fbpx

سانحہ اے پی ایس، سپریم کورٹ میں نواز شریف کو بلانے کا مشورہ دیا جائے،وزیراعظم کو بریفنگ

سانحہ اے پی ایس، سپریم کورٹ میں نواز شریف کو بلانے کا مشورہ دیا جائے،وزیراعظم کو بریفنگ
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں اجلاس ہوا .اجلاس میں اٹارنی جنرل، مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان، پرویز خٹک اوراسد عمر نے شرکت کی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کو قانونی پہلووں پر بریفنگ دی گئی،اجلاس میں قانونی ماہرین نے رائے دیتے ہوئے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے وقت نواز شریف وزیراعظم تھے،نوازشریف کو بلانے کا سپریم کورٹ کو مشورہ دیا جائے،

قبل ازیں سپریم کورٹ کی جانب سے طلبی کے بعد وزیراعظم عمران خان سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں،عمران خان خصوصی پروٹوکول کے ساتھ ججز گیٹ سے داخل ہوئے، وزیراعظم چیف جسٹس آف پاکستان کی عدالت میں پہنچے اور روسٹرم پر آ گئے،وزیراعظم عمران خان سے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے سوالات کئے،وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ جو سوال پوچھے گی جواب دوں گا. عدالت نے استفسار کیا کہ جی بتائیں خان صاحب، اب تک کیا کارروائی ہوئی؟ آپ سانحہ اے پی ایس کے حوالے سے کیا کر رہے ہیں؟ وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ 2014 میں جب سانحہ ہوا خیبرپختونخوا میں ہماری حکومت تھی، سانحہ کی رات ہم نے اپنی پارٹی کا اجلاس بلایا تھا، سانحہ آرمی پبلک اسکول بہت دردناک تھا،جو ممکنہ اقدامات ہو سکتے تھے ہم نے کیا،میں اسوقت وفاق میں حکومت میں نہیں تھا، جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں آپکے پالیسی فیصلوں سے کوئی سروکار نہیں ،جسٹس قاضی امین نے کہا کہ آپ وزیراعظم ہیں بتائیں کس کس کو پکڑا، ماضی کی باتیں چھوڑ دیں،وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جسٹس صاحب مجھے ساری بات سمجھانے دیں،اخلاقی ذمہ داری پر کیسے کسی کے خلاف ایف آئی آر کرواؤں، جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ یہ ساری باتیں ہمیں معلوم ہیں، چیف جسٹس

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ والدین چاہتے ہیں کہ اس وقت کے حکام کے خلاف کاروائی ہو،وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عوام دہشتگردی کے خلاف فوج کی پشت پر کھڑی تھی،ہماری جماعت نے پشاور میں لواحقین سے ملاقات کی تھی،عدالت مجھے بولنے کا موقع دے،وقت دیں ساری تفصیل بیان کرتا ہوں، دوران سماعت چیف جسٹس گلزاراحمد نے آئین کی کتاب اٹھالی اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ آئین کی کتاب ہے اور ہر شہری کو سکیورٹی کی ضمانت دیتی ہے،وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مشرف دور میں مخالفت کی تھی کہ امریکی جنگ میں نہیں کودنا چاہیئے، ہم نے 80 ہزار جانوں کی قربانیاں دی ہیں، اے پی ایس سانحہ کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا، عوام شدید صدمہ میں تھی،عوام دہشتگردی کیخلاف جنگ میں فوج کے پشت پر کھڑی تھی،ججز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے وزیراعظم ہیں، ہمارے لیے قابل احترام ہیں .چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں اتنا بڑا انٹیلی جنس سسٹم ہے، ہمیں آپ کے پالیسی فیصلوں سے کوئی سروکار نہیں، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک میں کوئی مقدس گائےنہیں ہے، میں قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتا ہوں ، آپ حکم کریں، ہم ایکشن لیں گے، عدالت نے کہا کہ آپ ملک کے سربراہ ہیں آپ کے آنے سے سپریم کورٹ کی عزت میں اضافہ ہوا ہے ہم اس پر آپ کے مشکور ہیں ،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 147 بچے مر گئے کوئی دیکھنے والا نہیں، ملک میں قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو کیا کیا جاتا ہے؟ جو واقعہ ہوا وہ کہیں بھی ہوسکتا تھا آئندہ اسے روکنے کے لیے کیا گیا؟جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ واقعے کے اندر دہشتگردوں کے ساتھ معاونت کرنے والے بھی زمہ دار ہیں،

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سات سال سے کسی بڑے کیخلاف کاروائی نہیں ہوئی،اب آپ بااختیار وزیر اعظم ہیں، جسٹس قاضی امین نے کہا کہ مظلوم کا ساتھ تو یہی ہے کہ ظالم کے خلاف کارروائی ہو،کیا ہم پھر مزاکرات کر کے سرنڈر کر رہے ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق پھر سے مزاکرات ہورہے ہیں،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہداء کے والدین کو سننے والا کوئی نہیں ہے، سپاہی سے پہلے زمہ دارن ٹاپ افسران تھے،

سپریم کورٹ نے حکومت کو معاملے پر مثبت اقدامات کی ہدایت کردی ،سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ اس سارے عمل میں شہید بچوں کے والدین کو بھی ساتھ ملایا جائے رپورٹ 4 ہفتے میں سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے آج کے حکمنامے میں گزشتہ سماعت کا حکم نامہ دوبارہ شامل کیاجائے،وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت انصاف کےلیے تمام اقدامات بروئے کار لائیں گی،سپریم کو رٹ نے وفاقی حکومت کو متاثرین کی شکایات پر اقدامات کرنے کا حکم دے دیا سانحہ آرمی پبلک اسکول از خود نوٹس کیس کی سماعت 4 ہفتے کے لیے ملتوی کر دی گئی وزیراعظم عمران خان سپریم کورٹ سے واپس روانہ ہوگئے

قبل ازیں وزیراعظم عمران خان سے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کی ملاقات ہوئی ہے ،اٹارنی جنرل نے اے پی ایس ازخود نوٹس کیس سے متعلق وزیراعظم کو بریفنگ دی، وزیراعظم عمران خان نے اٹارنی جنرل سے ملاقات کے بعد فیصلہ کیا کہ وہ سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے، وزیراعظم عمران خان کی پیشی کے پیش نظر سپریم کورٹ کی سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے وزیراعظم ہاؤس سے سپریم کورٹ تک روٹ بھی لگایا گیا تھا ،وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے، شیخ رشید کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے وزیراعظم کو آج طلب کیا کوئی خطرے کی بات نہیں ،وزیراعظم 5سال پورے کریں گے ، کوئی گیم شروع نہیں ہورہی ،گیم صرف عمران خان کی ہے سپریم کورٹ کے فیصلے وزیراعظم پر بھی لاگو ہیں،

وفاقی وزیر فواد چودھری ،وفاقی وزیر مراد سعید اور ایم این اے علی نواز اعوان بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمان اور سینیٹر اعظم نذیر تارڑ بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے ہیں۔

قبل ازیں سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک اسکول کے متعلق ازخود نوٹس میں وزیراعظم عمران خان کو آج ہی طلب کرلیا ہے۔باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق آج سانحہ آرمی پبلک اسکول کے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت شروع ہوئی سماعت چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی-

سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس پاکستان نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ بتائیں کیا وزیراعظم نے گزشتہ سماعت کا عدالتی حکم پڑھا ہے یا نہیں ؟اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزیراعظم کو عدالتی حکم نہیں بھیجا تھا وزیراعظم کو عدالتی حکم سے آگاہ کروں گا۔چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب یہ سنجیدگی کا عالم ہے؟ وزیراعظم کو بلائیں ان سے خود بات کریں گےایسے نہیں چلے گا اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم اپنی تمام غلطیاں قبول کرتے ہیں اعلیٰ حکام کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہو سکتی میں دفتر چھوڑ دوں گا کسی کا دفاع نہیں کروں گا۔

سپریم کورٹ نے وزیرِ اعظم عمران خان کو آج ہی طلب کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے سوال کیا کہ کیا سابق آرمی چیف اور دیگر ذمے داران کےخلاف مقدمہ درج ہوا؟اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ سابق آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف انکوائری رپورٹ میں کوئی فائنڈنگ نہیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ملک میں اتنا بڑا انٹیلی جنس سسٹم ہے، اربوں روپے انٹیلی جنس پر خرچ ہوتے ہیں، دعویٰ بھی ہے کہ ہم دنیا کی بہترین انٹیلی جنس ایجنسی ہیں چیف جسٹس نے سوالیہ انداز میں پوچھا کہ اپنے لوگوں کے تحفظ کی بات آئے تو انٹیلی جنس کہاں چلی جاتی ہے؟جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ اے پی ایس واقعہ سیکیورٹی کی ناکامی تھی یہ ممکن نہیں کہ دہشت گردوں کو اندر سے سپورٹ نہ ملی ہو۔ سپریم کورٹ میں دوران سماعت ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا بھی تذکرہ ہوا،جسٹس قاضی امین نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ ریاست کسی گروہ سے مذاکرات کررہی ہے، کیا اصل ملزمان تک پہنچنا اور پکڑنا ریاست کا کام نہیں؟

چیف جسٹس نے کہا کہ بچوں کو سکولوں میں مرنے کیلئے نہیں چھوڑ سکتے، چوکیدار اور سپاہیوں کے خلاف کارروائی کر دی گئی اصل میں تو کارروائی اوپر سے شروع ہونی چاہیے تھی اوپر والے تنخواہیں اور مراعات لے کرچلتے بنے کیس میں رہ جانے والے معاملات پر آپ نے آگاہ کرنا تھا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ دہشتگردوں کو اندر سے سپورٹ نہ ملی ہو،وکیل امان اللہ کنزانی نے کہا کہ حکومت ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، قصاص کا حق والدین کا ہے ریاست کا نہیں، ریاست سمجھوتہ نہیں کرسکتی، جس پر عدالت نے کہا کہ یہ سیاسی باتیں یہاں نہ کریں ،یہ عدالت ہے،اے پی ایس واقعہ سیکیورٹی کی ناکامی تھی،

واضح رہے کہ رواں ماہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحۂ پشاور آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) ازخود نوٹس سماعت کے لیے مقرر کیا تھا-

مبارک ہو، راہیں جدا ہو گئیں مگر کس کی؟ شیخ رشید بول پڑے

ن لیگ دیکھتی رہ گئی، یوسف رضا گیلانی کو بڑا عہدہ مل گیا

گیلانی کے ایک ہی چھکے نے ن لیگ کی چیخیں نکلوا دیں

بلاول میرا بھائی کہنے کے باوجود مریم بلاول سے ناراض ہو گئیں،وجہ کیا؟

مفاہمت یا یوٹرن، شہباز شریف کو عدالت کے بعد حکومت نے بھی ریلیف دے دیا

جج صاحب،ہم نے قوم کی خدمت کی شہباز شریف ،عدالت نے پھر کیا پوچھ لیا؟

نون لیگی رہنما رانا ثناء اللہ کے خلاف ایک بار پھر گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ

سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی جانب سے شہدا کے والدین کی درخواست سال 2018 میں کمیشن قائم کیا گیا تھا، کمیشن کی سربراہی پشاور ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد ابراہیم خان کررہے تھے۔

16 دسمبر 2014 کو پشاور آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردوں نے خون کی ہولی کھیلی تھی، دہشت گردوں نے سکول پر حملہ کیا اورعلم کے پروانوں کے بے گناہ لہو سے وحشت و بربریت کی نئی تاریخ رقم کی تھی۔

شاہ محمود قریشی سانحہ اے پی ایس کی ذمہ دار ٹی ٹی پی قیادت سے قطر میں ملتے رہے، شرجیل میمن

سانحہ اے پی ایس،سپریم کورٹ کا انکوائری کمیشن رپورٹ بارے بڑا حکم

سانحہ اے پی ایس، آرمی چیف میدان میں آ گئے، قوم کو اہم پیغام دے دیا

سانحہ اے پی ایس، وزیراعلیٰ پنجاب نے دیا اہم ترین پیغام

سانحہ آرمی پبلک سکول: 3 ہزار صفحات پر مشتمل انکوائری کمیشن کی رپورٹ سپریم کورٹ کے سپرد

حکومت جواب دے ،پشاوردھماکے میں کون ملوث ہے،سراج الحق

آرمی پبلک اسکول میں ہونے والے دردناک سانحے اور دہشت گردی کے سفاک حملے میں 147 افراد شہید ہوگئے تھے، جن میں زیادہ تعداد معصوم بچوں کی تھی۔پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر طالبان کے حملے کے بعد پاکستان میں سزائے موت کے قیدیوں کی سزا پر عمل درآمد پر سات سال سے عائد غیراعلانیہ پابندی ختم کر دی گئی تھی، جس کے بعد آرمی پبلک اسکول حملے میں ملوث کچھ مجرمان کی سزائے موت پر عملدرآمد کیا جاچکا ہے

شہباز شریف مشکل میں، پیش ہوں ورنہ گرفتار کریں گے، نیب کے بعد ایک اور ادارے نے طلب کر لیا

ندیم بابر کو ہٹانا نہیں بلکہ عمران خان کے ساتھ جیل میں ڈالنا چاہئے، مریم اورنگزیب

ن لیگ بڑی سیاسی جماعت لیکن بچوں کے حوالہ، دھینگا مشتی چھوڑیں اور آگے بڑھیں، وفاقی وزیر کا مشورہ

اک زرداری سب پر بھاری،آج واقعی ایک بار پھر ثابت ہو گیا

اے پی ایس پشاورپرحملے میں ملوث 4 دہشتگردوں کو2 دسمبر2015 کوتختہ دارپرلٹکایا گیا،آرمی پبلک اسکول پشاورحملے کے چاروں دہشت گردوں کو کوہاٹ جیل میں پھانسی دی گئی،دہشت گردوں میں عبدالسلام، حضرت علی،مجیب الرحمان اورسبیل عرف یحییٰ شامل تھے،اے پی ایس حملے میں ملوث چاروں دہشت گردوں کوملٹری کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی،دہشت گردتاج محمد مسلح افواج پرحملوں اورخودکش بمباروں کوپناہ دینےمیں ملوث تھا،دہشت گردتاج محمد کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا سرگرم رکن تھا،دہشت گرد تاج محمد آرمی پبلک اسکول پشاور پرحملے میں استعمال ہوا

خٹک صاحب مجھے پتہ نہیں تھا کہ آپ یہ …………….کام بھی کرتے ہیں، خواجہ آصف

ہمیں قانون نہ سکھایا جائے،صبر کریں، اب تماشا نہیں چلے گا،پرویز خٹک کا اسمبلی میں دبنگ اعلان

علی امین گنڈا پور کا مولانا کو الیکشن لڑنے کا چیلنج اسمبلی میں کس نے قبول کیا؟

حلف پاکستان کا اور نوکری کسی اور کی، ایسے نہیں چلے گا،مراد سعید

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!