ورلڈ ہیڈر ایڈ

نواز شریف کی حکومت سے ڈیل، پچاس کروڑ کی پہلی قسط آ گئی، زرداری کے بھی سات بلین ڈالر آئیں گے، پی ٹی آئی لیڈر کا بڑا دعویٰ‌

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جمشید اقبال چیمہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی سے حکومت کی ڈیل ہوچکی ہے اوراس مد میں پہلی قسط آچکی ہے ، پچاس کروڑ روپے گزشتہ دنوں ٹرانسفر ہوئے ہیں اور دبئی والوں نے بھی سات بلین ڈالرز ابھی دینے ہیں،

باغی ٹی وی کی رپورٹ‌ کے مطابق ٹی وی چینل 7 نیوز پر اینکر پرسن جمیل فاروقی کے پروگرام میں‌ گفتگو کرتے ہوئے جمشید اقبال چیمہ نے کہاکہ پلی بارگین اور این آر او ایک ہی چیز ہے. این آر او چیف ایگزیکٹو کرتا ہے، اس لئے اس کا تو کوئی چانس نہیں‌ ہے البتہ پلی بارگین کا آپشن موجود ہے. انہوں نے واضح‌ طور پر کہا کہ نواز شریف کی جو حکومت سے ڈیل ہوئی ہے اس کی پہلی قسط کے طور پر پچاس کروڑ آ چکے ہیں جبکہ زرداری صاحب کا بھی دبئی میں‌ بندوبست ہو رہا ہے.

قطری خط کے بعد قطری ڈیل، کتنے ارب ڈالر کے عوض رہا ہو گا نواز شریف؟ اہم خبر

پی ٹی آئی لیڈر جمشید اقبال چیمہ نے کہاکہ یہ اگر ملک سے باہر جائیں گے تو پیسے دیکر جائیں گے تو جانے دیا جائے گا. انہوں‌نے کہاکہ یہ جو چیخ‌ و پکار کر رہے ہیں‌ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‌ کہ لڑ کر جارہے ہیں ڈیل نہیں‌ ہوئی. میاں‌ صاحب کے قطر میں‌ بندوبست ہو رہا ہے. اسی طرح‌ زرداری کے سات بلین ڈالرزکا دبئی میں بندوبست ہو رہا ہے.

رپورٹ کے مطابق ٹی وی پروگرام کے دوران معروف تجزیہ کار نذیر لغاری صاحب نے بھی اتفاق کیا کہ حکومتی عہدایدار کا یہ مان لینا بڑی خبر ہے ,جمشید اقبال چیمہ نے یہ بھی کہا کہ عوام یہی چاہتے ہیں کہ ان سے پیسہ لیں اور انہیں جانے دیں،

واضح رہے کہ باغی ٹی وی کئی دن پہلے ہی نواز شریف کی حکومت سے ڈیل کی خبر دے چکا ہے. باغی ٹی وی نے اپنی خبر میں‌ بتایا تھا کہ امیر قطر کے دورہ پاکستان کے دوران ایک ڈیل ہوئی ہے، جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف جو اسوقت جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں ، ان کے حوالہ سے امیر قطر نے پاکستانی وزیراعظم کے ساتھ ڈیل کی ہے، خبر میں بتایا گیا تھا کہ نواز شریف کے ساتھ 12 بلین ڈالر کی ڈیل ہوئی ہے، شریف خاندان 12 بلین ڈالر ادا کرے گا، اور اس کے لئے قطری شاہی خاندان کردار ادا کرے گا، 12 بلین ڈالر کی ادائیگی کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف کی جیل سے رہائی ہو گی اور یہ رہائی اسی سال اکتوبر تک متوقع ہے، نواز شریف رہائی کے بعد پاکستان میں رہنے کی بجائے لندن چلے جائیں گے اور آئندہ پانچ برس تک پاکستان نہیں آ سکیں گے اور نہ ہی پاکستان کے معاملات میں‌ مداخلت کریں گے .

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.