fbpx

نواب زادہ مرزا جمیل الدین عالی یوم پیدائش

ذرا یہ دورئ احساس حسن و عشق تو دیکھ
کہ میں تجھے ترے نزدیک آ کے بھول گیا

جمیل الدین عالی

پیدائش:20 جنوری 1925ء
دہلی، برطانوی راج
(موجودہ بھارت)
وفات:23 نومبر 2015ء
کراچی
شہریت:پاکستان
قومیت:مملکت متحدہ (1926-47)
پاکستان (1947-2015)
مذہب:اسلام
جماعت:متحدہ قومی موومنٹ
پاکستان پیپلز پارٹی
زوجہ:طیّبہ بانو
والدین:نواب سر امیرالدین احمد خاں
سیّدہ جمیلہ بیگم
مادر علمی:دہلی یونیورسٹی
جامعہ کراچی
پیشہ:سول سرونٹ، شاعر، سفرنامہ نگار، کالم نگار، ادیب
زبان:اردو
پیشہ ورانہ زبان:انگریزی، اردو
دور فعالیت:1951-2015

جمیل الدین عالی (20 جنوری، 1925ء – 23 نومبر، 2015ء) اردو کے مشہور شاعر، سفرنامہ نگار، کالم نگار، ادیب اور کئی مشہور ملی نغموں کے خالق تھے۔
حالات زندگی
۔۔۔۔۔۔۔
نواب زادہ مرزا جمیل الدین عالی، ہزہائی نس نواب سر امیر الدین احمد خان فرخ مرزا آف لوہارو کے ساتویں صاحبزادے ہیں۔ 20 جنوری 1925ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ کا نام سیّدہ جمیلہ بیگم تھا۔ جو نواب سر امیر الدین کی چوتھی بیوی اور اور سیّد خواجہ میر درد کی پڑپوتی تھیں۔ بارہ سال کی عمر میں عالی اپنے والد کے سایۂ شفقت سے محروم ہو گئے۔ 1940ء میں اینگلوعربک اسکول دریا گنج دہلی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1945ء میں اینگلو عربک کالج سے معاشیات، تاریخ اور فارسی میں بی اے کیا۔ 1951ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور پاکستان ٹیکسیشن سروس کے لیے نامزد ہوئے۔ 1971ء میں جامعہ کراچی سے ایف ای ایل 1976ء میں ایل ایل بی سیکنڈ ڈویژن میں پاس کر کے ملازمت کا آغاز کیا۔ 1948ء میں حکومت پاکستان وزارت تجارت میں بطور اسسٹنٹ رہے۔ 1951ء میں سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی کے بعد پاکستان ٹیکسیشن سروس ملی اور انکم ٹیکس افسر مقرر ہوئے۔ 1963ء میں وزارت تعلیم میں کاپی رائٹ رجسٹرار مقرر ہوئے۔ اس دوران میں اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو میں فیلو منتخب ہوئے۔ اس کے بعد دوبارہ وزارت تعلیم میں بھیج دیا گیا۔ لیکن فوراً گورنمنٹ نے عالی صاحب کو ڈیپوٹیشن پر نیشنل پریس ٹرسٹ بھیج دیا جہاں پر انہوں نے سیکرٹری کی حیثیت سے کام کیا۔ 1967ء میں نیشنل بینک آف پاکستان سے وابستہ ہوئے اور سینٹر ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ کے عہدے تک پہنچے وہاں سے ترقی پا کر پاکستان بینکنگ کونسل میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ایڈوائزر مقرر ہوئے۔ جمیل الدین عالی کی متعدد تصانیف شائع ہو چکی ہیں۔ ان کو بہت سے ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ آپ کو 1989ء میں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی بھی ملا۔
وفات
۔۔۔۔۔
ان کا انتقال 23 نومبر، 2015ء کو کراچی میں ہوا۔ ان کی تدفین کراچی میں آرمی کے بیزرٹا قبرستان میں ہوئی۔
شاعری
۔۔۔۔۔
عالی جس طرح کئی سطحوں پر زندگی گزارتے ہیں ویسے ہی ان کی تخلیقی اظہار کئی سطحوں پر ہوتا رہتا ہے۔ تام انہوں نے دوہا نگاری میں کچھ ایسا راگ چھیڑ دیا ہے یا اردو سائکی کے کسی ایسے تار کو چھو دیا ہے کہ دوہا ان سے اور وہ دوہے سکے منسوب ہو کر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے دوہے کی جو بازیافت کی ہے اور اسے بطور صنف شعر کے اردو میں جو استحکام بخشا ہے وہ خاص ان کی دین ہو کر رہ گیا ہے۔ عالی اگر اور کچھ نہ بھی کرتے تو بھی یہ ان کی مغفرت کے لیے کافی تھا کیونکہ یہ ان کی مغفرت کے لیے کافی تھا۔ کیونکہ شعر گوئی میں کمال توفیق کی بات سہی، لیکن یہ کہیں زیادہ توفیق کی بات ہے کہ تاریخ کا کوئی موڑ، کوئی رخ، کوئی نئی جہت، کوئی نئی راہ، چھوتی یا بڑی کسی سے منسوب ہو جائے۔
کتابیات
۔۔۔۔۔
۔ (1)لا حاصل:شاعری
۔ (2)بس اِک گوشۂ بساط:
۔ خاکے،مضامین اور تاثرات
۔ (3)آئس لینڈ:سفرنامہ
۔ (4)کارگاہِ وطن:کالموں کا مجموعہ
۔ (5)بارگاہِ وطن:کالموں کا مجموعہ
۔ (6)دوہے:شاعری (دوہے)
۔ (7)حرف چند:انجمن ترقی اُردو کی
۔ کتابوں پر لکھے گئے مقدمے
۔ (8)انسان:شاعری (طویل نظمیہ)
۔ (9)وفا کر چلے:کالموں کا مجموعہ
۔ (10)صدا کر چلے:کالموں کا مجموعہ
۔ (11)دعا کر چلے:کالموں کا مجموعہ
۔ (12)اے مرے دشت سخن :اعری
۔ (13)تماشا مرے آگے:سفرنامہ
۔ (14)دنیا مرے آگے:سفرنامہ
۔ (15)جیوے جیوے پاکستان:شاعری
۔ (قومی و ملی نغمے)
۔ (16)غزلیں، دوہے، گیت:شاعری
اعزازات
۔۔۔۔۔
۔ (1)ہلال امتیاز (2004)
۔ (2)تمغا حسن کارکردگی (1991)
۔ (3)آدم جی ادبی انعام (1960)
۔ (4)داؤد ادبی ایوارڈ (1963)
۔ (5)یونائٹڈ بینک ادبی ایوارڈ (1965)
۔ (6)حبیب بینک ادبی ایوارڈ (1965)
۔ (7)کینیڈین اردو اکیڈمی ایوارڈ (1988)
۔ (8)سنت کبیر ایوارڈ – اردو کانفرنس دہلی (1989)

غزل
۔۔۔۔۔
حقیقتوں کو فسانہ بنا کے بھول گیا
میں تیرے عشق کی ہر چوٹ کھا کے بھول گیا
ذرا یہ دورئ احساس‌ حسن و عشق تو دیکھ
کہ میں تجھے ترے نزدیک آ کے بھول گیا
اب اس سے بڑھ کے بھی وارفتگئ دل کیا ہو
کہ تجھ کو زیست کا حاصل بنا کے بھول گیا
گمان جس پہ رہا منزلوں کا اک مدت
وہ رہ گزار بھی منزل میں آ کے بھول گیا
اب ایسی حیرت و وارفتگی کو کیا کہیے
دعا کو ہاتھ اٹھائے اٹھا کے بھول گیا
دل و جگر ہیں کہ گرمی سے پگھلے جاتے ہیں
کوئی چراغ تمنا جلا کے بھول گیا

غزل
۔۔۔۔۔
بیان درد محبت جو بار بار نہ ہو
کوئی نقاب ترے رخ کی پردہ دار نہ ہو
سلام شوق کی جرأت سے دل لرزتا ہے
کہیں مزاج گرامی پہ یہ بھی بار نہ ہو
کرم پہ آئیں تو ہر ہر ادا میں عشق ہی عشق
نہ ہو تو ان کا تغافل بھی آشکار نہ ہو
یہی خیال رہا پتھروں کی بارش میں
کہیں انہیں میں کوئی سنگ کوئے یار نہ ہو
ابھی ہے آس کہ آخر کبھی تو آئے گا
وہ ایک لمحہ کہ جب تیرا انتظار نہ ہو
بہت فریب سمجھتا ہوں پھر بھی اے عالیؔ
میں کیا کروں اگر ان پر بھی اعتبار نہ ہو

غزل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ جو بڑھتی ہوئی جدائی ہے
شاید آغاز بے وفائی ہے
تو نہ بدنام ہو اسی خاطر
ساری دنیا سے آشنائی ہے
کس قدر کش مکش کے بعد کھلا
عشق ہی عشق سے رہائی ہے
شام غم میں تو چاند ہوں اس کا
میرے گھر کیا سمجھ کے آئی ہے
زخم دل بے حجاب ہو کے ابھر
کوئی تقریب رو نمائی ہے
اٹھتا جاتا ہے حوصلوں کا بھرم
اک سہارا شکستہ پائی ہے
جان عالیؔ نہیں پڑی آساں
موت رو رو کے مسکرائی ہے