fbpx

نواز شریف ،مریم نواز،حمزہ شہبازسمیت متعدد افراد کے نام ای سی ایل سے خارج

پاکستان مسلم لیگ کے صدر اور ہاکستان کے سابق وزیراعظم نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز، وزیر اعظم شہبازشریف اور ان کے صاحبزدے حمزہ شہباز سمیت متعدد افراد کے نام ای سی ایل سے خارج کر دیئے گئے ہیں-

باغی ٹی وی : وفاقی حکومت کی نئی ایگزٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل) پالیسی کے تحت متعد اہم نام فہرست سے خارج کردیئے گئے ہیں جن میں شریف خاندان کے متعدد نام بھی شامل ہیں-

سری لنکا سے سزا یافتہ 41 پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے احکامات جاری

سرکاری ذرائع کے مطابق ای سی ایل سے نکالے گئے ناموں میں نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف اور حمزہ شہباز شامل ہیں جبکہ شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال کے نام بھی ای سی ایل سے نکال دیئے گئے ہیں نئی پالیسی کے تحت ای سی ایل سے نام خارج کرنے کا سلسلہ آئندہ چند روز جاری رہے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ حکومت نے شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال کے نام ای سی ایل میں ڈالے تھے اور ان کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد تھی۔

واضح رہے کہ حال ہی میں وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے وزارت داخلہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ کئی سال سے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) ایک ایشو بن گیا تھا، کسی کوڈرانا ہوتا تھا تو قومی احتساب بیورو (نیب) کا نوٹس بھیج کر نام ای سی ایل پر ڈال دیاجاتاتھا ای سی ایل میں اس وقت 4ہزار کے قریب لوگ ہیں، رولز کی منظوری کابینہ نے دے دی ہے، نئے قانون سے 3 ہزار لوگوں کو فائدہ ہوگا، ان کا نام ای سی ایل سے نکل جائے گا، 120دن سے زیادہ کسی کا نام ای سی ایل میں نہیں رہے گا اگر حکومت 120 دن میں کوئی شہادت نہیں لاتی تو از خود نام ای سی ایل سے نکل جائےگا۔

عمران خان نے اہم شخصیت کے ذریعے آصف زرداری سے این آر او مانگا تھا، غریدہ فاروقی کا دعوی

راناثنا اللہ نے کہا تھا کہ دہشت گردی میں ملوث لوگوں کواس قانون کےتحت فائدہ نہیں ملے گا، ملکی سلامتی کے خلاف لوگوں کو بھی اس سے فائدہ نہیں ہوگا، ای سی ایل میں اس وقت 4 ہزار 863 کے قریب لوگ ہیں ، جن کے نام عدالت نے ای سی ایل پر ڈالے ہیں وہ بھی مستفید نہیں ہوں گے۔

رانا ثنااللہ نے مزید کہا تھا کہ عمران خان نےجب وزیراعظم کا حلف لیا تو پہلا کام یہ کیاتھا کہ ہماری سکیورٹی واپس لےلی تھی لیکن ہم عمران خان کو وہی سکیورٹی دے رہے ہیں جو ان کے سکریٹری اعظم خان نےچاہی تھی، عمران خان کوفول پروف سکیورٹی دینے کے آرڈر وزیراعظم شہباز شریف نے کیے تھے سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن کسی کو بھی حق سے محروم نہیں رکھیں گے، ہم نے جو قوانین بنائے ہیں اس میں ایساکچھ نہیں کہ ہمیں فائدہ ملے اور مخالفین کو نقصان ہو، میرٹ پر قوانین بنائے گئے ہیں۔

راناثنااللہ نے کہا تھا کہ بلیک لسٹ اور پی این آئی ایل میں بھی لوگ شامل ہیں، ہم کوشش کریں گے اظہار رائے پر کوئی پابندی نہ ہو،ای سی ایل پر اگر کسی سے زیادتی ہوئی ہے تو اس پر انصاف ہوگا بیرونی مداخلت نہیں ہونی چاہیے، سفیر لوگوں سے ملتا ہے تو اس کی اپنی رائے ہوتی ہے، امریکا سے سفیر کا بھیجا گیا خط آج پڑھا اور دیکھا ہے اس میں کسی کا نام نہیں۔

صدر مملکت نے سرکاری معلومات لیک کرنے والے بدعنوان نیب اہلکار کی سزا کیخلاف اپیل مسترد کر دی