قومی اسمبلی، بجٹ پر بحث کے دوران ایوان خالی رہا، حکومتی ممبران کی بھی چینی، گھی پر ٹیکس کی مخالفت

بجٹ پر 5منٹ کی تقریر کاموقع دینے پر ارکان نے غصہ صدر نشین پر نکال دیا،صدرنشین نے کہاکہ آپ کی پارٹی نے آپ کوکم وقت دیاہے میں کیاکروں ،قومی اسمبلی میں حکومتی اتھادی نے بلوچستان کے این ایف سی میں تین فیصد کمی کومسترد کردیاکسی صورت اپنا حصہ نہیں دیں گے بلوچستان کوہمیشہ نظرانداز کیاگیا، حکومتی ممبران نے بھی چینی ،گھی سیمنٹ پر ٹیکس کی مخالفت کرتے ہوئے قیمت کم کرنے کامطالبہ کردیا۔ خزانہ لوٹنے والے قوم کا پیسہ واپس کریں سیاست سے تائب ہوکر اللہ اللہ کریں آئی جے آئی میں ضمیر فروخت کرکے سیاست کی بات کرتے ہیں،

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایم ایم اے نے فاٹاکے ممبران قومی اسمبلی کے پروڈکشن آڈر جاری کرنے کامطالبہ کردیا۔ہفتہ کوقومی اسمبلی میں پارلیمانی جماعتوں کے ممبران کے بجٹ بحث پر ایوان خالی خالی رہا،قومی اسمبلی کی نشستوں کی پہلی لائن میں اپوزیشن اور حکومتی دو دو رکن ہی بیٹھے رہے جو کبھی بیٹھتے کبھی چلے جاتے ۔تحریک انصاف کے ممبر ثنا اللہ مستی خیل نے خظاب کرتے ہوئے کہاکہ میانوالی کی سڑکیں کھنڈرات بن گئی تھی اس بجٹ میں اس کے لیے رقم رکھی گئی . آئی جے آئی میں ضمیر فروخت کرکے سیاست کی بات کرتے ہیں نہ کرپشن نہ کریں گے نہ کرنے دیں گے ایم کیوایم کے صابر قائم خانی نے کہاکہ کراچی کو حق دیا جائے. درآمدات کے بجائے مقامی سطح پر چیزیں بنائی جائیں نیشنلائز کرکے انڈسٹری کو تباہ کیا گیا اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے۔

پیپلزپارٹی کے ممبر میرمنور علی تالپور نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے احتجاج کے بعد پرڈکشن آڈر جاری کرنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں آصف علی زرداری ویژنری لیڈر ہیں. اسمبلی میں نہ وزیراعظم نہ وزیر ہیں بلوچستان کو نظر انداز کیا جارہاہے رکشے کا بھی کرایہ 50روپے نہیں ہے مگر یہ کہتے ہیں کہ ہیلی کاپٹر 50روپے کا خرچہ ہے پانی کا مسئلہ ہے کپاس پر سبسڈی دیں سٹیل مل کو مشرف دور میں تباہ کیاگیامزدور یونین کو ختم کیاگیا۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے ممبرقومی اسمبلی روبینہ عرفان نے خطاب کرتے ہوئے کہاکی شکر ہے دس ماہ بعد موقع دیا ایوان میں بھی بلوچستان کو نظر انداز کیاجاتاہے۔بلوچستان کا این ایف سی میں کمی برداشت نہیں کی جائے گی کسی صورت اپنا حصہ کم کرنے نہیں دیں گے بجٹ پر کوئی مشاورت نہیں کی گئی بلوچستان کے لہری کے علاقے میں نہ پانی نہ بجلی ہے بلوچستان میں ہسپتال تک نہیں ہے۔قائداعظم کے ساتھ بلوچوں جیسا سلوک کیاگیا.بلوچستان سے نکلنے والے معدنیات چین گیا اس کاحصہ گیاکہاں ؟ باختیار کمیٹی بنائیں اور ہمیں جواب دیںبجٹ میں بلوچستان کے 17ہزار ٹیوب ویلز کے لیے بجٹ نہیں رکھا گیا ہے۔

مسلم لیگ ن کے ممبر قومی اسمبلی سید جاوید حسنین نے کہاکہ تین سو بتالیس کے ایوان میں تین سوممبران کا بجٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے انہوں نے نہیں بنایاہے آج تک کشکول توڑنے کی پالیسی نہیں بنائی گئی زراعت کے بارے میں اپنے پالیسی پر نظر ثانی کریں سبسڈی دیں. وراثتی جائیداد پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔

تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی میاں محمد شفیق نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن لیڈر نے صرف عمران خان پر تنقید کی بجٹ تجویز نہیں دی ہیں ۔تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی گل داد خان نے کہاکہ ملک کا قرض 31ہزار ارب تک پہنچ گیاہے. مالی استحکام کا یہ سال ہے ٹیکس کا نظام ٹھیک نہیں ہے ہماری حکومت اس کو ٹھیک کررہی ہے چینی آٹے گھی اور سیمنٹ پر ٹیکس کم کیاجائے۔ایم ایم اے کے ممبر مولانا جمال الدین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت 17500میں بجٹ بناکردے یہ کم ہے اس میں اضافہ کیاجائے دو سابق فاٹاکے ارکان کا بھی پروڈکشن آدر جاری کیا جائے وہ بھی اس ایوان کا حصہ ہیں سرکاری ملازمین کے تنخواہوں میں اضافہ کم اور ٹیکس زیادہ لگایا گیا ہے کہ عوام کو دھوکا دیاجارہاہے۔

تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی صالح محمد نے کہاکہ حکومتی آمدن کاایک ایک بڑا حصہ قرض کاسود اداکرنے میں چلاجاتاہے تو ان حالات میں عوام دوست بجٹ نہیں بن سکتاہے .ملک کے تمام اداروں کو تباہ کیاگیا. ہر بجٹ پر تنقیدہوتی ہے. ذاتی ائیر لائن منافع اور قومی ائیر لائن خسارے میں ہے۔

مسلم لیگ ن کے ممبرقومی اسمبلی چوہدری حامد حبیب نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ملکی تاریخ میں پہلی بار تین تین بجٹ پیش کئے معیشت کے ارسطو نے قومی کو گالی گلوچ پرلگایا. ریاست مدینہ کے نام پر ملک و قوم کے جذبات سے کھیلا. یہ اسمبلی سے باہر غربت کو ختم کرنے کی بات کرتے تھے اب غریب کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں۔رفیق جمالی نے بھی خطاب کیا۔ یاد رہے کہ پچھلے چند دنوں‌ سے قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث چل رہی ہے اور اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ کی کھل کر مخالفت کی جارہی ہے.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.