fbpx

ن لیگ چھوڑنے والے نواب ثناء اللہ زہری، جنرل ر عبدالقادر بلوچ کس پارٹی میں جا رہے ہیں؟ فیصلہ کر لیا

ن لیگ چھوڑنے والے نواب ثناء اللہ زہری، جنرل ر عبدالقادر بلوچ کس پارٹی میں جا رہے ہیں؟ فیصلہ کر لیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن چھوڑنے والے نواب ثنااللہ زہری اور جنرل ر عبدالقادر نے رفقا کے ہمراہ پیپلزپارٹی میں شمولیت کا باضابطہ فیصلہ کر لیا ہے

سابق وزیراعلی نواب ثناء اللہ زہری کے سیاسی و قبائلی ہم خیال رفقا کا مشاورتی اجلاس ہوا.، اجلاس میں جنرل ر عبدالقادر بلوچ دیگر سیاسی قبائلی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی، اجلاس میں ملک کے سیاسی جماعتوں میں شمولیت کے حوالے سے مشاورت کی گئی نواب ثنا اللہ زہری کے سیاسی و قبائلی رفقاء نے پیپلزپارٹی میں شمولیت کی حمایت کردی باقاعدہ شمولیت کا اعلان آئندہ چند روز میں مرکزی قیادت کیساتھ کنونشن میں کیا جائیگا جنرل ر عبدالقادر نے مختلف سیاسی جماعتوں میں شمولیت کے حوالے سے شرکا سے رائے طلب کی

نواب ثنااللہ زہری نے ویڈیو لنک پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ ڈرائنگ روم میں فیصلے کرتے ہیں، ہم عوامی لوگ ہیں اپنے لوگوں کو اہمیت دیتے ہیں مشاورت کرکے فیصلے کرتے ہیں، آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کادعوت دینے پر مشکور ہوں، نواز شریف نے ہمیں دھوکہ دیا، پیپلزپارٹی اسی دن سے رابطے میں تھی،نواز شریف کی فطرت میں وفا کرنا نہیں، نواز شریف اور اس کی بیٹی کو بہت عزت دی ، آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے یہی امید ہے کہ وہ ہمیشہ کی طرح آگے بھی عزت دیں گے، ہم اپنی جماعت بنانے کا سوچ رہے تھے، ہم اپنی سیاسی جماعت بنانے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں،

جنرل عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیں شمولیت کی دعوت دی ہے، زرداری صاحب کو کہا عزت کریں گے اپنی بے عزتی برداشت نہیں کریں گے، غیر مشروط طور پر شامل ہونے کا کہا ہے مگر پوزیشن چاہتے ہیں ،شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹم بنایا، متفقہ آئین بنایا، ہندوستان سے 5 ہزار مربع میل زمین واپس لی، جمہوریت کیلئے ذوالفقار علی بھٹو پھانسی چڑھے، بی بی نے میثاق جمہوریت کیا، تحریک انصاف عجیب وعدے کرکے ناکام ہوگئی ہے، مہنگائی بیروزگاری تحریک انصاف کے کنٹرول میں نہیں آنے والی،میرا نہیں خیال کہ تحریک انصاف میں شامل ہوا جائے ایک آپشن ن لیگ میں دوبارہ شمولیت کا ہے، ن لیگ نے وہ جماعت ہے جس نے ہمارے خواتین کی بے عزتی کی، دس ماہ ہوگئے پارٹی چھوڑنے کے بعد کسی نے پوچھنے کی زحمت نہیں کی، باپ پارٹی میں جانے اور چیف ایگزیکٹو بننے کی آفر تھی رد کردیا،