fbpx

نوازشریف کی جائیدایں ،بچےاوردوست باہر:پاکستان میں ان کاکیا ہے!وہ کبھی پاکستان نہیں آئیں گے:مبشرلقمان

لاہور:نوازشریف کی جائیدایں باہر،بچے باہر، دوست باہر:پاکستان میں ان کا کیا ہے !وہ کبھی پاکستان نہیں آئیں گے:مبشرلقمان نے نوازشریف کا ایسا جھوٹ بے نقاب کردیا ہے جو شاید ہمیشہ سچ رہے ، پاکستان کے سینیئر صحافی تجزیہ نگار مبشرلقمان نے حقائق اور نوازشریف کی روایات کوسامنے رکھتے ہوئے کچھ ایسی باتیں کردیں کہ جن کو سن کرعام شخص تو حیران رہ جائے گا مگرجونوازشریف کو جانتے ہیں وہ وہ ضرور ان حقائق کو نہیں جھٹلاسکتے ،

سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اس وقت تمام صحافی تنظیمیں ، وکلا باڈیز ، ڈاکٹرز، سرکاری بابو احتجاج میں مصروف ہیں مجھے نہیں معلوم ان کا کیا بنے گا حکومت انکے آگے سرنڈر کرے گی یا یہ حکومت کے آگےسرنڈر کریں گے ۔

سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پر جو چیز مجھے معلوم ہے وہ یہ ہے کہ نواز شریف نے پاکستان واپس نہیں آنا ۔ اور نواز شریف تو کیا انکے سمدھی ، ببلو اور ڈبو نے بھی واپس نہیں آنا ۔

سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ گزشتہ کئی دنوں سے کبھی کوئی اٹھ کر تو کبھی کوئی لیٹ کر پھر سے یہ راگ الاپنہ شروع ہوچکا ہے کہ میاں صاحب کی اگلے مہینے ، چھ مہینے بعد یا اسی سال واپسی ہو جائے گی ۔

 

سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پھر یہ جو ڈرامہ کوئین مریم نواز کہتی پھرتی ہیں کہ حالات بہت بدل گئے۔ نواز شریف جلد آئیں گے۔ تو مریم بی بی میاں صاحب تو واپس نہیں آتے ۔ پر میں یہ بتا دوں کہ آپ بھی باہر اپنے پاپی پاپا کے پاس نہیں جا سکتیں ۔ رسیدیں تو دینی پڑیں گی ۔

سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ نواز شریف کی واپسی بارے اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ میں ان کی رگ رگ سے واقف ہوں ۔ آپ دیکھ لیجئے گا جب بھی کہا جائے گا کہ میاں صاحب نے واپس آنا ہے ان کی طبیعت خراب ہوجانی ہے ۔ پھر ڈاکٹر کا بورڈ بیٹھے گا اور وہ فیصلہ کرے گا کہ میاں صآحب کا علاج پاکستان سے باہر ہی ہو سکتا ہے ۔ پاکستان گئے تو پھر رسک ہے ۔ میں بڑی اچھی طرح جانتا ہوں نواز شریف کی بیماری اور ان ڈاکٹرز کے علاج کو ۔

سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ ان کو بیماری نہیں ان کی نیت میں کھوٹ ہے۔ یہ سرٹیفائیڈ چور ہیں ۔ انھوں نے دونوں ہاتھوں سے اس ملک کو لوٹ لوٹ کر گنگال کر دیا ہے ۔ یہ سزا یافتہ مجرم چاہتے ہیں کہ یہ قوم پہلے ان کی غلامی کرتی تھی اب ان کے بچوں کی بھی غلامی کرے ۔ انھوں نے مذاق بنایا ہوا ہے ۔ ان کی شادیاں باہر ۔ انکے بچے باہر ، کاروبار باہر ، علاج باہر ، عیدیں باہر اور اب یہ ہم کو سناتے ہیں کہ میاں صاحب پاکستان آنے کے لیے بڑا بے چین ہیں ۔

 

سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اس حکومت کی پیدا کردہ مہنگائی، کوتاہیاں اور نااہلیاں اپنی جگہ پر قوم جانتی ہے کہ مریم کے پاپا کے پاس رسیدیں نہیں ہیں۔ ہوں بھی کیوں جب کوئی چیز اپنی جیت سے خریدی ہوتو رسیدیں ہوں نا ۔۔۔ جب عوام کے پیسے کو لوٹ کر ڈاکے ڈالے ہوں تو پھر رسیدیں نہیں ہوتیں ۔

سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ یہ جو ن لیگی ٹی وی پر بیٹھ کر بھاشن دیتے ہیں کہ پاکستانی نواز شریف کو منت کرکے واپس لائیں گے ۔ اور چوتھی بار وزیر اعظم بھی منتخب ہونے دیں گے۔ تو میں ان کو یاد کروادوں کہ اس قوم کو العزیہ شوگر مل بھی یاد ہے ، ایوین فیلڈ بھی یاد ہے ، قطری خط ، calibre fontبھی یاد ہے ، پارک لین بھی یاد ہے ، سانحہ ماڈل ٹاون بھی یاد ہے ، کلبوشھن پر خاموشی بھی یاد ہے ۔ مودی کو بغیر ویزہ گھر بلانا بھی یاد ہے ۔ جندال کو مری کی سیر کروانا بھی یاد ہے ۔ نواز شریف کے دونوں بیٹوں کا ملک سے بھاگ جانا بھی یاد ہے ، پاناما بھی یاد ہے ۔ براڈ شیٹ بھی یاد ہے ۔

یہ ہاں یہ بھی یاد ہے کہ احتساب عدالت نے میاں نواز شریف کو کرپشن ثابت ہونے پہ 7 سال قید بامشقت ، 5 ارب روپے تک کا جرمانہ کیا تھا ۔ مگر ان کے بوٹ پالشیوں نے عوام کو گمراہ کرنے کیلئے حقائق کو توڑ مروڑ کر کچھ اسطرح سے پیش کرنا شروع کیا ہے کہ میاں صاحب عوام کی نظروں میں مجرم کے بجائے مظلوم بن جائیں۔

سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پھر ایسا نہیں کہ نواز شریف کو کچھ یاد نہیں ۔ ان کو بھی اڈیالہ اور کوٹ لکھ پت جیل یاد ہے ۔ اس لیے یہ واپس نہیں آتے ۔ کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ کوئی مجرم بھگوڑا ہوجائے اور وہ خود کہے کہ میں واپس آجاوں گا ۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا ۔ اس کو پکڑکر لانا پڑتا ہے ۔ ٹھڈے مار کر ، گریبان سے پکڑ کر گھسیٹ کر لانا پڑتا ہے ۔

 

 

سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ یہ تو بس لیگی لیڈروں کی جانب سے ورکرز کو حوصلہ دینے کا بہانہ ہے ۔ کہ میاں صاحب آرہے ہیں ۔ ڈٹے رہو۔ میاں صاحب نے واپس آنا ہوتا تو جاتے ہی کیوں ۔ میاں صاحب کی لندن میں موج لگی ہوئی ہے کبھی پیزا کھاتے ہیں تو کبھی لندن کے ٹھنڈے موسم میں کافیاں پیتے ہیں کبھی سڑکوں پر واک کرتے ہیں تو کبھی پولو میچ دیکھتے ہیں ۔ ذرا خود سوچیں یہ سب کچھ کیا میاں صاحب یہاں کرسکتے ہیں ۔ بالکل بھی نہیں کر سکتے ۔ پاکستان میں چاہے انصاف و قانون کے معاملات خراب ہوں پر اتنی بھی اندھیر نگری چوپٹ راج نہیں کہ چور اچکے یوں موجیں مارتے پھریں جو وہ لندن میں کرتے ہیں ۔

سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ مجھے تو ان لوگوں پر حیرت ہے جو نوازشریف کو نیلسن منڈیلا سمجھتے ہیں ۔

سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ حالانکہ ووٹ کو عزت دو کی بات کرنے والوں کو جب ڈیل کا موقع ملتا ہے تو فوراً ڈیل کرکے بھاگ جاتے ہیں ۔

سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ یہ انقلابی نہیں پاپی ہیں ۔ ان کے پاپوں کی بوئی ہوئی فصل یہ قوم کاٹ رہی ہے ۔ انھوں نے پاکستان کو پرائیوٹ لمیٹڈ کمپنی سمجھا ہوا تھا ۔ اسی لیے تو ان کی یہ حالت ہے کہ یہ دنیا میں جہاں بھی جاتے ہیں منہ چھپاتے پھرتے ہیں کہ کہیں کسی عام پاکستان نے دیکھ لیا تو خوب برا بھلا کہنا ہے ۔

سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اب لوگ بھی نواز شریف کو جھوٹا اور بھگوڑا قرار نہ دیں تو کیا کریں ۔ کیونکہ یہ جھوٹی رپورٹس بنوا کر اور جعلی بیمار بن کر ملک سے فرار ہوا ہے ۔

سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اس لیے ان میں اتنی ہمت نہیں کہ یہ پاکستان واپس آئیں اور عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کریں، نواز شریف جس طرح برطانیہ میں گھوم پھر رہے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بیمار نہیں۔

سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ یہ اتنے ہی غیرت مند ہوتے تو برطانیہ میں ایکسپائرڈ پاسپورٹ کے ساتھ بھگوڑے بن کرنہ بیٹھے ہوتے ۔ واپس آ کر مقدمات کا سامنا کرتے۔ شرم کی بات ہے کہ ملک کا سابق وزیر اعظم مفرور ہے، انہیں واپس آ کر سیدھا جیل جانا چاہئے۔

 

سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ لیڈر کوئی بھی ہو اسکی اخلاقی اتھارٹی کیا رہ جاتی ہے جب وہ بیماری کا بہانہ بنا کر علاج کیلئے ملک سے باہر چلا جائے اور پھر واپس آنے کی بجائے لندن میں بیٹھ کر ریاستی اداروں کے خلاف جارحانہ خطاب کرے۔ پاکستان کے عوام اگر بیدار باشعور اور منظم ہوں تو وہ کبھی کسی آزمائے ہوئے سیاستدان کو دوبارہ آزمانے پر آمادہ نہ ہوں۔ افسوس پاکستان کے سیاستدان عوام کو بار بار بے وقوف بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور یہی ہمارے ملک کا قومی المیہ ہے۔

سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پاکستان کا آئین پاک فوج اور عدلیہ پر تنقید کرنے اور اسے تضحیک کا نشانہ بنانے یا عوام کے اندر اداروں کے بارے میں نفرت پیدا کرنے کی اجازت نہیں دیتا مگر اسکے باوجود میاں نواز شریف سلامتی اور انصاف کے اداروں پر کھلم کھلا تنقید کر رہے ہیں جو پاکستان کی آزادی اور سلامتی کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ کیا اب بھی کسی کو کوئی شک باقی رہ گیا ہے کہ میاں نواز شریف انقلابی ہیں ۔ حقیقت میں یہ خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں اور الطاف حسین کے نقش قدم پر چل رہے ہیں انہیں بھارت کی مدد حاصل ہے۔

سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ کیا کوئی اس سوال کا جواب دینا پسند کرے گا کہ سعودی عرب اور دبئی میں کس طرح اربوں کا بزنس کیا؟اس کا سچا اور کھرا جواب تو شریف فیملی کے پاس کل تھا اور نہ آج ہے۔ یہ پیسہ کہاں سے آیا؟ پھر اِس کا جواب نہ تو کوئی لیگی دے سکتی ہے اور نہ ہی نواز شریف کے پاس اس سوال کا کوئی جواب موجود ہے۔

سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پر میرے پاس جواب ہے یہ پیسہ حکومتی ٹھیکوں، بڑے بڑے پروجیکٹس سے کمیشن اور کک بیکس سے کمایا گیا۔ یہ ہنڈی ، ٹی ٹی اور منی لانڈرنگ سے بنایا گیا ۔ دراصل میاں نواز شریف اپنے خاندان کو کرپشن کیسوں سے بچانے کیلئے اس حد تک آگے چلے گئے ہیں کہ ان کو پاکستان کے قومی مفادات کا ذرہ بھر بھی احساس نہیں رہا۔ اب یہ پاکستان کے دوسرے الطاف بنتے جا رہے ہیں۔ یاد رکھیں نہ الطاف واپس آیا نہ ہی اب نواز واپس آئے گا ۔

 

 

سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پھر یاد رکھیں جب جب اس ملک میں کرپشن کنگ کی بات آئے گی تو نوازشریف کو ہی سب سے بڑے کرپٹ ، چور اوربھگوڑے کا خطاب دیا جائے گا۔ عدالت سے بھاگ جانانہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ جو بھی مال ان کے پاس ہے وہ کرپشن کا ہے۔ ورنہ حلال اور اپنی محنت کا ہوتا تو سینہ تان کر۔عدالت آتے اور رسیدیں دکھا کر اپنا مال حلال ثابت کرتے۔

سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ مجھے تو لگتا کہ میاں صاحب نے دولت اور جائیداد اپنے بیٹوں کے نام ہی اس لئے رکھی کہ یہ دلیل دے سکے کہ دادا نے پوتوں کو دی۔ بیٹوں کو غیر ملکی شہری اسلئے رکھا کہ پاکستان کا قانون ان پہ لاگو نہ ہوسکے اور ان کو گرفتار کرکے عدالتی کاروائی میں شامل نہ کیا جاسکے۔ کیونکہ جب تک ملزم عدالتی کاروائی میں شامل نہ ہو اس کے خلاف نیب کیس آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس سارے کھیل میں جہاں میاں نواز اور بیٹی کو جیل ہوئی وہاں ان کے بیٹے اور انہی جائیداد محفوظ رہی۔

سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پر دنیا کو بھی معلوم ہے کہ حسن و حسین نواز مفرور ہی اسلئے ہیں کہ جو بھی مال و جائیداد ان کے پاس ہے وہ دادا کا دیا ہوا نہیں پاپا کے کرپشن کی کمائی ہے۔ یوں یہ پورا ٹبر چور ہے ۔ میاں صاحب کیا ان کا کوئی بیٹا بھی پاکستان واپس آتے دیکھائی نہیں دیتا ۔