fbpx

نشہ سے آپکی زندگی کیسے تباہی و برباد ہوتی ہے میری تحریر پڑھیںِ۔ تحریر۔ فرزانہ نیازی

:
نشہ کیا ہے یہ سوال ذہن میں آتا ہے جواب نشہ موت ہے جو آپکی زندگی کو آہستہ آہستہ سے کھوکھلا کرتا جاتا ہے نشے کی اقسام کون کون سی ہیں یہ جانیے
افیون گانجا ہیروئن شراب آئیس پٹرول پالش ثمر بوند پوڈر اور انجیکشن نشہ کرنے والا شخص کسی کا نہیں ہوتا آخر میں وہ اپنے ماں باپ کو بھی بیچنا چاہے گا آپ سوچتے ہیں نہ نشہ کرنے میں کچھ نہیں ہوگا میں بتاتی جاؤں کہ
آخر میں آپکے اپنے آپکے ماں باپ بلکے آپکی اپنی اولاد تک آپکا ساتھ چھوڑ جاتی ہے یہ اتنی بری علامت ہےاس شخص کی نہ اللّٰہ کے سامنے کوئی قدر رہتی نہ ہی دنیا میں کوئی عزت کرتا ہے یہ بات میں قسم کھا کر بھی کہ سکتی ہوں میں آنکھوں دیکھا حال بیان کر سکتی ہوں میری دوست بہت ہی اچھے گھرانے سے تعلق ہے ہمارے ساتھ کالج میں پڑتی تھی ہمارے کالج میں نشہ وار چیزوں کا عام استعمال ہوتا ایک دن ایک ایسی لڑکی سے اسکی دوستی ہوئی جو نشہ وار چیزیں بہت کرتی تھی کالج میں ٹیچرز کو کوئی پرواہ ہی نہیں تھی نہ وہ دیکھتے جا کے کیا ہو رہا ہے میری دوست نے انجکشن لگوا لیا وہ کسی کو کچھ نہیں بتاتی دوسرے دن پھر لگوا لیا مجھے پتا نہیں تھا ایسے گم سم رہنے لگی کسی چیز میں دلچسپی نہیں لیتی تھی یہ سلسلہ 1 مہینہ چلتا رہا اچانک سے اسکی شادی ہو گئی میرا ربطہ ہوا تو اس نے مجھے بتایا سب کچھ میں کافی پریشان ہو گئی سوچا اسکے گھر والوں کو بتاؤ پر اس نے مناہ کر دیا بہت ہی مشکل ٹائم تھا اس کیلئے اسے نشہ بلکل نہیں مل رہا تھا وہ نشے کی اتنی عادی ہو چکی تھی 1 دن نہیں ملتا تو سکا جسم ٹوٹتا تھا غصے سے چختی تھی چلاتی تھی بستر پر ہو جاتی تھی سسرل والے کافی سخت تھے انکو نہیں بتا تھا وہ ایسا کیوں کر رہی ہے نہ وہ گھر سنبھال سکتی تھی نہ کی سسرال والوں کی پروا تھی خود کو بھی بھول گئی فقیروں جیسی حالت ہوگئی کوئی دوا اثر نہیں کرتی اس نے اپنے سسرال والوں کو مجبور ہو کر بتایا میں نشہ کرتی ہوں انجکشن لگاتی ہوں خود کو تبھی چل پاتی ہوئی اگر انجکشن نہ ملے تو مجھے دنیا کا ہوش نہیں رہتا جیسے ہی شوہر نے سانس فارن طلاق ہوگئی آج وہ کہاں کچھ پتا نہیں بہت سمجھایا گھر والوں نے پھر انھوں نے بھی آہستہ آہستہ ساتھ چھوڑ دیا نہیں جانتی وہ کہاں ہے کس حال میں نشہ کی روک تھام کیلئے ہماری گورنمنٹ کو جلد از جلد ایکشن لینا ہوگا پاکستان میں نشہ کا استعمال بہت ہی عام ہوتا جارہا ہے اسکی وجہ گورنمنٹ کی نااہلی ہے کچھ شہروں میں عام میڈیکل سٹور زیادہ سیل نہیں ہو رہا پر ایسا ہو بھی رہا ہے عمران خان کے اپنے آبائی شہر میانوالی میں بڑے بڑے میڈیکل سٹورز پر نشہ بیچا جارہا ہے یہ ہمارے مستقبل کا سوال ہے ہماری آنے والی نشہ میں مبتلا نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے اور قریب دس سے اٹھارہ سال تک کے بچے جو چائلڈ لیبر ہیں وہ عام سوسائٹی کی نسبت اس کا زیادہ شکار ہیں
جبکہ کالج لیول اور یونیورسٹی لیول اور عام سوسائٹی میں شراب چرس آئیس اور انجیکشن وغیرہ کے نشے زیادہ مقبول ہیں نشے کی فراہمی بہت عام ہوتی جارہی ہے مجھے افسوس ہے اور یہ اندرونے اور بیرون ملک عام سے ماحول میں باآسانی سمگل ہو رہے ہیں ان سب میں اہم بات یہ کہ ان تمام نشہ آور نشوں میں جب عام نشوائی تک ترسیل ہوتی ہے تو کوئی بھی نشہ حالص حالت میں نہیں آتا بلکہ مختلف چیزوں کی ملاوٹ کے ذریعے مقدار بڑھا کر مزید خطرناک کیا
جاتا ہے ۔۔۔!!!

@Miss__niazi