نواز زرداری کی نفرت اورمحبت کی کہانی ،خصوصی رپورٹ لازمی پڑھیں.

کبھی دوستی ،کبھی دشمنی، اقتدار کی خاطر الزامات لگانے اور پھر ایک دوسرے کو پھول پیش کرنے والے آج دونوں ہی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں، نواز شریف نے ذرداری کو جیل بھجوایا تو پھر ایک ایسا وقت آیا کہ اسی زرداری سے گلے ملنا نواز شریف کی مجبوری بن گیا،

دوستی و دشمنی کے اس کھیل میں ایک ایسا کھلاڑی آیا جس نے آتے ہی دونوں نوا ز و زرداری کی دوستی کو مزید پختہ کرنے کے لئے جیلوں میں بھجوا دیا ،نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں تھے تو آصف زرداری ملاقات پر آمادہ نہ ہوتے تھے، مولانا فضل الرحمان کی منت سماجت بھی کام نہ آئی لیکن اب وہی آصف زرداری خود جیل پہنچ چکے ہیں اور ان سے ملاقات کرنے کے لئے کوئی نواز شریف باہر نہیں ہے.

نواز، زرداری بظاہرایک دوسرے کے خلاف ہو کر کرپشن اور لوٹ مار کے الزامات لگا کر پھر سے جمہوریت بچانے کے نام پر ایک ہوکر تحریک چلانے کے لئے پر تول رہے ہیں، ان کے تعلقات کا اتارچڑھاو پر باغی ٹی وی نے خصوصی رپورٹ مرتب کی ہے.

باغی ٹی وی کی رپور ٹ کے مطابق 6اگست1990ء کو بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کرنے کے بعد اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیا کہ وہ اس حکومت کی بدعنوانی اور کرپشن کی تحقیقات کریں .چوتھے قومی انتخابات میں نوازشریف وزیراعظم منتخب ہوئے انہوں نے بے نظیر بھٹو کے خلاف پراسیکیوشن کو سخطی سےآگے بڑھایا،تب یورپی ممالک جیسے فرانس،سویٹرزلیند، سپین،پولیند اور برطانیہ میں تعیناات سفیروں کو اس کی پیروی کرنے کا حکم صادر کیا ..بے نظیر اور ان کے خاوند آصف علی زرداری پر منی لانڈرنگ کے الزامات لگے اور یہ ثابت ہواکہ آصف علی زداری نے سوئس بینک کے ذریعے قومی خزانے کے پیسے کو بیرون ملک اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کیا، ان تمام الزامات کی بنا پر 8 سال جید میں قید رہے جہاں وہ خود پرتشدد کیے جانے کا دعوی کرتے رہے .2004ء میں 8سال قید رہنے کے بعد آصف علی زرداری کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا.

1998ء میں نیویارک ٹائمزنے ایک انویسٹیگیشن رپورٹ شائع کی جس کے مطابق ایک ایسے گروہ کا سراغ لگایا گیا اس گروہ کا تعلق آصف علی زدراری سےتھا اوراس گروہ کا زرداری کے فیملی لائرز سے تعلق رکھتا تھا. فرینچ اتھارٹیزکے دستاویزات سے یہ ظاہر ہوا کہ زرداری جو کہ اس وقت کی وزیراعظم کے خاوند تھے، فرینچ ائیر کرافٹ مینوفیکچرر کمپنیی”Dassault” کو خصوصی اختیارات دیے کہ وہ 5 فیصد کمیشن کے بدلےفائٹر جیٹ طیارے دیے اور یہ کمیشن سوئس بینک اکاؤنٹس میں جمع کرایا جائے گا.
اس آرٹیکل کے مطابق زرداری نے 10ملین ڈالرسٹی بینک دبئی کے ذریعے حاصل کیے جو کہ ایک خاص لائسنس کے ذریعے حاصل ہوئی جس میں اس کمپنی کو پاکستان میں سونا امپورٹ کرنے کی اجازت دی گئی.بعد میں اگرچہ اس کمپنی کے مالک نے ان الزامات سے انکار کیا.
نون لیک حکومت میں پیپلزپارٹی کے خلاف شدید دشمنی رہی بظاہردونوں ایک دوسرے کے دشمن تھے اور اسی سیاسی مخالفت اور دشمنی پر عوام سے ووٹ لیتے آئے ہیں اور ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگاتےرہے.
پھرمشرف حکومت کے بعد زداری کی حکومت آئی.حکومت کو اس وقت بے سیاسی حمایت کی ضرورت تھی.اسی وجہ سے دونوں پارٹیوں کو’ این آر او” دیا جس کا مطلب تھا کہ ان پر لگے کرپشن چارجز معاف ہونگے اور قوم کا لوٹآ ہوا مال اب ان کےلے جائز ہو گا.زداری کی حکومت آئی تو انہوں نے جمہوریت کو سب سے بڑا انتقام کہہ کر نون لیگ اور نوازشریف سے سمجھوتا کر لیا نون لیگ اس وقت اپوزیشن میں تھی اور میاں شہباز شریف کہتے تھے کہ زرداری کا پیٹ پھاڑ کر کرپشن کا پیسہ نکالوںگا اور سڑکوں پر گھسیٹؤں گا، پھر نون لیگ کی حکومت آئی، نہ ہی سوئس بنکوں میں پڑے پیسے واپس آئے اور نہ ہی پیٹ پھاڑکر سڑکوں پر گھسیٹا گیا.اب دونوں لیڈر اور پارٹیوں کے اہم رہنما کرپشن چارجز میں نیب کو مطلوب ہیں جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ہیں اور دونوں جمہوریت بچانے اور آئین کی بالا دستی کے دل فریب نعرے لگا کراداروں اور حکومت کو تنقیدکا نشانہ بنا رہے ہیں.عوام پھران کی حمایت کے لیے نکلتی ہے یہ بات کافی اہم ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.