fbpx

قومی احتساب بیورو کا ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس :بڑے فیصلے لیے گئے

اسلام آباد : قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جنا ب جسٹس جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹر ز اسلام آبادمیں منعقد ہوا۔اجلاس میں حسین اصغر، ڈپٹی چئیرمین نیب،سید اصغر حیدر،پراسیکوٹر جنرل اکاؤنٹبلیٹی، نیب،ظاہر شاہ،ڈی جی آپریشنز اور دیگر سینئر افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔ نیب کی یہ دیرینہ پالیسی ہے کہ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بارے میں تفصیلات عوام کو فراہم کی جائیں جو طریقہ گزشتہ کئی سالوں سے رائج ہے جس کا مقصد کسی کی دل آزاری مقصود نہیں۔ نیب ایک انسان دوست ادارہ ہے جو ہمیشہ قانون کے مطابق ہر شخص کی عزت نفس کا احترام کر نے پر سختی سے یقین رکھتا ہے۔نیب کی تمام انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز مبینہ الزامات کی بنیاد پر شروع کی جاتی ہیں جوکہ حتمی نہیں ہوتیں۔ نیب قانو ن کے مطابق تمام متعلقہ افراد سے بھی ان کا موقف معلوم کر نے کے بعدمزید تحقیقات کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تاکہ انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کیا جائے۔

قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں سید تجمل حسین کے خلاف بدعنوانی کے ریفرنس کی منظوری دی گئی۔ملزم نے غیر قانونی ٹیسٹنگ کمپنی کے ذریعے جعلی اور متعلقہ محکموں میں آسامیاں نہ ہونے کے باوجود ان آسامیوں کی اخبارات میں تشہیر کی بلکہ دھوکہ دہی اور فراڈ کے ذیعے بڑے پیمانے پر عوام الناس کو نہ صرف لوٹا بلکہ ان سے بھاری رقوم بھی وصول کیں۔
قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں 4 انکوائریز کی منظوری دی گئی۔جن میں مفتاح اسمٰعیل احمدسابق وزیر خزانہ اور دیگر،نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے افسران /اہلکاران اور دیگر کے خلاف دو انکوائریز،محکمہ آبپاشی اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ پشاورکے افسران/اہلکاران اور دیگر کے خلاف انکوائریز کی منظوری شامل ہے۔
قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈکے اجلاس میں مالم جبہ کیس میں میسرز سیمسن گروپ کی طرف سے معزز پشاور ہائی کورٹ میں دائر رٹ پٹیشن اوراس سلسلہ میں معزز پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری خیبر پختونخواہ کی سر براہی میں بنائی گئی کمیٹی اور متعلقہ کمیٹی کی سفارشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹینڈرنگ پراسیس میں بعض بے ظابطگیوں کی قانون کے مطابق محکمانہ تحقیقات کے لئے کیس کو چیف سیکرٹری خیبر پختونخواہ کو اس Condition کے ساتھ بھجوانے کی منظوری دی کہ متعلقہ کیس میں اگرکسی معزز عدالت کا حکم امتناہی اورقانون کے مطابق کوئی امر مانع ہوا تو متعلقہ کیس کو قانون کے مطابق مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بعددیکھا جا سکے گا۔

قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جناب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ میگا کرپشن مقدمات خصوصا شوگر، آٹا، منی لانڈرنگ، جعلی اکاؤنٹس، اختیارات کا ناجائز استعمال، آمدن سے زائد اثاثے، غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور مضاربہ سکینڈل کے ملزمان کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے۔نیب نے گزشتہ تین سالوں میں 533 ارب روپے بلواسطہ اور بلاواسطہ طور پربدعنوان عناصر سے برآمد کئے جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔

چئیرمین نیب نے کہا کہ نیب بزنس کمیونٹی کی ملک کی ترقی کیلئے خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔چئیرمین نیب نے کراچی،لاہور،اور اسلام آباد کے علاوہ نیب ہیڈکوارٹرز میں بزنس کمیونٹی کے رہنماؤں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل حل کرنے کیلئے نہ صرف فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے انکم ٹیکس،سیلز ٹیکس اور انڈر انوائسنگ کے مقدمات ایف بی آر کو بھجوادئیے بلکہ نیب ہیڈ کوارٹر اسلام آبادمیں ایک ڈائریکٹر کی سربراہی میں بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کے لئے سپیشل ڈیسک قائم کیا جس پربزنس کمیونٹی کے رہنماؤں نے چئیرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہاکہ بیوروکریسی کسی بھی ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ قومی احتساب بیورو بیوروکریسی کا نہ صرف احترام کرتا ہے بلکہ ان کی خدمات کو قدر کی نگا ہ سے دیکھتا ہے۔نیب کے چئیرمین جنا ب جسٹس جاوید اقبال سابق قائم مقام چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان،سابق چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ سمیت ملک کے مختلف اداروں میں اہم ذمہ داریاں سر انجام دے چکے ہیں اس لئے وہ بیوروکریسی کے مسائل سے بخوبی آگا ہ ہیں۔

انہوں نے2017 میں قو
می احتساب بیورو کے چئیرمین کے منصب کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد کابینہ ڈویژن اسلام آباد میں وفاقی سیکرٹریز، پنجاب کے دارلحکومت لاہور میں صوبائی سیکرٹریز اورصوبہ خیبر پختونخواہ کے دارلحکومت پشاور میں سیکرٹریز سے خطاب کیا اور ان کے سوالات کے تسلی بخش جوابات دئیے جس پر بیوروکریسی نے چئیرمین نیب کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہاکہ نیب کے 1273 ریفرنسزمعزز احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جن کی مالیت تقریباََ 1300 ارب روپے ہے۔ چئیرمین نیب نے کہا کہ پلی بارگین کی منظوری معزز احتساب عدالت دیتی ہے۔ پلی بارگین میں ملزم نہ صرف اپنے جرم کا اعتراف کرتا ہے بلکہ ملک و قوم کی لوٹی گئی رقوم کی واپس کرتا ہے۔ نیب نے اپنے قیام سے اب تک814 ارب روپے بدعنوان عناصر سے بلواسطہ اور بلا واسطہ طور پر برآمدکئے ہیں جو کہ ایک ریکارڈ کامیابی ہے۔

چئیرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں /کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور مضاربہ سیکنڈلز کے ملزمان سے عوام کی لوٹی گئی رقوم کی واپسی کیلئے نہ صرف سنجیدہ کاوشیں کر رہا ہے بلکہ نیب نے اربوں روپے غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیوں /کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے ملزمان سے بر آمد کر کے متاثرین کو واپس کئے ہیں جس پر متاثرین نے نیب کا شکریہ ادا کیا۔چئیرمین نب نے کہاکہ نیب اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کنونشن کے تحت پاکستان کا فوکل ادارہ ہے۔اس کے علاوہ نیب سارک اینٹی کرپشن فورم کا چئیرمین ہے۔نیب کی کارکردگی کو معتبر قومی اور بین الاقوامی اداروں جن میں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان،ورلڈ اکنامک فورم،گلوبل پیس کنیڈا،پلڈاٹ اور مشال پاکستان نے سراہا ہے جبکہ گیلانی اینڈ گیلپ سروے کے مطابق 59فیصد افراد نے نیب پر اعتماد کا اظہار کیا۔نیب دنیا کا واحد ادارہ ہے جس کے ساتھ چین نے انسداد بد عنوانی کے لیئے ایم او یو پر دستخط کئے جو کہ نیب کے لئے اعزاز کی بات ہے۔