fbpx

نواز شریف صحتیاب الحمدللہ ،لندن سے سیاست کریں گے، مریم نواز

نواز شریف صحتیاب الحمدللہ ،لندن سے سیاست کریں گے، مریم نواز

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ عوام کی زندگی اور صحت کے تحفظ کی خاطر کراچی کا دورہ منسوخ کیا،

مریم نواز کا کہنا تھا کہ چند دنوں میں کورونا میں بہت تیزی آئی ہے ،آج کراچی جانا تھا ،این اے 249کے ضمنی انتخاب کیلئے مہم میں شامل ہونا تھا، بہت دل کرتا تھا اپنے کراچی کے بہن بھائیوں ملوں انکے مسائل کو اجاگر کروں ۔ عوام کی خاطر اپنا دورہ کراچی منسوخ کردیا، ایک الیکشن، سیاسی فائدے کیلئے یہ مناسب نہیں تھا، دورہ کراچی کیلئے بہت پرجوش تھی،نوازشریف اورشہبازشریف سے بات کی ہے،این اے 249 کی عوام کو پیغام دینا چاہتی ہوں کہ دھاندلی کے ذریعے جن کو مسلط کیا گیا انکی کارکردگی دیکھ لیں کبھی عوام کا حال نہیں پوچھا ،حلقے کا رخ نہیں کیا، کراچی کے ساتھ جو ہونا تھا وہ ہو چکا، اب کراچی کے عوام کو اپنی تقدیر بدلنے کے لئے مسلم لیگ ن کے حق مین‌ فیصلہ کرنا چاہئے

مریم نواز کا کہنا تھا کہ این اے 249 کے مسائل سے آگاہ ہیں، وہاں سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے ، مفتاح اسمٰعیل اگر پانی کی فراہمی کا وعدہ کررہے ہیں تو ضرور پورا کریں گے ، مفتاح اسمٰعیل محنتی اور اعلیٰ تعلیم یافتہ آدمی ہیں، شہبازشریف یہ الیکشن جیت چکے تھے چند سو ووٹوں کی دھاندلی کرکے ہرایا گیا، مفتاح اسمٰعیل محنتی اور اعلیٰ تعلیم یافتہ آدمی ہیں، میں اپنی پارٹی کا منشور بیان کر سکتی ہے، کسی کے اوپر کیچڑ نہیں اچھالنا، پی ڈی ایم آج بھی ہے، مولانا صاحب نے اسلام آباد بلایا ہے، رمضان کے بعد کس طرح آگے بڑھیں گے اس کا فیصلہ ہو جائے گا، مستقبل بہت روشن ہے،پی ڈی ایم نے جو تحریک چلائی وہ کامیاب تحریک تھی، پی ڈی ایم نے عوام کو شعور دیا، انکے جذبات کی ترجمانی کی،پی ڈی ایم آگے بھی جو فیصلے کرے گی وہ عوام کے توقعات کی ترجمانی ہو گی

مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ جب میں چھوٹی تھی تب سے یہ سن رہی ہوں کہ ن سے ش نکلے گی ، یہ نہیں نکل سکتی، کیونکہ شہباز اور نواز میں جو تعلق اور شریف فیملی میں جو احترام ہے اسکا احاطہ کرنا ان لوگوں کے لئے مشکل ہے جو باتیں کرتے ہیں، شہباز کا ہمت سے جیل کاٹنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں، چھوڑنے کو تیار نہیں، اگر وہ ذرا سا بھی تیار ہوتے تو آج وہ پاکستان کے وزیراعظم ہوتے، جیلوں میں نہ ہوتے. دو بار جیل شہباز نے کاٹی، حمزہ نے لمبی جیل کاٹی ،ن لیگ کی ساری قیادت ایک ہے اور ایک رہے گی، مخالفین کو ناکامی ہو گی

مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ توشہ خانہ کیس میں راتوں رات جو کاروائیاں ہوئیں وہ مضحکہ خیز بات تھی، پاکستان کے عوام اچھے طریقے سے جانتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے نواز شریف کی صحت پہلے سے بہتر ہے اور وہ سیاسی ایکٹوٹی شروع کر رہے ہین لندن سے، برطانیہ سے حکومت نے رابطہ کیا وہاں سے مایوسی ہوئی، لندن کا قانون بکتا نہیں ،نواز شریف لندن سے پی ڈی ایم کے جلسوں سے خطاب کریں گے، نواز شریف کے خلاف انتقامی کاروائی کا اسلئے آغاز کیا گیا کیونکہ وہ یہ افورٹ نہیں کر سکتے کہ نواز شریف باہر بیٹھ کر سیاست کرے، نواز شریف نے لندن میں بیٹھ کو انکو گھر مین گھس کر مارا، ڈسکہ میں دو بار یہ ہارے، نواز شریف کا بیانیہ لوگوں نے مانا، ووٹ کی عزت کی حفاظت کی،نواز شریف کے نام پر ووٹ ڈالا گیا، پاکستان میں جب نواز شریف تھے تو جیل میں ڈال کر انکی زبان بند کرنا چاہتے تھے، نواز شریف اگر سیاسی میدان میں ہو گا تو نہ عمران خان کی نہ سیلکٹڈ ، انکا کوئی چانس نہیں، اشتہاری ڈکلیئر کرنا صرف اسلئے ہے اور کوئی بات نہیں،نواز شریف پاکستان کی سیاست میں شامل ہے بھلے انکی آواز بند کر دی جائے، میڈیا پر انکی تصویر بند کر دی جائے، جب دادا اور دادی نے گھر خریدا اور انکو ایک قانون کی یا رولز ریگولیشن کی خلاف ورزی کی چیز نہین ملی تو وحیدہ بیگم کے کاغذات کھول کر بیٹھ گئے، وہ مسنگ تھی یا انہوں نے خود غایب کی ،یہ جس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں سب کو پتہ ہے ہمارا گھر توڑنے آ رہے ہو، ہمیں نوٹس دیا، ہمیں پوچھا، یہ قانونی طریقے سے خریدی گئی جائیداد ہے، گھر سب کے ہوتے ہیں،وقت کسی کا نہیں ہوتا، یہ بات یاد رکھنا

مریم نواز کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے ایم این اے رابطے مین ہیں، اب انہوں نے حلقے میں واپس جانا ہے کیا لوگوں کو منہ دکھائیں گے، 120 روپے چینی وہ بھی لائن میں لگ کر، انگوٹھے پر نشان لگتا ہے، روزے میں عوام قطاروں میں کھڑی ہے، بنی گالہ میں اس طرح چینی جاتی ہے، ان ایم این ایز کو جن کو توڑ لیا تھا اب انہوں نے حلقے میں واپس جانا ہے اور دوبارہ الیکشن لڑنا ہے، انکو لگ پتہ جائے گا،عوام انکا گریبان پکڑے گی ،جہانگیر ترین کا گروپ بہانہ ہے اصل میں یہ لوگ پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے الیکشن نہیں لڑنا چاہتے، عوام کے غیض و غضب کا سامنا نہیں کرنا چاہتے

مریم نواز کا کہنا تھا کہ ڈسکہ کا الیکشن جب چیلنج کیا تو اس میں کرونا نہیں لکھا ،انکو پتہ ہے کہ جہاں ووٹ پڑے گا وہاں شیر کو ووٹ ملے گا،عوام میں یہ گئے تو کتنی بری طرح ہارے،الیکشن کمیشن کرونا ایس او پیز کو فالو کرے گا، سندھ حکومت سے بھی گزارش ہے کہ وہ ایس او پیز کو فالو کروائے،کراچی کی عوام سے اپیل کرتی ہوں کہ کرونا سے بچاؤ کا انتظام کر کے ووٹ دینے جائیں، ڈبل ماسک پہن لیں، کرونا کا بہانہ اب نہیں چلے گا،میرے باہر جانے کی خبرین اصل میں انکی خواہش ہے،یہ اگر ٹکٹ بھی دیں تب بھی باہر نہین جاؤں گی، جب تک یہ حکومت انجام تک نہیں پہنچ جاتی مین نہیں جاؤں گی، میرا علاج ہو رہا ہے، تبدیلی ملک میں تب آئے گی جب عمران خان جائے گا، وزرا کی تبدیلی سے کچھ نہیں ہونے والا ،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.