fbpx

نیا سال اور پھر سیاستدانوں کے نئے عزائم، تجزیہ: شہزاد قریشی

نئی عیسوی سال 2023ء کا آغاز ہو چکا ہے ۔ اہل مغرب خاص طور پر اس موقع پر دو کام کرتے ہیں ایک دوسرے کو مبارکباد اور نئے سال کے لئے عزائم، عرب ممالک میں بھی تبدیلی شروع ہو چکی بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں سعودی عرب مشرقی اور مغرب کے درمیان ایک دوسرے سے جڑا ہوا مرکز بن چکا ہے دوسری طرف قطر نے یورپی دنیا میں عربوں کی پوزیشن کو مستحکم کیا ہے۔ چین کے صدر نے بھی سعودی عرب کا دورہ کیا۔ اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ بن سلیمان کی پالیسیوں کی وجہ سے سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ امن اور استحکام کا مرکز بن چکا ہے۔ ہم نے نئے سال کا جشن تو منایا مگر تادم تحریر ہمارے سیاسی رہنمائوں نے ایک دوسرے کو غدار، چور، ڈاکو، کرپٹ، نااہل، بدکار، ثابت کرنے میں وقت ضائع کر دیا۔ ملک و قوم دونوں کو لاغر کر دیا۔ ملک و قوم کو بے بس، لاچار، بے چارہ دوسروں کے رحم و کرم پر پہنچا دیا۔ خون خرابہ، دہشت گردی، تمام صوبوں میں ایک ہنگامہ برپا ہے۔ پاک فوج اور پولیس اپنے شہید ہونیوالے جوانوں کی لاشیں اٹھا رہے ہیں حکمران اور اپوزیشن والے بتائیں اب نئے سال کے کیا عزائم ہیں؟ کس سیاستدان کس جماعت کو عبرت کا نشان بنانا ہے؟ امریکہ سمیت کس مغربی ممالک کو گالیاں دے کر اپنی سیاست کو زندہ رکھنا ہے۔ کس کو بھارتی ایجنٹ اسرائیلی ایجنٹ قرار دینا ہے۔ کارکردگی کا عالم تو یہ ہے ملک میں نہ گیس ہے نہ بجلی۔ دنیا ترقی کے منازل طے کر رہی ہے ایک دوسرے پر ایک دوسرے پر آئی ایم ایف سے قرض لینے کا الزام لگانے والے سیاستدانوں کو اور فیصلہ ساز اداروں کو یاد نہیں کہ جس سیاستدان نوازشریف نے آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے اپنے ایک دور حکومت میں جس میں موجودہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار تھے پالیسی بنائی تھی اس کو غدار، کرپٹ ترین، مودی کا یار، ملک دشمن قرار نہیں دیا؟ ایک دور میں نوازشریف نے آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے صوابدیدی فنڈ سے دستبرداری کا اعلان نہیں کیا تھا؟ کیا حکومتی برآمدات بڑھانے ، درآمدات جو کہ غیر ضروری ہیں ان کو کنٹرول کرے؟ ملک اپنے وسائل پرانحصار کرے۔ اگر 1990ء کے دور حکومت میں نوازشریف کی معاشی اصلاحات پر کام جاری رہتا تو آج ہم کب کا کشکول توڑ چکے ہوتے۔ بدقسمتی سے ہماری کسی حکومت کو مدت پوری کرنے نہیں دی گئی جس کا خمیازہ ملک اور قوم دونوں بھگت رہے ہیں۔ پاکستان کو معاشی اصلاحات دینے والا نوازشریف آج بھی اپنے ایک بھائی اور مسلم لیگی ورکر شہبازشریف کے دورحکومت میں جلاوطن ہی ہے۔

(تجزیہ شہزاد قریشی)