٹ گارڈ، ایف سی اور صوبائی محکمہ پولیس شامل ہیں۔ اگر ہم ان ملکی اداروں کی کارکردگی پر نظر دوڑاۓ تو ہمارے سارے ملکی انسداد منشيات کنٹرول کرنے والے ادارے اس میں بلکل ناکام نظرآتے ہیں۔
اگر ہمارے ملکی ادارے ہمارے ملک میں بندوق اور طاقت کے بل بوتے پر گھر گھر، گلی گلی،شہر شہر اور پورے ملک میں پولیوں کے قطرے پلاسکتے ہیں تو نشہ اور منشيات اور منشيات فروخت کرنے والوں کو کیخلاف کاروائی کیوں نہیں کرسکتے؟
نشہ اووری ایک ایسا زہر ہے جو کسی کو ذہنی، جسمانی اور اخلاقی طور پر کھوکھلا کر دیتا ہے اور آخرکار موت کا سبب بن جاتا ہے۔ نشہ اوری کسی کو سماجی اور معاشرتی طور اکیلا، پاگل، بدکردار، ساٸل، چوری اور گداگری جیسے سرگرمیوں پر مجبور کرلیتا ہے اور نشے کے عادی لوگ ہمیشہ اپنے والدین، بیوی بچوں، رشتہ داروں، دوستوں سے غم اور خوشی میں اپنوں سے دور، لاپرواہی، لاعلمی،دینی، سماجی و معاشرتی عالم میں خوار اور ذلیل زندگی بسر کرلیتے ہیں۔
نشہ اووری اور منشیات کی سب سے بڑے وجوہات و اسباب بری صحبت، بےروزگاری اور احساس کمتری ہیں۔ایک کہاوت ہے کہ” خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے” اس سے یہ صاف صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شخص جو کسی معاشرے کو اپناتا ہے تو وہ اسی معاشرے میں سیکھ کر اور اسی معاشرے کی عکاسی کرتا ہے اگر معاشرہ مثبت اور نیک چلن ہو تو بندہ باکردار اور معاشرتی تعميرات میں ایک اہم کردار ادا کرلیتا ہے اور اگر معاشرہ منفی اور مجرمانہ ہو تو بندہ ضرور مجرم اور تخریب کار سوچ کا مالک بن جاتا ہے ۔اور دوسری طرف وہ معاشرہ جہاں کام کاج اور روزگار نہ ہو اور بندہ احساس کمتری کا شکار ہوجاۓ تو وہ معاشرے سے علیحدگی اختیار کرلیتا ہے اور معاشرتی مسائل جیسے منشيات، چوری ڈکیتی اور دوسرے مجرمانہ، غیر اخلاقی اور تخریب کاری جیسے سرگرمیوں میں مبتلا ہوتاہے۔
تو میرے ہم وطنوں! آٸیے کہ ہم سوشل میڈیا پر ایک مہم چلاٸیں اور وقت حکومت سے یہ اپیل کریں کہ خدارا اب ہمارے حال پر رحم کریں ہمارے نوجوان نسل پر رحم کریں ہمیں جینا ہے اور صرف جینا بھی نہیں بلکہ ہم ایک صحت مند معاشرہ چاہتے ہیں جہاں یہ نشہ اور منشیات کے اڈے نہ ہوں اور آٸیے کہ ہم حکومت وقت سے یہ گزارش کریں کہ یہ جو منشيات کے اڈے ہیں اس کے خلاف کاروائی کریں اور ہماری آنے والی نسلوں کو اس معاشرتی ناسور سے بچایا جاۓ۔

Writer Details 


Musa Habib Raja is a Social Media Activist, Freelance Journalist Content Writer and Blogger. He is associated with various leading digital media sites in Pakistan and writes on political, international as well as social issues To find out more about him please visit his Twitter

 

The rest of Musa Habib Raja Articles and Twitter Timeline


t;