ورلڈ ہیڈر ایڈ

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس، چیف سیکرٹری پنجاب ودیگر کو طلب کرنے کا فیصلہ

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے نے ریلوے پھاٹک کے مسائل حل کرنے کے لیے پہلے مرحلے میں چیف سیکرٹری پنجاب کوبلانے کافیصلہ کیا ہے، ریلوے کوتیل کی سپلائی نہ دینے اور ریلوے سے تیل پر لیوی لینے پر سیکرٹری پیرولیم،اورایم ڈی پی ایس اوکو کمیٹی میں طلب کرنے کافیصلہ کرلیاگیا ہے.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کی طرف سے ریلوے پرٹیکس کی برمارکرنے پر ایف بی آر کوبھی اگلے اجلاس بلانے کافیصلہ کیاگیا،ٹیکس کی وجہ سے ریلوے انجن پر 17کروڑروپے اداکئے اورڈائنگ کارپربھی ٹیکس ہے ۔ ریلوے سکولوں کامعیاربڑھانے کے لیے تحریک انصاف کے ممبر آفتاب جہانگیر کی سربراہی میں سب کمیٹی بنانے کافیصلہ کرلیاگیا، سابق وفاقی وزیرریلوے سعد رفیق کی طرف سے سرکاری افسر کوکریشن کے حوالے سے بات کرنے سے روکنے پرتحریک انصاف کے ممبر محمد بشیر خان سے جھڑپ ہوگئی ،کرپشن کیس کے حوالے سے بات کرنے پر سرکاری افسرکوروکنا درست نہیں ہے اگر کرپشن نہیں ہوئی توریلوے خسارے میں کیوں ہے؟

امجد نیازی نے انکشاف کیاکہ ریلوے نے میانوالی میں ٹانگہ سٹینڈ ایک روپے میں لیز کی ہے اوروہاں سے لوگ لاکھوں کمارہے ہیں۔ممبران نے گھوسٹ اور ڈیوٹی نہ کرنے والے ملازمین کی نشاندہی کے لئے موبائل لوکیشن سے مدد لی جائے جس سے پتہ چل جائے گا کہ گزشتہ ایک سال سے ملازم کہاں کہاں تھا۔ ،ریلوے حکام نے بتایاکہ سی بی آئی سیگنلز نظام مکمل نہ ہونے کی وجہ سے ٹرینوں میں 3گھنٹے کی تاخیر ہورہی ہے،اس کی وجہ سے ٹرنیوں کی وقت کی پابندی متاثر ہوئی ہے اس کواعتراف کرتے ہیں ،اس کے ایک حصہ میں مبینہ کرپشن کی وجہ سے کیس نیب میں بھی ہے اور کچھ لوگ گرفتار بھی ہوئے ہیں ۔ریلوے اور خیرپور ریاست کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہوا،مجموعی طور پر ریلوے کو نئی چلائی جانے والی دس ٹرینوں سے منافع ہو رہا ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کے چیرمین کمیٹی معین وٹو کی صدارت میں پیپس میں ہوا۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کے چیرمین کمیٹی معین وٹو نے اگلی کمیٹی کی میٹنگ لاہور میں کرنے کا اعلان کردیا۔ریلوے حکام نے کہاکہ پرائیوٹ لوگ ہمارے ٹریک کو استعمال کریں اپنے گاڑی لے کرآئیں ہمیں ٹریک کا کرایہ دیں. اس کا فارمولا بن گیاہے تین پارٹیوں نے معائدہ کیا تھا جو مال گاڑیاں کے حوالے سے تھا۔جس پر پیپلزپارٹی کے ممبران کمیٹی نے اعتراض لگاتے ہوئے کہاکہ 2013میں یہ کام ہورہا تھا جس پر ریلوے حکام نے بتایاکہ مسلم لیگ ن کے دور میں اس کا دوبارہ جائزہ لیا گیا مگر اب تک اس کے بارے میں کچھ نہیں کیاگیا۔

ریلوے حکام نے کہاکہ ہم روزانہ 45گاڑیاں کراچی سے نکال سکتے ہیں ہم 42گاڑیاں نکال رہے ہیں کراچی سے اس سے زیادہ گاڑیاں نکالنا مشکل ہے۔ایم ایل ون سی پیک کے تحت اپ گریڈکرنے کے بعد170گاڑیاں ہم نکل سکیں گے۔امجد نیازی نے کہاکہ سڑکوں پر زیادہ رش ہے ہر رو زحادثات ہورہے ہیں کیوں ہم دوبارہ اس لوڈ کو ریلوے میں نہیں لارہے،
محمد اویس

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.